اسلام آباد،لاہور (وقائع نگار خصوصی،مانیٹرنگ ڈیسک)سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب نے پولنگ ایجنٹس کو فارم 45 دیئے بغیر باہر نکالنے کے الزامات کو مسترد کردیا۔ انہوںنے کہا ہے کہ اگر کسی کے پاس نتائج روکنے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو پیش کریں، ہمیں بتایا جائے کہاں کہاں پولنگ ایجنٹس کو باہر نکالا گیا ۔ بابر یعقوب کا کہنا تھا کہ کسی نے پریس کانفرنس کی کہ پنڈی اور لاہور میں رزلٹ نہیں دیا جا رہا لیکن یہ بات درست نہیں، میں نے لاہور اور راولپنڈی کے ڈی آر اوز سے بات کی اور ری چیک کیا ،فیصل آباد کے ڈی آر او سے بھی رابطہ کیا گیا مگر ایسی کوئی بات نظر نہیں آئی۔قبل ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بابریعقوب نے کہا کہ پوری قوم کوکامیاب الیکشن کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتا ہوں،ملک اس وقت آگے چلے گا جب جمہوریت ہو گی، کوئٹہ میں ہونے والے سانحے کا دکھ اورافسوس ہے ۔ انتخابات کے دن سے 14 دن کے اندر اندر امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جا ئیگا جبکہ امیدواروں کو 10 رو زکے اندر انتخابات میں اپنے اخراجات کی تفصیلات جمع کرانا ہو نگی۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو جہاں ووٹ سے روکا گیا وہاں کا الیکشن کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے نوٹیفکیشن سے پہلے چیک کیا جا ئیگا کہ خواتین کے 10فیصد ووٹ ڈالے گئے یا نہیں۔ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے 3 روز کے اندر آزاد امیدوار کسی بھی پارٹی میں شمولیت کر سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان پر ووٹ دکھانے کا جرم ثابت ہوا تو انہیں سزا بھی ہو سکتی ہے الیکشن بروقت کرانے میں میڈیا نے بہت سپورٹ کیا ہے ۔ادھر الیکشن کمشنر پنجاب ظفر اقبال نے کہا ہے کہ ایک پولنگ سٹیشن پر جتنے بھی بوتھ ہوں، گنتی کے وقت پولنگ سٹیشن پر ہر امیدوار کا صرف ایک، ایک نمائندہ رکھا جاتا ہے ۔