اسلام آباد(خبر نگار خصوصی)قومی اسمبلی نے یوم شہدائے کشمیر پر کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کی حمایت اور بھارتی حکومت کے مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم وستم کے خلاف متفقہ قرار داد منظور کر لی۔قومی اسمبلی نے ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں قرآن پاک ترجمے کے ساتھ پڑھانے کی قرارداد متفقہ طورپرمنظور کرلی۔اجلاس میں سابق ایم این اے لیاقت ڈوگر اور میران شاہ میں شہید فوجی اہلکاروں کیلئے دعائے مغفرت کی گئی۔ ایوان میں فاتحہ خوانی جماعت اسلامی کے عبدالاکبر چترالی نے کرائی۔ ایوان میں پاک فوج کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور غمزدہ خاندانو ں سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔سپیکراسدقیصرکی زیرصدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں دونوں قرار دادیں وزیرمملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے پیش کیں۔علی محمد خان نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوان متفقہ طورپر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم جبرو استبداد کی بھرپور مذمت کرتاہے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جائز جدو جہد آزادی کی بھرپور سفارتی و سیاسی مدد کا اظہار کر تا ہے ، قرارداد میں مزید کہا گیا کہ یہ ایوان اقوام متحدہ اور اقوام عالم سے کشمیر میں جاری بھارتی قتل و غارت کو رکوانے کا مطالبہ کرتا ہے ، تمام ارکان نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دیا جائے ۔دوسری قرارداد کے متن کے مطابق صوبوں کی جن جامعات میں قرآن ترجمے کیساتھ نہیں پڑھایا جارہا ،وہاں بھی قرآن ترجمے کے ساتھ پڑھایاجائے ۔ قرارداد میں کہا گیا کہ قرآن پاک کا اردو ترجمہ پڑھناہماری نسلوں کیلئے علم کے راستے کھول دے گا۔قراردادایوان میں متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔قومی اسمبلی میں زراعت کو درپیش سنگین صورتحال پر بحث کی تحریک پیش کردی گئی ۔باہمی قانونی معاونت 2020کو مشترکہ اجلاس میں بھیجے جانے کی قرارداد بھی منظور کرلی گئی۔قرارداد مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے پیش کی۔ یہ بل قومی اسمبلی سے منظور ہوا تھا مگر 90دنوں میں سینٹ سے منظور نہیں ہوا۔اب حکومت اس قانون کو مشترکہ اجلاس میں منظور کرانا چاہتی ہے ۔بل اب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کیلئے ارسال کردیا گیا۔اجلاس میں کورونا وائرس کے جواز میں اسلام آباد کے سرکاری ہسپتالوں میں اوپی ڈیز کی بندش کا معاملہ اٹھایا گیا۔سپیکر نے توجہ دلاؤ نوٹس قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا ،حکومت نے او پی ڈیز کھولنے کی مخالفت کر دی۔ اسلام آباد سے پی ٹی آئی کے رکن علی اعوان نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا اور کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے او پی ڈیز بند ہیں، لوگوں کو شدید مشکلات ہیں۔پارلیمانی سیکرٹری صحت نوشین حامد نے کہا کہ او پی ڈی کھولنے سے کورونا کیسز پھیلنے کا خدشہ ہے ۔ڈبلیو ایچ او کی سفارش پر او پی ڈیز کو بند کر رکھا۔این سی او سی نے ہدایت دی تو او پی ڈیز کھول دینگے ۔اجلاس میں وفاقی وزیرانسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے بتایا کہ ہندو برادری سے متعلق توہین آمیز کارٹون بنانے پر نوٹس لیا گیا۔ سوشل میڈیا سے ایسے کارٹون ہٹائے جا رہے ۔ایک شخص کی نشاندہی بھی ہو چکی ۔کسی کو کسی مذہب کی توہین کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا کہ قومی اسمبلی اجلاس میں بحث کا کوئی فائدہ نہیں ،متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریز ایوان کو سنجیدہ نہیں لیتے ۔ راجہ ریاض نے کہاکہ سپیکر بیوروکریسی کے رویئے پر بطور احتجاج اجلاس ملتوی کردیں۔پینل آف چیئر مین نے رولنگ دی کہ تمام متعلقہ سیکرٹریز کو اجلاس میں ہونا چاہیے اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کوآج سپیکر چیمبر میں طلب کرلیا۔