اسلام آباد(سہیل اقبال بھٹی) شعبہ توانائی کے ریگولیٹر اوگرا کی جانب سے فضا میں ضائع ہونیوالی فلیئر گیس کا تجارتی مقاصد کیلئے استعمال روک کر قومی خزانے کو 40ارب روپے سے زائد نقصان پہنچانے کا انکشاف ہو اہے ۔ ملک بھر کی مختلف فیلڈز سے خام تیل کی پیداوار 100 ملین کیوبک فٹ یومیہ گیس بھی نکل رہی ہے مگر یہ پائپ لائن میں شامل نہیں کی جاسکتی۔ اوگرا افسروں کی ہٹ دھرمی کے باعث گزشتہ 4سالوں سے فلیئر گیس کے استعمال کیلئے 18لائسنس زیر التوا ہیں۔ اوگرا افسران نے اس گیس کے استعمال کو روکنے کیلئے اپنے ہی قواعد وضوابط کی دھجیاں بکھیردی ہیں۔ درآمدی گیس کی راہ میں سہولت جبکہ ملکی گیس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف فیڈرل پبلک سروس کمیشن اور نیب کی جانب سے کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے ۔قومی خزانے اور عوام کو سالانہ بھاری نقصان پہنچنے کے باعث ممبر گیس اوگرا نے قائم مقام چیئرمین کو تحریری طور پر آگاہ کرتے ہوئے قومی نقصان کا جلد ازجلد ازالہ کرنے کی سفارش کردی ہے ۔اوگرا کے بعض افسران کا یہ اقدام مس کنڈکٹ اور مبینہ طور پر قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے زمرے میں آتا ہے جس پر نیب انکوائری کرنے کا مجاز ہے ۔92نیوزکوموصول دستاویز کے مطابق ممبر گیس اوگرا محمد عارف کی جانب سے قائم مقام چئیرمین اوگرا کو لکھے گئے خط کی کاپی کے مطابق تما م تر کوششوں کے باوجود اوگرا کے عہدے داران کی جانب سے فلیئر گیس کے لائسنس کے اجرا میں ابہام کا معاملہ بیماری کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔ اوگرا کی جانب سے وقت پر لائسنس کے اجرا کی صورت میں سالانہ 10کروڑ90لاکھ ڈالر کی بچت کی جا سکتی تھی۔اوگرا میں ایک سال کے قیام کے دوران میں نے عہدے داران کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کا جائزہ لیا اور میرا یہ موقف ہے کہ اس وقت تک سی این جی سمیت فلیئر گیس کے استعمال میں کوئی ممانعت نہیں ہے جب تک فلیئر گیس پائپ لائن خصوصیات پر پورا اترتی ہو۔کمپریشن سسٹم سی آئی ای اور ٹی پی آئی کی جانب سے تصدیق شدہ ہو۔ٹراواسی سسٹم سی آئی ای کی جانب سے تصدیق شدہ ہو۔سی این جی سٹیشن میں ردوبدل کے کام کی سی آئی ای کی جانب سے تصدیق،ٹی پی آئی کی جانب سے نگرانی اور اوگرا کی جانب سے منظوری دی گئی ہو۔اس معاملے پر اوگرا کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کے تحت اوگرا کی جانب سے ڈی جی گیس کو 13نومبر2020اور 10دسمبر2020کو خط ارسال کیے گئے ۔10دسمبر2020 کے خط کو چیئرمین سیکرٹریٹ کی جانب سے الگ سے جاری کیا گیا کہ جس میں اوگرا کے پرانے موقف کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔قائم مقام چیئرمین سے درخواست کی جاتی ہے کہ معاملے کو اپنے ہاتھ میں لے کر خط کا مناسب جواب دیا جائے تاکہ ادارے کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کو روکا جاسکے ۔ ذرائع کے مطابق تیل نکالنے والی کمپنیوں کے پاس پہلا آپشن اس گیس کو فضا میں جلانے کا ہے جبکہ دوسرا آپشن عالمی معیار کے ٹینکرز کے ذریعے اس گیس کی فروخت ہے ۔ دنیابھر میں فلیئر گیس کو ٹینکرز کے ذریعے مختلف صنعتوں میں استعمال کرکے معاشی پہیہ چلایا جارہا ہے جس سے حکومت کو سالانہ اربوں روپے ٹیکس، زرمبادلہ کی بچت اور روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ پٹرولیم ڈویژن کو فلیئرگیس پر اوگرا کی جانب سے دو خطوط لکھے گئے تاہم پٹرولیم ڈویژن نے ملکی وقومی مفاد میں بہترین فیصلہ کرنے کیلئے سمری تیار کی تو قائم مقام چیئرمین اوگرا اور ممبر فنانس اوگرا نورالحق کی جانب سے قواعد وضوابط کے برخلاف ڈی جی گیس کو خط لکھ دیا گیا۔ اس خط کے ذریعے فلیئرگیس کو سی این جی سیکٹر میں استعمال کرنے کی مخالفت کی گئی۔ فلیئر گیس