لاہور،اسلام آباد،لندن(سٹاف رپورٹر،خبر نگار خصوصی ،مانیٹرنگ ڈیسک، ایجنسیاں ) مسلم لیگ ن نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو ہٹانے کے بعد نوازشریف کو فوری رہا کرنیکا مطالبہ کر دیا ۔مسلم لیگ (ن) کے صدر وقائد حزب اختلاف محمدشہباز شریف نے کہا ہے کہ احتساب عدالت کے جج کو ہٹانے کے بعد نواز شریف کے خلاف فیصلہ کالعدم ہو چکا ہے ،اب نوازشریف کو فی الفور رہا کیا جائے ۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو جیل میں ایک منٹ بھی رکھنا اب غیر قانونی ہے ،سچائی ثابت ہونے پر اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں ،ویڈیو، اس سے جڑے تمام حقائق سچ ثابت ہوگئے ،نواز شریف کیخلاف دبا ئوکے تحت دئیے گئے فیصلے کالعدم قرار دیئے جائیں، نواز شریف کو جیل میں رکھنے کا جواز ختم ہو گیا۔مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’اﷲ کا شکر!، مگر معاملہ کسی جج کو معطل کیے جانے کا نہیں بلکہ اس فیصلے کو معطل کرنیکا ہے جو جج نے دیا۔انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں سوال کیا کہ ’جج کو فارغ کرنے کا واضح مطلب یہ ہے کہ معزز اعلیٰ عدلیہ نے حقائق کو تسلیم کرلیا، اگر ایسا ہی ہے تو وہ فیصلہ کیسے برقرار رکھا جارہا ہے جو جج نے دیا؟۔اگر فیصلہ دینے والے جج کو سزا سنا دی ہے تو بے گناہ نواز شریف کو کیوں رہائی نہیں دی جارہی ۔ انہوں نے اعلیٰ عدلیہ سے گزارش کی کہ فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے اور نواز شریف کو بغیر کسی تاخیر کے رہا کیا جائے ۔(ن) لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ تصدیق ہوگئی کہ جج سے متعلق ویڈیو اصلی ہے ،۔ حسین نواز نے کہا ہے کہ ایسے ناقابل تردید شواہد منظر عام پر آنے کے بعد کیا کسی شخص کو قید میں رکھنے کا کوئی جواز ہے ؟۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج ثابت ہوگیا کہ عدالتوں پر حکومت اثرانداز ہورہی ہے ، یہ تو ایک جج پکڑا گیا ہے کیا پتہ ہر جج بلیک میل ہو رہا ہو۔جج ارشد ملک کی برطرفی سے ثابت ہوگیا کہ عدلیہ پر عمران خان نے دباؤ ڈالا اور جج کو بلیک میل کیا۔دریں اثنا نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے حسین نواز نے جج ارشد ملک کے الزامات رد کردئیے ،حسین نوازنے کہاکہ جج ارشد ملک کو رشوت آفر کی نہ دھمکی دی،معاملہ عدالت میں ہے اس لیے تفصیل سے بات نہیں کرنا چاہتا۔