آج 14 اگست کا دن ہے۔ پوری قوم آزادی کی خوشیاں منا رہی ہے۔ اس قومی مسرت کے دن پر ہماری قوم کے کچھ حصے ایسے بھی ہیں جو بہت اداس اور بیحد غمگین ہیں۔ وہ لوگ بھی اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مل کر قومی عید منانا چاہتے ہیں مگر وہ مجبور ہیں۔ اس قومی دن کی خوشیوں میں ہمیں اپنے اداس اور مایوس ہم وطنوں کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ اپنی قوم کے غمگین لوگوں میں وادی مہران کے وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے بارے میں ہمارے میڈیا نے ہمیں مکمل معلومات فراہم نہیں کیں۔ اس لیے کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا میڈیا اس چراغ کے مانند ہے جس کے نیچے ہمیشہ اندھیرا ہوتا ہے۔ اگر یہ بات سچ نہ ہوتی تو اس وقت سیاستدانوں کے بے کار بیانات کے بجائے ہم سندھ کے انتہائی پس ماندہ اور مظلوم علائقے کاچھو کے بارے میں بہت ساری خبریں پڑھتے۔ کاچھو شہباز قلندر کے مزار سے متصل ہے۔ جہاں پہلے سندھ کے سابق وزیراعلی مرحوم عبداللہ شاہ اور ان کے بعد انکے فرزند مراد علی شاہ الیکشن لڑتے رہے ہیں۔ یہ علائقہ ان کا آبائی حلقہ ہے۔ مگر جس طرح راقم الحروف نے میڈیا کے حوالے سے لکھا کہ ویسے ہی دو وزراء اعلی کا یہ حلقہ آج تک زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔ حالانکہ اس علائقے میں تیل اور گیس کے ذخائر ہیں مگر پھر بھی اس علائقے کی اکثریت کو گیس کی سہولیت میسر نہیں۔ وہاں بجلی اتنی آتی ہے جتنی اسلام آباد میں جاتی ہے۔ وہاں اور تو اور پینے کا پانی بھی لوگوں کے لیے خواب ہے۔ کبھی کبھار سندھی میڈیا میں اس علائقے کے حوالے سے ایسی خبریں بھی آتی ہیں،جن کو پڑھ آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل آتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل اس پہاڑی علائقے میں ایک ماں اپنے بچے کے ساتھ کہیں جا رہی تھی کہ وہ راستہ بھٹک گئی اور پیاس کے سبب وہ ماں اور بیٹا دونوں مر گئے۔ گاؤں والوں کو ان دونوں کی لاشیں ملیں۔ وہ ایک دوسرے سے چمٹے ہوئے تھے۔ اس پہاڑی علائقے میں زیر زمین پانی کا تصور بھی نہیں ہے۔ یہ علائقہ بلوچستان کا سرحدی علائقہ ہے۔ اس علائقے میں رہنے والے لوگوں کے لیے زندگی بہت مشکل ہے مگر جب بلوچستان میں شدید بارش ہوتی ہے تب پانی کے ایک ایک قطرے کو ترستے ہوئے یہ لوگ پہاڑی سیلاب میں پیڑوں کے پتوں کی طرح تیرنے لگتے ہیں۔ کاچھو کے لوگوں کے علاوہ اور کسی کو پتہ نہیں کہ جب پہاڑوں سے پانی نیچے آتا ہے تب اس میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ پہاڑی تودوں کو اپنے ساتھ بہاتا آتا ہے اور علائقے میں بڑے بڑے درخت تنکوں کی طرح تیرتے نظر آتے ہیں۔ اتنے تیز دھاروں میں کاچھو کے لوگوں کے گھاس پھوس سے بنے ہوئے مکانوں کی حالت کیا ہوتی ہوگی؟ اس کا اندزہ ہر کوئی کرسکتا ہے۔ اس بار مون سون کی بارشوں میں اتنی شدت کہیں بھی نہیں تھی،جتنی شدت بلوچستان کے اس علائقے میں تھی جس علائقے کا پانی کاچھو میں سیلاب بن کر زندگی کو ڈبو دیتا ہے۔ اس وقت مون سون کے بارشوں کا پانی کراچی سے تو کب کا نکل گیا مگر کاچھو کے لوگ اپنے دیہاتوں کو چھوڑ کر سیہون کے روڈ پر سیلاب متاثرین بن کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ فقیر نہیں بلکہ محنت کش ہیں مگر قسمت نے ان سے محنت کا سامان چھین لیا ہے۔ اب وہ مجبور ہیں۔ بیمار ہیں۔ بھوکے ہیں۔ ان کے پاس صرف وہ کپڑے ہیں جو کپڑے اس وقت ان کے تن پر تھے جب وہ تیز دھار ریلوں میں ڈبکیاں لگاتے ہوئے خشکی پر آئے۔ اب وہ اپنے رشتے داروں کو یاد کرتے ہیں۔ ان کو معلوم نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں۔ وہ میڈیا کو بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کاچھو میں اب تک لوگ جزیروں پر کھڑے ہیں یا پانی کے باعث ان پیڑوں پرچڑھ گئے ہیں جن کی شاخوں سے اپنی جان بچانے کے لیے سانپ بھی لپٹے ہوئے ہیں۔ انسان اور سانپ ایک ساتھ کس طرح زندگی بچانے کی کوشش کرتے ہیں؟ یہ منظر الیکٹرانک میڈیا کو بہت دلچسب محسوس ہوتا اگر میڈیا وہاں جا سکتا۔ نیشنل میڈیا کو اب تک ان کہانیوں کے بارے میں کچھ خبر نہیں جو کہانیاں کاچھو کے علائقے میں پہاڑی سیلاب والے پانی پر تیر رہی ہیں۔حکومت سندھ نے کاچھو کے لوگوں کے لیے صرف ایک عدد بیان جاری کرنے کے علاوہ اب تک کچھ نہیں کیا۔ لوگ بھوک سے نڈھال ہے۔ بہت سارے خاندان قلندر شہباز کے مزار پر خیرات کا کھانا کھانے کے لیے ٹہرے ہوئے ہیں۔ پانی کے باعث وہ لوگ بہت ساری بیماریوں میں مبتلا ہیں مگر حکومت سندھ نے کسی قسم کے میڈیکل کیمپ کا اہتمام نہیں کیا۔ جب وفاقی حکومت نے دیکھا کہ حکومت سندھ کراچی کے برساتی پانی کو نکالنے کے لیے کچھ نہیں کر رہی تو اس نے کراچی کو این ڈی ایم اے کے حوالے کیا اور اس کی نگرانی کرنے کے اختیارات فوج کے حوالے کردیے۔ سوال بہت سادہ ہے کہ جو کام کراچی کے لیے ہوسکتا ہے وہ کاچھو کے لیے کیوں نہیں؟ کاچھو کے لوگ تو اہلیان کراچی سے زیادہ مظلوم اور زیادہ مستحق ہیں۔وفاقی حکومت اور خاص طور پر وزیر اعظم عمران خان کو کاچھو کے لوگوں کے لیے خصوصی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ عمران خان حکومت میں آنے سے قبل سندھ کے دور دراز علائقوں میں چکر لگاتے رہے ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ تھر اور کاچھو کے لوگ کس طرح کٹھن زندگی سے نبرد آزما ہیں۔ہم شہری لوگ تو کبھی کبھی ہوا تبدیل کرنے کے لیے اپنی گاڑیاں کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے کے سامان سے لاد کر ان پہاڑی علائقوں کا رخ کرتے ہیں جس میں کاچھو بھی شامل ہے۔ کیوں کہ کاچھو کا پورا علائقہ ’’نیشنل کھیرتھر پارک‘‘ میں شامل ہے۔ وہاں لوگ ہرنیوں اور دوسرے جانور دیکھنے کے لیے سیر کرنے جاتے ہیں۔ رات کو کرچات جیسے علائقے کے گیسٹ ہاؤسز میں ٹہرتے ہیں اور آگ جلا کر کیمپ فائر کا اہتمام کرتے ہیں۔ مقامی موسیقی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ وہاں کے لوگوں سے گپ لگاتے ہیں۔ اس وقت کاچھو کے لوگ بہت مشکل حالات میں ہیں۔ حکومت سندھ کے پاس ان کے لیے امداد تو کیا احساس بھی نہیں ہے۔ اس لیے وفاقی حکومت سے درخواست ہے کہ کاچھو متاثرین کی فوری مدد کی جائے۔ وہ لوگ فقیر نہیں ہیں۔ وہ کسان ہیں۔ پہاڑی سیلاب میں ان کا سب کچھ بہہ گیا ہے۔ اب وہ ہاتھ پھیلانے کے لیے مجبور ہیں۔ مگر جب انہیں ’’معاف کرو بابا‘‘ کے الفاظ سننے پڑتے ہیں تب ان کا دل غم سے بھر جاتا ہے۔ کیا وزیر اعظم عمران خان کاچھو متاثرین کو ’’معاف کرو بابا‘‘ کے الفاظ سننے سے محفوظ نہیں رکھ سکتے؟