لاہور(نامہ نگارخصوصی،نمائندہ خصوصی سے )لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب ریونیو اتہارٹی کی تشکیل اور اس کی قانونی حیثیت کیخلاف درخواستیں خارج کر دیں۔ درخواستوں میں پنجاب ریونیو اتہارٹی کی جانب سے سیلز ٹیکس ریکوری کے نوٹسز بھجوانے کے اقدام کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ جسٹس شاہد جمیل خان نے 570 سے زائد درخواستوں پرسماعت مکمل کرنے کے بعد عبوری فیصلہ سنایا۔ درخواست گزاروں کی طرف سے محمد اجمل خان ایڈووکیٹ اور دیگر وکلاء پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا قانون کے مطابق پنجاب ریونیو اتہارٹی کا مطلب چیئرمین اور 4 ممبران ہیں، اتہارٹی کی مکمل تشکیل کے بغیر ٹیکس دہندگان کو سیلز ٹیکس ریکوری کے نوٹسز غیرقانونی ہیں، چیئرمین اتہارٹی نے صرف اپنی منظوری سے ہی سیلز ٹیکس ریکوری کے رولز بنا دیئے جبکہ پنجاب میں سیلز ٹیکس ریکوری کے رولز کی منظوری کے وقت اتہارٹی کے ممبران موجود ہی نہیں تہے ۔ سرکاری وکیل نے کہالاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب ریونیو اتہارٹی ایکٹ میں ترمیم کر لی اورچیئرمین اتہارٹی کے اقدامات کو قانونی تحفظ دیدیا گیا، اب ممبران کی عدم موجودگی کے باوجود بھی اتہارٹی کو اقدامات کرنے کی اجازت ہے ۔وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت نے عدالتی فیصلے پر کہاپنجاب ریونیو اتھارٹی کی قانونی حیثیت سے متعلق عدلیہ کا فیصلہ خوش آئند ہے جس سے اتھارٹی کا مورال بلند ہوگا اورکارکردگی میں بہتری آئے گی۔اتھارٹی کے قیام کی قانونی تائید سے ٹیکس دہندگان کا اعتمادبڑھے گا اور محصولات میں اضافہ ہو گا، ٹیکس کلچر میں بھی بہتری آئے گی۔انہوں نے چیئرمین پی آر اے اور ان کی لیگل ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا پنجاب ریونیو اتھارٹی نے عمدہ کارکردگی سے اپنا لوہا منوایا ۔ اتھارٹی کے تحت مالی سال 2018-19میں 100ارب ٹیکس اکٹھا کیا گیا۔اتھارٹی نے صرف جون کے مہینے میں 17ارب کا ریکارڈ ٹیکس اکٹھا کیاجو 2017-18میں 9ارب تھا۔ پی آر اے کے تحت ٹیکس دہندگان کو متعدد سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ کاروبار میں آسانی کے لیے ون لنک آن لائن سسٹم متعارف کرایا جا چکا ہے ۔ رواں مالی سال میں پی آر اے کی جانب سے "کسٹمر ریلیشن شپ مینجمنٹ سسٹم "متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے تحت ٹیکس دہندگان کی شکایات کا اندراج اور ان کا ازالہ خود کار سسٹم کے تحت ممکن ہو گا۔