آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے رواں ہفتے ہونیوالے اجلاس میں ان غریب ممالک کے قرضوں کو معاف کرنے کے منصوبے پر سنجیدگی سے غور کیا گیا، جو ماحول دوست ’’گرین پراجیکٹس‘‘ پر سرمایہ کاری کریں گے۔ دوسری جانب وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے بعد مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کو خط میں کہا ہے کہ آئیں مل کر دنیا کو موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے بچائیں۔ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔جس کی وجہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کا حد سے بڑھ جانا ہے۔ صنعتی انقلاب سے پہلے زمانے کے مقابلے میںاب تک درجہ حرارت میں صرف 0.2ڈگری اضافہ ہوا تھا۔ مگر گزشتہ پانچ برسوں یعنی 2015ء سے لے کر 2019ء کے دوران درجہ حرارت خطرناک حد تک یعنی 2.2 تک بڑھ گیا ہے۔ ان پانچ برسوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہائوس گیسوں کے اخراج میں بھی ماضی کی نسبت تیزی آئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس عرصے میں جنگلات میں لگنے والی آگ کے باعث کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج بھی خطرناک حد تک بڑھا ہے جس کے باعث مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔درجہ حرارت بڑھنے کے باعث جان لیوا ہیٹ ویو، سمندری طوفان اور سائیکلون بڑھ گئے ہیں۔ جرمن واچ نے اپنی کلائمیٹ انڈیکس رپورٹ میں 1998ء سے2017ء تک موسمیاتی تغیر سے شدید متاثر ممالک کی فہرست میں پاکستان کو آٹھویں یعنی سب سے زیادہ متاثر ملک قرار دیا ہے۔ اس عرصے کے دوران پاکستان میں موسمیاتی تغیر کی وجہ سے 145شدید موسمی واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے براہ راست بالواسطہ سالانہ ایک لاکھ 28ہزار اموات ہوئی ہیں۔ پاکستان میں 43فیصد آلودگی تو صرف درآمد کیے گئے غیر معیاری تیل کی وجہ سے ہوتی ہے۔ سمگلنگ کے ذریعے آنے والا تیل ٹرانسپورٹ انڈسٹری اور انرجی سیکٹر کی جانب سے اس بنا پر استعمال کیا جاتا ہے کہ معیاری تیل سے وہ انھیں کہیں سستا دستیاب ہوتا ہے۔ اگر ہم معیار کی بات کریں تو پاکستان میں یورو۔ 2معیار لاگو ہے جبکہ دنیا یورو۔ 6ٹیکنالوجی پر پہنچ چکی ہے۔ یورو۔2بھی پاکستان میں ہر جگہ دستیاب نہیں، اس میں بھی ملاوٹ کر کے اس کا معیار خراب کر دیا گیا ہے۔ پاکستان میں 5آئل ریفائنریز تاحال قدیم ہیں۔ جبکہ ہمارے تیل میں مگینیشیم اور سلفر کے اجزا بھی شامل ہیں ،جو صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو 1997ء میں ریفائننگ پالیسی آئی تھی تب سے لیکر اب تک کوئی تجدید شدہ فریم ورک سامنے نہیں آیا۔ ماضی کی حکومتوں نے تو اس جانب توجہ ہی نہیں دی۔ 2013ء میں تحریک انصاف جب خیبر پی کے میںاقتدار میں آئی تو عمران خان نے ایک ارب درخت لگانے کا اعلان کر کے موسمیاتی تبدیلی کے سامنے بند باندھنے کا فیصلہ کیا۔ تب اپوزیشن جماعتوں کے ترجمانوں نے اسے دیوانے کی ایک بڑھ قرار دیا لیکن کپتان نے ایک ارب درخت لگا کر اور خیبر پی کے میں جنگلات کی کٹائی روک کر اس خطے پر بڑا احسان کیا ہے۔ اب پورے ملک میں درخت لگائے جا رہے ہیں۔ یقینی طور پر آنے والے وقت میں یہ درخت موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی خرابی کو روکنے میں مدد گار ثابت ہونگے۔اس سلسلے میں ہر انسان کو اپنی بساط کے مطابق کوشش کرنی چاہیے اوراپنے گھروں ،زمینوں ،پارکوں اور سڑکوں کے کناروں پر درخت لگا کر ایک اچھا شہری ہونے کا ثبوت فراہم کرنا چاہیے ۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور بچائو کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ پاکستان کاربن کی کمی کے لیے متبادل توانائی کے منصوبے بھی شروع کر رہا ہے۔ بلین ٹری سونامی، نیشنل پارکس، کلین گرین کے پروگرام جاری ہیں۔ پاکستان نے لاتعداد گرین ملازمتوں کا بھی آغاز کیا ہے۔ اس کے علاوہ 10لاکھ ایکڑ جنگلات کو محفوظ بنایا گیا ہے۔ حال ہی میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو بھی 10ارب درخت لگانے کی مہم میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں موسمیاتی خطرات کم کرنے کے لیے بھرپور تعاون بھی کیا جا رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے لحاظ سے مارچ 2021ء پانچواں گرم ترین مہینہ ثابت ہوا ہے۔ جس کا اوسط درجہ حرارت معمول سے 2.52زیادہ رہا ہے۔ بعض صوبوں میں بارشیں معمول سے انتہائی کم ہوئی ہیں جبکہ بعض صوبوں میں معمول سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہیں۔ اب پاکستان کے صحرائی علاقوں میں درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔ بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے ایسے اضلاع بھی ہیں جہاں پر تاحد نگاہ آپ کو کوئی درخت نظر نہیں آتا۔ اب حکومت پاکستان ایسے علاقوں میں بھی درخت لگانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ درحقیقت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے آپ تب ہی بچ سکتے ہیں جب ان علاقوں میں درخت لگائیں۔ ان علاقوں کا درجہ حرارت نارمل ہو۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اگر غریب ممالک سے قرضے معاف کرنے کی پالیسی بنائے تو یقینی طور پر غریب ممالک قرض ادائیگی والے پیسے کو اپنے ملک میں خرچ کر کے نہ صرف موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ بلکہ دنیا کو بھی اس سے بچا سکتے ہیں ۔اگر موسمیاتی تبدیلی کے سامنے بند باندھا جا ئے تو دنیا کے کئی مسائل کم ہو سکتے ہیں۔ اس لیے امریکہ، یورپی یونین سمیت ترقی یافتہ ممالک غریب ملکوں کے مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدگی سے غور کریں تا کہ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کر کے دنیا کو مشکلات سے بچایا جا سکے۔