پھول خوشبو کے نشے ہی میں بکھر جاتے ہیں لوگ پہچان بناتے ہوئے مر جاتے ہیں اس مطلع کے بعد ایک اور مطلع کہ مطلع ابر آلود ہو جائے تو پھر رم جھم کی بات کریں گے مگر ان دونوں اشعار کو ذرا ذھن میں رکھیے گا: دشت کی پیاس بڑھانے کے لئے آئے تھے ابر بھی آگ لگانے کے لئے آئے تھے ان دونوں شعروں کو ملا کر ہمارے ایک کرم فرما نے ایک شعر نکالا۔ تب بات بہت بڑھی اور موصوف کو ثبوت فراہم کر دیے گئے مگر ہٹ دھرمی دیکھیے کہ وہ صاحب ہماری موجودگی میں ہی مشاعروں میں اخذ کیا گیا شعر پڑھتے رہے اور پھر ستم بالائے ستم یہ کہ میری طرف ضرور دیکھتے کہ کر لو جو کرنا ہے۔ اس تمہید کو یہیں چھوڑتے ہیں اور آپ کو بھارت لیے چلتے ہیں جہاں کچھ اس طرح کا مسئلہ درپیش ہے یہ ویڈیو ستم زدہ جواد شیخ نے لگائی ہے۔ اس ویڈیو میں بھارت کا ایک شاعر منوج منتشر ایک غزل سناتا ہے اور ایک شعر پر آ کر رک جاتا ہے اور وضاحت کرتا ہے کہ ایسا ایک شعر پاکستان کے ایک لڑکے جواد شیخ نے بھی کہا تھا پھر وہ خود ہی بتاتا ہے کہ میں نے پہلے کہا تھا یعنی چور کی داڑھی میں تنکا ہی نہیں پورا شہتیر چلیے۔ پہلے منتشر کی غزل کا پہلا شعر دیکھتے ہیں: یہ غلط بات ہے کہ لوگ یہاں رہتے ہیں میری بستی میں تو اب صرف مکاں رہتے ہیں مطلع کمزور اور لاغر تو ہے مگر پہلا مصرع ہی ساقط الوزن ہے۔ بحر سے خارج ہے مگر چھوڑیے اس شعر پر چلتے ہیں جس پر موصوف نے دیدہ دلیری سے کہا کہ پاکستان والے جہاں بھارت کا اور بہت کچھ چرا لیتے وہاں اس کا ایک شعر بھی یاد کر لیا گیا۔ واہ بھئی واہ چور مچائے شور اس پر اس مکار کی جعلی ہنسی بہت ہی شرمناک ہے۔ میں کبھی نہ لکھتا اگر پاکستان کا اس میں حوالہ نہ ہوتا اس بدبخت کا کلام اس قابل ہی نہیں کہ میرے جیسا شاعر اس پر بات کرے۔ جبکہ جواد شیخ ایک پیار ار طرحدار شاعر ہے میں دونوں کے اشعار لکھ دیتا ہوں اور فیصلہ آپ خود کر لیں یہ الگ بات ہے کہ ویڈیو کمنٹس میں بے شمار شعرا نے اس بے وقوف منوج کو ایسا منتشر کیا ہے کہ اسے اب ڈوب مرنا چاہیے بہرحال آپ پہلے شعر ملاحظہ کریں: یہ دیوانوں کا پتہ پوچھنا تو پوچھنا یوں جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں رہتے ہیں (منوج منتشر) اپنے سامان کو باندھے ہوئے یہ سوچتا ہوں جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں رہتے ہیں (جواد شیخ) موصوف نے صرف جواد شیخ پر ہی ہاتھ صاف نہیں کیا بلکہ سینئر شعرا کو بھی پلٹا دے رکھا ہے ایک مثال نیچے درج کیے دیتا ہوں۔ ثبوت ضروری تھا: ایک کے جلتے تھے بالکل شرارے جیسے تھے نئے نئے تھے تو ہم بھی تمہارے جیسے تھے (منوج منتشر) نئے دیوانوں کو دیکھیں تو خوشی ہوتی ہے ہم بھی ایسے ہی تھے جب آئے تھے ویرانوں میں (احمد مشتاق) اب بتائیے کہ منتشر نے مندرجہ بالا شعر بھی عالم بالا میں احمد مشتاق سے پہلے کہا ہو گا بات یوں ہے کہ چور چور ہی ہوتا ہے اور وہ ایک آدھ شعر کی چوری پراکتفا نہیں کرتا۔ سب پر ہاتھ مارتا جاتا ہے۔ یہ اپنے آپ کو دھوکہ دینے والی بات ہے۔ شاعری تو اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کا عمل ہے۔ دوسروں کا خیال اپنا بنانا بڑی گھٹیا سی بات ہے مجھے یاد ہے ایک بار پی ٹی وی میں علی اکبر عباس کے کمرے میں بیٹھے شعرا نظریہ فن پر بات کر رہے تھے تو ایک ایسے ہی شعر چرانے والے شاعر نے نظریہ فن پیش کیا کہ اگر کسی کے شعر کو پیوند کاری کر کے مضمون کو بڑھا دیا جائے تو یہ بھی ہنر ہے۔ علی اکبر عباس نے میری طرف دیکھا اور پوچھا میں نے بے ساختہ کہا اور میں ایسے فن پر لعنت بھیجتا ہوں کہ دوسروں کے اچھے شعروں کو اپنا بنانے میں لگے رہیں یہ وہی شاعر تھے جنہوں نے ہمارے دو شعروں سے نیا شعر دریافت کیا تھا۔ پہلی مرتبہ جس بڑے مشاعرہ میں ان موصوف نے شعر پڑھا تو میرے قریب بیٹھے افتخار عارف نے کہا بھئی سعداللہ شاہ کی خوشہ چینی ہو رہی ہے۔ میں اپنے شعر کی چوری بھول گیا اور مجھے افتخار عارف کی بات خوشی سے سرشار کر گئی کہ اچھے اشعار سب کے ذہن میں ہوتے ہیں اس وقت معروف شاعر شفیق احمد نے نیچے سے آواز لگائی لوگ اشعار چراتے ہوئے مر جاتے ہیں تب اس شاعر نے غزل بدل کر نئی غزل شروع کر دی۔بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ شاعری میں ہوتا آیا ہے کوئی پکڑا گیا تو اس نے اسے توارد کا نام دے گیا۔ مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ سارے توارد ایک چور شاعر پر ہی ہوتے ہیں سرقہ تو سرقہ ہے اس کے کئی انداز ہیں بعض آہنگ اڑا لیتے ہیں بعض شعر کو الٹا کر مفہوم پیدا کرلیتے ہیں اور بعض فارمولا وہی لگا لیتے ہیں۔ مجھے ایک مشاعرے کا دلچسپ واقعہ یاد آ گیا کہ میں نے مطلع نما مقطع پڑھا: اس نے پہلے سعد کہا تھا پھر سب اس کے بعد کہا تھا سامنے سے ڈاکٹر غافر شہزاد نے بہت ہی دلچسپ فرقہ اچھالا تو جی ایہہ تے چوری وی نہیں ہو سکتا۔ سب نے اس فقرے کا لطف لیا کہ قافیہ نے چوری کے امکانات ختم کر دیے تھے۔ ایک زبردست واقعہ جوش ملیح آبادی کا یاد آیا کہ کسی نے ان کا ایک شعر چوری کر لیا پوچھنے پر وہ شاعر کہنے لگا۔ سر میرا اور آپ کا خیال ٹکرا گیا ہے۔ جوش غصے میں بولے کمبخت کبھی جہاز اور سائیکل کی بھی ٹکر ہوئی ہے کبھی؟ آخر میں اپنے بزرگ دوست سحر انصاری کا ایک خوبصورت شعر: عجیب ہوتے ہیں آداب رخصت محفل کہ اٹھ کے وہ بھی چلا جس کا گھر نہ تھا کوئی