اسلام آباد(لیڈی رپورٹر)اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے وفاقی دارالحکومت میں غیرقانونی ہائوسنگ سوسائٹیز کے خلاف سی ڈی اے رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ سی ڈی اے اور رجسٹرار کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی دوبارہ رپورٹ پیش کریں۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات عدالت میں پیش ہوئے ، چیف جسٹس نے استفسارکیاکہ ممبر پلاننگ سی ڈی اے کدھر ہیں جس پر سی ڈی اے نمائندہ نے بتایاکہ وہ پہنچ رہے ہیں، ممبر پلاننگ کے نہ پہنچنے پر عدالت نے سی ڈی اے نمائندہ پر شدید اظہار برہمی کا اظہارکرتے ہوئے رجسٹرارکو آپریٹوسوسائٹیز سے استفسار کیاکہ کس اتھارٹی کے تحت حکومت کے ڈیپارٹمنٹس کے نام استعمال ہو رہے جس پر رجسٹرار نے کہاکہ10سال سے کوئی ہائوسنگ سوسائٹی رجسٹرڈ نہیں ہوئی جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیز رول آف لاء کی بہت بڑی ناکامی ہے ،غیر قانونی سوسائٹیز میں سی ڈی اے سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے ،کیا وزارت داخلہ کی ہائوسنگ سوسائٹی مفادات کا ٹکراؤ نہیں، ڈیپارٹمنٹس، ادارے دوسروں کیلئے غلط مثال قائم کر رہے ہیں۔ہائیکورٹ نے سی ڈی اے افسران کی تنزلی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت افسران کی تنزلی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا۔ جسٹس محسن اخترکیانی نے استفسارکیاکہ کیا سی ڈی اے افسران کو نوٹس جاری کرکے صفائی کا موقع دیا گیا جس پر سی ڈی اے حکام کی طرف سے بتایاگیاکہ فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کی گئی ، وقت دیا جائے ۔ جسٹس محسن اخترکیانی نے کہاکہ10روز ہوگئے ،صرف ایک سوال پوچھا،پٹیشن کا فیصلہ ہونے تک افسران کی تنزلی کا نوٹیفکیشن معطل رہیگا ۔ہائیکورٹ نے دسویں قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل کیخلاف خرم دستگیر کی درخواست پر سماعت سماعت ملتوی کردی۔ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے چڑیا گھر میں قید ہاتھی "کاون" کو رہا کرنے کا حکم دیدیا۔گذشتہ روز جاری67صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ میں عدالت نے کہاکہ سہولیات کے بغیر چڑیا گھر میں جانوروں کو قید رکھنا غیر مناسب اور غیرقانونی ہے ،حکومت چیئرمین وائلڈ لائف مینجمنٹ کی سربراہی میں بورڈ تشکیل دے ،بورڈ6دن جانوروں کو پناہ گاہوں میں منتقل کرنے کے انتظامات کرے اورمرغزار چڑیا گھر کا انتظام سنبھالے ۔چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے سنگین جرائم کی تفتیش میں مشکلات اور ٹرائل میں تاخیرکیس میں آئی جی اسلام آباد پولیس کو رپورٹ رجسٹرار آفس میں جمع کرانیکی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔دریں اثناء اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے سنگین جرائم کی تفتیش میں مشکلات اور ٹرائل میں تاخیر سے متعلق کیس میں آئی جی اسلام آباد پولیس کو رپورٹ رجسٹرار آفس میں جمع کرانے کی ہدایت کی۔کیس کی سماعت آئندہ ماہ تک ملتوی کردی گئی ہے ۔