نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی کا کہنا ہے:پاکستان میں مقیم غیر قانونی طور پر رہنے والے افراد کو نکالنے کا فیصلہ مناسب ہے، غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو ملک چھوڑنے کا وقت دے دیا ہے۔اس وقت ملک بھر میں لاکھوں افغانی غیر قانونی طور پر مقیم ہیں ،جو ویزہ حاصل کرتے ہیںنہ ہی قانونی دستاویزات ۔ایسے افراد کا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس کوئی ڈیٹا نہیں ہے ۔وہ کسی تخریب کاری میں شامل ہوتے ہیں یا کسی کو نقصان پہنچاتے ہیںتو ان کا ریکارڈ نہیں ہوتا ۔ایسے افراد کے خلاف کریک ڈائون بہت ضروری ہے ۔بلکہ اگر کسی شہر اور گائوں میں ایسے افراد موجود ہوں تو پاکستانی شہریوں کو ان کی نشاندہی کرنی چاہیے تاکہ ایسے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے ۔چند روز قبل کراچی شہرکے مختلف علاقوں سے گرفتار 300 سے زائد افغان مہاجرین مختلف عدالتوں میں پیش کیے گئے ،جن میں سے سٹی کورٹ میں قائم عدالتوں نے سو سے زائد غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو جیل بھیج دیا۔۔عدالت نے افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے 2 سو سے زائد افغان باشندوں کو رہا کرنے کا حکم دیا۔ افغان سٹیزن کارڈ رکھنے کے بعد انھیں پاکستا ن میں قیام کے لیے ضروری دستاویزات بھی رکھنی چاہیئں ۔ قومی سلامتی، معاشی خرابی اور گوناگوں مسائل کی وجہ سے غیر قانونی مقیم افراد کے خلاف بھر پور ایکشن لینا چاہیے ۔