لاہور (محمد فاروق جوہری) مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ کے حوالے سے پیپلزپارٹی نئی مصیبت میں پھنس گئی ہے ۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن کی طرف سے سندھ سے مارچ کی قیادت کرنے کی صورت میں پیپلزپارٹی کو پریشانی کا سامنا ہوگا کیونکہ اگر وزارت داخلہ کی طرف سے جلو س کو روکنے کا حکم آتا ہے تو روکنے سے پیپلزپارٹی اور فضل الرحمٰن میں ناراضگی اور نہ روکنے کی صورت میں کسی بھی بڑے حادثے یا کسی اور واقعہ کی ذمہ داری سندھ حکومت پر آسکتی ہے ۔ پیپلزپارٹی کے اہم رہنمائوں نے بیک ڈور رابطوں کے ذریعے کوششیں شروع کر دی ہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن آزادی مارچ کی قیادت پنجاب یا خیبرپختونخوا سے کریں تا کہ سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی کسی بھی معاملہ میں نہ آئے ۔ پیپلزپارٹی سندھ سے تعلق رکھنے والے کئی اہم رہنمائوں نے باقاعدہ پیپلزپارٹی کے ذمہ داران سے کہا ہے کہ فضل الرحمٰن کے مارچ سے تحریک انصاف کی حکومت کیساتھ ساتھ ہمارا بھی اتنا ہی نقصان ہو گا۔ اگر مارچ کامیاب ہو جاتا ہے تو حکومت صرف وفاق سے ختم نہیں ہو گی بلکہ چاروں صوبوں سے حکومتیں بھی ختم ہو نگی اور اس وقت نیب میں جو صورتحال چل رہی ہے اور آنیوالے دنوں میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں اوراگر حکومت ختم ہو گئی تو پھر گرفتاریوں کی لمبی لائن لگ سکتی ہے ۔ پیپلزپارٹی کے کئی اہم رہنمامولانا تک یہ پیغام پہنچا رہے ہیں کہ وہ مرکزی جلوس کی قیادت پنجاب یا کے پی کے سے کریں تا کہ اگر کچھ ہو تو انہی حکومتوں پر پڑے ۔ فضل الرحمٰن کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا سندھ سے ہی جلوس کی قیادت کرنے کے خواہش مند ہیں ،وہ سمجھتے ہیں کہ سندھ حکومت انکے راستے میں روڑے نہیں اٹکائے گی اور اگر یہاں سے کوئی بڑا جلوس لیکر نکلتے ہیں تو آگے اچھا رسپانس مل سکتا ہے جبکہ کے پی کے اورپنجاب کے اندر متوقع گرفتاریوں کے باعث شاید بڑا مجمع کسی ایک جگہ اکٹھا نہ ہو اور بڑے جلوس کی قیادت یہاں سے ممکن نہ ہو سکے ۔