لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے اوورسیز پاکستانی کا نام غیرقانونی طور پر بلیک لسٹ کرنے کیخلاف درخواست پر ریکارڈ طلب کرتے ہوئے 25 جولائی کو ایف آئی اے کے سینئر افسر کو پیش ہونے کیلئے دوبارہ نوٹس جاری کردیئے ۔ گزشتہ روزجسٹس شجاعت علی خان نے اٹلی میں مقیم پاکستانی شہری محمد اسلم کی درخواست پر سماعت کی جس کی طرف سے ایڈووکیٹ شعیب سلیم پیش ہوئے ۔ درخواست گزارکی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ ایف آئی اے نے کسی دوسرے محمد اسلم کے نام سے مماثلت کی بنا پر غلط کارروائی کی۔ غفلت کی وجہ سے اٹلی میں میری رہائش کا درجہ غیرقانونی ہوچکا ہے اور پاسپورٹ نہ ہونے پر گرفتاری کا خدشہ ہے ۔عدالت نام بلیک لسٹ سے نکالنے کا حکم دے ۔دریں اثنا جسٹس شجاعت علینے شادیوں کے شوقین پولیس کانسٹیبل اور ساتویں بیوی کو مصالحت کا موقع فراہم کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔قبل ازیں پولیس کانسٹیبل پرویز کی ساتویں بیوی کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ شادی کے بعد شوہر نے خرچہ نہیں دیا ، مارپیٹ کر گھر سے نکال دیا اور بچے بھی چھین لئے ۔ پرویز ہر دو سال بعد نئی شادی کرکے پہلی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے ۔ 1996 سے اب تک سات شادیاں کیں ۔ سول عدالت نے خرچہ ادا کرنیکا حکم دیا ۔ کانسٹیبل پرویز نے استدعا کی کہ ماتحت عدالت نے زیادہ خرچہ لگا دیا ہے ، ہائیکورٹ فیصلہ کالعدم قرار دے ۔