کابل،دوحہ(نیٹ نیوز ) افغانستان میں نمازجمعہ کے وقت مسجد میں دھماکہ سے امام مفتی نعمان سمیت 12افراد شہید ،17زخمی ہوگئے ۔ کابل کے علاقے شکر درہ کی مسجد حاجی بخشئی میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران دھماکہ کیا گیا ،طالبان نے دھماکہ کی مذمت کی ہے دوسری جانب قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہوگیا حس میں مذاکرات تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے ،فریقین کی ٹوئٹس میں امن عمل کو تیزی سے آگے بڑھانے کیلئے بات چیت کی تصدیق کی گئی ہے ۔افغانستان میں امریکی فوج کے دوسرے بڑے اڈے کی افغان حکام کو باضابطہ منتقلی عید کے بعد متوقع ہے ،امریکہ نے قندھار بیس سے فوج کا انخلا مکمل کر لیا ہے ۔ کابل میں امریکی سفارت خانے نے تنبیہ کی ہے کہ روایتی اور تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو عید الفطر کے بعد پرتشدد واقعات میں اضافہ نوٹ کیا جاتا ہے ،حکام نے کہا ہے کہ بڑے اجتماعات اور عوامی مقامات بالخصوص ہوٹل، سکیورٹی چیک پوائنٹس اور بڑے رہائشی کمپلیکس خطرناک مقامات ثابت ہو سکتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق دارالحکومت کابل کے علاقے شکر درہ کی مسجد حاجی بخشئی میں اس وقت زوردار دھماکا ہوا جب وہاں نماز جمعہ کی ادائیگی کی جارہی تھی دھماکے میں امام مسجد سمیت 12 نمازی شہید اور 17 زخمی ہوگئے ۔پولیس نے بم دھماکے میں امام مسجد مفتی نعمان کے شہید ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق بم مسجد میں ہی نصب کیا گیا تھا تاہم حتمی بات تفتیش کے مکمل ہونے پر ہی کی جاسکتی ہے ۔حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں 7 زخمیوں کی حالت نازک ہونے کے سبب ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے تاحال کسی شدت پسند گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے ۔