مغلوں کی وسط ایشیائی خطوں سے برصغیر آمد، غزنیوں اور غوریوںکی طرح نہ تھی، بلکہ وہ یہاں رہنے اور حکومت کرنے کیلئے آئے تھے، نہ کہ یہاں کے وسائل اپنے آبائی علاقے میں منتقل کرنے کے لیے۔ انہوں نے برصغیر کو اپنا’’ مادرِ وطن ـ‘‘بنایا، جو کچھ یہاں سے کمایا، اس کو یہیں لگایا۔ لاہور کے شاہی قلعہ سے لے کر آگرہ کے ’’تاج محلـ‘‘ تک۔۔۔کیسے کیسے شاہکار تخلیق کئے۔ ان کے عہد حکومت میں زندگی کے مختلف شعبوں میں کئی تخیلات اور تصورات معرضِ عمل میں آئے۔ جس میں ادب، شعر، تعلیم، سائنس، فلسفہ، فنِ تعمیر، مصوری اور خطاطی جیسے فنون بطور خاص قابل ذکر ہیں۔اس عہد میں ’’فارسی زبان و ادب ‘‘کو ازحد فروغ میسر آیا ، ذریعہ تعلیم و تدریس سے لیکر تصنیف و تالیف تک، اس زبان میں تاریخ ساز کام ہوئے اور اسکے ساتھ اردو بھی ایک باقاعدہ زبان کی حیثیت سے منظر عام پر آئی، جو کہ، ازاں بعد ہماری تعلیم و تدریس کا ذریعہ بھی قرار پائی۔ علمی ، تہذیبی اور ثقافتی اقدار کے فروغ میں بلاشبہ، ’’زبان‘‘کا استحکام کلیدی اور بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر قوم کا زبان سے ناطہ کمزور ہوجائے، تو ملی تشخص کا استحکام ممکن نہیں رہتا۔ کسی بھی معاشرے میںاس کی زبان کو زوال تب آتا ہے ،جب قوم کا قلم اور عوام کادل اس زبان سے منہ موڑ لیں۔ یونان اور روما کی زبانوں کے بارے میں بھی تاریخ کچھ یہی بتاتی ہے۔ ایک وقت تھا جب ان زبانوں کا طوطی بولتا تھا، لیکن اب ان کے حالات بہت مختلف ہیں۔ برصغیر پر نظر ڈالیں تو ہمیں فارسی کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی سلوک ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ زبان کااستحکام چار محرکات کے سبب ممکن ہوتا ہے۔ 1۔ملکی استحکام‘2۔ سلطنت کا اقبال‘3۔ قوم کا مذہب‘4۔ تعلیم و تہذیب کسی بھی زبان کا قائم دائم رہنا ان چارعناصر پر محیط ہوتا ہے۔ بصورت دیگر ، زبان کا اس خطہ میں زوال ناگزیر ہو جاتاہے۔ برصغیر کی تاریخ میں 1707-1857 ء کا دور’’انڈیا میں تبدیلی‘‘) ـ Transition of India (سے موسوم کیا جاتا ہے۔یہ وہ سال ہیں،جب برصغیر میں بڑے پیمانے پرسیاسی، معاشرتی ، مذہبی اور تعلیمی تبدیلیاں دیکھنے کو میسر آئیں۔سترھویں صدی میں انگریز نے تجارت کے لیے ہندوستان کا رخ کیا اورــ’’ ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘( East India Company )کے نام سے تجارتی سرگرمیوںکا آغاز کیا۔ ۱۷۰۷ء میں اورنگزیب کا انتقال ہوا، تو مغلیہ سلطنت کا شیرازہ بکھرنا شروع ہوا۔ مختلف چھوٹی چھوٹی ریاستیں جنم لیتی ، اور مختلف راجے اور نواب طاقت کے حصول کے لیے آپس میں لڑتے رہے۔ اسی دوران فرنگی یہاں کی سیاست میں قدم رکھتے اور اپنی عسکری قوت کے بل بوتے پر مختلف خطوں پر قبضہ کرنا شروع کرتے ہیں۔ کمپنی کو بڑی کامیابی 1757ء میں حاصل ہوئی ہے جب پلاسی کی جنگ میں فتح کے بعد بنگال فرنگیوں کے ہاتھ لگا۔ 1800 ء تک یہ امر واضح ہو چکا تھا کہ اس خطے میں اب کوئی بھی طاقت ایسی نہیں، جو کمپنی کو شکست دے کر انہیں اس خطے سے باہر نکال سکے۔ 1857 ء کی جنگ آزادی کے بعد مغلیہ سلطنت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے اختتام کو پہنچی۔ جیسے جیسے فرنگی طاقتوں میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، مسلمان اشرافیہ کمزور ہوتی گئی۔ بقول ہنٹر (Hunter) جو 1872ء میں انڈین سول سروس (Indian Civil Service) کا حصہ بنا ، مسلم طاقت کے تین بڑے اسباب تھے۔ پہلا، عسکری قوت و قیادت ، دوسرا "collection of revenue"اور تیسرا، عدالتی اور سیاسی ملازمتیں۔ ہنٹر کا یہ کہنا ہے کہ 1872 ء تک فوج میں مسلمانوں کی قیادت لگ بھگ ختم ہو چکی تھی۔ 1793ء میں آنے والے نئے "Land Tenure System" نے مسلمانوں کے ذریعہ معاش کی کمر توڑ دی۔ فرنگیوں نے ہر ڈسٹرکٹ میں اپنے کلکٹر تعینات کر دیئے جنہوں نے مسلم افسران کی جگہ لے لی۔ مسلمانوں کا تیسرا ذریعہ معاش عدلیہ اور حکومتی عہد ے تھے۔ یہ وہ ملازمتیں تھیں جنکی بنیاد فارسی زبان تھی۔ مغلیہ دور میں سرکاری زبان فارسی ہوا کرتی تھی اور اسی لیے بڑے عہدوں پر فائز ہونے کے لیے اس زبان پر عبور ہونا شرط تھا۔ چونکہ مسلمانوں کی تاریخ میں فارسی کو اہم مقام و اہمیت حاصل رہی ہے ، اسی وجہ سے مسلمانوں میں فارسی پڑھنا اور لکھنا عام پایا جاتا تھا۔ اور یہی وجہ تھی کے تمام بڑے عہدے بھی مسلمانوں ہی کے پاس ہوا کرتے تھے ، جبکہ نچلے طبقے کی نوکریاں زیادہ تر ہندوئوں کے پاس ہوتی ، جیسے جیسے فرنگی طاقت پکڑتے گئے،انگریز افسران مسلمانوں کی جگہ لینے لگے، جبکہ دوسری جانب نچلے طبقے پر ہندو اسی طرح قائم رہے۔ جب تک مسلمانوں کا اپناتعلیمی نصاب رائج تھا، فارسی کا استعمال جاری رہا، اور اس وقت کے نصاب کا بہت گہرا تعلق مذہب سے ہی رہا۔انگریز راج آیا، تومذہب اور تعلیم کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر نے کیساتھ مسلمانوں کو صفِ اول سے بھی ہٹا دیا گیا۔ لارڈ میکالے کے وہ منٹس (minutes) آج بھی تاریخ کی کتب میں، ہم پر رائج کردہ تعلیمی نظام پرسیاہ نشان کے طور پر نمایاں ہیں۔ ان چھتیس نکات میں سے ، تعلیمی فنڈز کے حوالے سے اُس نے کہا تھا، "....would be best emplyed on English education alone." یعنی تمام تعلیمی بجٹ کو صرف انگریزی طرز تعلیم پر خرچ کیا جائے۔ گویا یہاں کے لوکل تعلیمی نظام کو سرے سے نظر انداز کرنے کی ٹھان لی گئی تھی۔ 1837ء میں فارسی کو مکمل طور پر سرکاری اور عدالتی استعمال سے خارج کر دیا گیا۔ جوں ہی اس کا استعمال ختم ہوا، وہ تمام مسلمان جو گوروں کو مختلف طریقوں سے ، اس زبان کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرتے تھے، انہیں نوکریوں سے برخاست کر دیا گیا اور انگریزی کو سرکاری اور عدالتی زبان قرار دے دیا گیا۔ ساتھ ہی ساتھ نوکریوں کے لیے انگریزی زبان کا آنا لازم بنادیا گیا۔کالونیل دور میں تمام تعلیمی فنڈز کو یہاں کے لوکل تعلیمی نظام کی بجائے نئے تعلیمی نظام پر صرف کیا گیا۔ فارسی اس خطے میںدیکھتے ہی دیکھتے اپنی اہمیت کھو بیٹھی ۔ آج فارسی صرف اور صرف دینی مدارس تک محدود ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ ہمارے قومی شاعر حضرت علامہ محمد اقبال ؒ نے اپنا بیشتر کلام فارسی میں لکھا۔ نقاد یہ کہتے ہیں کہ شاید اقبالؒ کی دور اندیشی انہیں اس بات سے آگاہ کر چکی تھی کہ فارسی دن بہ دن زوال کا شکار ہو تی جا رہی ہے اور ایک نہ ایک دن اس خطہ میں اس کا استعمال بھی تقریبا ختم ہوجائے گا، لہذا یہ ان کی جانب سے ایک کوشش تھی کہ شاید اسی طرح فارسی کا مقام و مرتبہ اس خطے میں قائم رہ سکے۔