مسائل مقامی ہوں یا علاقائی وہ بھی دراصل قومی مسائل ہوتے ہیں۔ کسی بھی علاقے کے مسائل کو مقامی مسائل کا نام دے کر نظر انداز کرنا کسی بھی لحاظ سے درست نہیں۔ عمران خان کا لانگ مارچ چل رہا ہے۔ وہ نئے اور شفاف الیکشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے گزشتہ روز سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ صدارتی نظام مستحکم سسٹم ہوتا ہے۔ یہ ایک نئی بحث ہے بلکہ یہ بات ایک نیا پنڈورا باکس کھولنے کے مترادف ہے۔ ایک مسئلہ حل نہیں ہوتا تو نئے مسائل کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ 2018ء کے الیکشن میں عمران خان نے پارلیمانی نظام حکومت کے تحت مینڈیٹ حاصل کیا۔ صدارتی نظام کا انہوں نے کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔ البتہ سرائیکی وسیب سے صوبے کے وعدے پر ووٹ حاصل کئے مگر حکومت سنبھالنے کے بعد ان پر عمل نہیں کیا گیا۔ چین کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ سی پیک کے ذریعے پاکستان کو ایک لاکھ نو ہزار نوکریاں ملیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سی پیک منصوبے کے آغازپر جو اعلانات ہوئے اُس کے فوائد ابھی تک محروم اور پسماندہ علاقوں تک نہیں پہنچے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ سی پیک گوادر کے صدقے پاکستان کو ملا۔ گوادر بلوچستان میں ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ گوادر اور بلوچستان کے لوگ کیوں سراپا احتجاج ہیں؟ گوادر کے رہائشی سردی کے باوجود تقریباً ایک ماہ سے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ دھرنے میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ آصف زرداری دور میں آغاز حقوق بلوچستان شروع ہوا مگر بلوچستان کو آج تک حقوق نہیں مل سکے۔ آج بھی گوادر میں سروں پر کفن باندھ کر لوگ گوادر کو حق دو کے بینرز اٹھائے ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر پسماندہ علاقے بھی فریاد کناں ہیں۔ آصف زرداری نے جب آغاز حقوق بلوچستان شروع کیا تھا تو وسیب میں بھی جلوسوں کی شکل میں یہ مطالبے ہوئے تھے کہ وسیب کیلئے بھی اسی طرح کا اعلان کیا جائے۔ مگر کسی نے نہ سنی۔ وسیب کی غربت پسماندگی اور محرومی کو کبھی قومی مسئلہ نہیں سمجھا گیا۔ لیکن جس علاقے میں غربت ہوتی ہے وہاں دو نمبر کام کرنیوالے ٹھگ اپنا کاروبار چمکاتے ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز ملتان کی خبر کے مطابق جام پور کے علاقے میں ایک غیر ملکی کمپنی کے نام پر سادہ لوگوں سے کروڑوں روپے ٹھگ لیے گئے۔ کمپنی نے اعلان کیا کہ ہر ماہ 25 فیصد منافع ڈالروں میں حاصل کریں۔ لوگوں نے دھڑا دھڑ پیسے جمع کروائے۔ دیکھاوے کے طور پر کچھ عرصہ منافع دیا گیا مگر بعد میں نو سر باز گروہ کروڑوں روپیہ لے کر رفو چکر ہو گیا۔ اسے مقامی مسئلہ نہ سمجھا جائے بلکہ ملزمان کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ غربت کے خاتمے کیلئے اقدامات ضروری ہیں۔ گزشتہ روز صوبائی وزیر پرائمری ہیلتھ کیئر ڈاکٹر اختر ملک نے خان پور ہسپتال کا دورہ کیا۔ مریضوں کو سہولتوں کی عدم دستیابی پر میڈیکل آفیسر کو معطل کر دیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ خان پور ہسپتال کو سہولتیں مہیا کی جائیں کہ یہ ہسپتال اس وقت سے ہے جب خان پور ضلع تھا۔ خان پور کی ضلعی حیثیت ختم ہوئی تو خان پور کے ساتھ خان پور کے ادارے بھی ترقی معکوس یعنی تنزلی کا شکار ہوئے۔ خان پور کو ضلع بنانے کے ساتھ اس کے اداروں کی ترقی بھی ضروری ہے۔ الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ کراچی اور حیدر آباد ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات 15 جنوری کو ہوں گے، الیکشن کمیشن نے اپنا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے سندھ حکومت کی طرف سے التواء کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ سندھ کے دو ڈویژنوں کے ساتھ ساتھ پنجاب میں بھی بلدیاتی الیکشن کا انعقاد ضروری ہے۔ بلدیاتی ادارے بنیادی جمہوریت ہیں، جمہوریت کی جب بنیاد ہی نہیں ہو گی تو کیسی جمہوریت؟ جمہوری اداروں کے ذریعے عام آدمی کے چھوٹے موٹے مسائل حل ہوتے رہتے ہیں اور بلدیاتی ادارے ہمیشہ نرسری کا کام دیتے ہیں، انہی بلدیاتی اداروں سے قومی رہنمائوں نے جنم لیا، وسیب میں لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ پچھلے دنوں سرائیکی جماعتوں کے مشترکہ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جنرل الیکشن سے پہلے صوبے میں بلدیاتی الیکشن کرائے جائیں مگر بلدیاتی الیکشن کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہے۔ حالانکہ دیگر صوبوں میں الیکشن ہوئے کیا ہی بہتر تھا کہ اس کے ساتھ ہی پنجاب میں بھی الیکشن ہو جاتے۔ صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کو بھی اس اہم مسئلے کی طرف توجہ مبذول کرنی چاہئے۔ سر گنگا رام کی پڑپوتی لاہور میں ہیں۔ ہائیکورٹ بار، اوورسیز پاکستانیز کمیشن اور دیگر جگہوں پر ان کا بھرپور استقبال اُن کے دادا جان کی فلاحی خدمات کو شاندار خراج عقیدت ہے۔ انسانیت کی جس نے بھی خدمت کی اُس کا نام ہمیشہ زندہ رہا۔ گزشتہ روز مدینہ فائونڈیشن کی طرف سے فیصل آباد کی ڈسٹرکٹ جیل میں میڈیکل کیمپ لگایا گیا اور قیدیوں کو طبی سہولتیں دینے پر سپرنٹنڈنٹ جیل اسد جاوید وڑائچ نے مدینہ فائونڈیشن کا شکریہ ادا کیا۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ کمشنر بہاولپور راجہ جہانگیر انور نے گزشتہ روز دارالامان کا دورہ کیا اور دارالامان میں موجود خواتین کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کا حکم دیا۔ اہل بہاولپور نے کمشنر بہاولپور کے اقدام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلا موقع ہے کہ کسی کمشنر نے سماج کی ستائی ہوئی خواتین کے مسئلے کی طرف توجہ دی۔ ایک اور خبر کے مطابق سرائیکستان صوبہ محاذ کے رہنما کرنل (ر) عبدالجبار خان عباسی نے کہا کہ اے ڈی پی کا تیسرہ سیشن شروع ہونے والا ہے مگر وسیب کے منصوبوں کیلئے مختص بجٹ پہلے کی طرح لیپس ہونے جا رہا ہے۔ منصوبوں کا آغاز ہی نہیں ہو سکا۔ اُن کا کہنا تھا وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی خود الگ صوبے کیلئے وسیب میں جلوسوں کی قیادت کرتے رہے ہیں ، انہیں صوبے کے قیام کیلئے پیش رفت کرنی چاہئے۔