لاہور (رانا محمد عظیم )تحریک انصاف کی حکومت میں کس طرح دراڑ ڈالی جائے ، جہانگیر ترین اور ان کے گروپ کو کس طرح حکومت کے خلاف بھڑکایا جائے ،تحریک انصاف کے اندر ایک علیحدہ گروپ کس طرح قائم کیا جائے ،پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے رہنمائوں نے اس پر باقاعدہ طور پر کام شروع کر دیا ، مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں ن لیگ نے دو، پیپلزپا رٹی نے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے تین اہم رہنمائوں کی ڈیوٹیاں لگا دی ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ کی قیادت کے حکم پر جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے تین اہم رہنما ہر صورت میں کوشش کر ررہے ہیں کہ وہ جہانگیر ترین اور ان کے گروپ کے لوگوں سے ملاقاتیں کریں اور حکومت کو کمزور کریں، ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ کی جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والی دو اہم شخصیات نے اس ضمن میں جہانگیر ترین سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، ان میں ایک سابق وفاقی وزیر بھی شامل ہیں مگر جہانگیر ترین نے واضح طور پر ملنے سے بھی انکار کر دیا ہے اور یہ پیغام دیا ہے کہ وہ کسی صورت میں بھی حکومت کے خلاف جائیں گے اور نہ ہی کسی ایسی سازش کو کامیاب ہونے دیں گے ، ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پیپلزپا رٹی نے بھی جن افراد کو یہ ٹا سک دیا ، ان میں سے ایک کا تعلق رحیم یار خان سے ہے اور وہ جہانگیر ترین کے ذاتی تعلق رکھنے والے ہیں، ذرائع کے مطابق ان کو بھی جہانگیر ترین کی جانب سے یہی پیغام ملا ، ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اس پر بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے اپنی حکمت عملی کے تحت تمام پتے کھیل رہی ہیں ۔