گزشتہ ہفتے‘لکھے جانے والے دو کالم ایک ہی موضوع کا تسلسل تھے۔خیال یہ تھا کہ بات دو کالموں میں پوری ہو جائے گی مگر ہوا یوں کہ موضوع کی جیسے شاخیں نکلتی آئیں اور وہ پھیلتا چلا گیا، جیسے پانی کا آدھا گلاس اگر پرات میں ڈال دیں تو وہی پانی پھیل جائے گا۔ ابھی بات مکمل ہونا رہتی تھی کہ ٹرین کا ہولناک حادثہ ہوا۔ اس حادثے نے میرے قلم کو پکڑا اور ان مسافروں کا نوحہ لکھوایا جو انتظامیہ کی لامحدود نااہلی اور ناقابل بیان بے حسی کی ریلوے لائن پر اپنی زندگی کی بازی ہار گئے اور درجنوں جو اس حادثے میں زخمی ہو ئے ،اتنے ہم وطن اس حادثے سے متاثر ہوئے اس پر بات کرنا ضروری تھی۔ آج پھر بات کا سرا وہیں سے جوڑتے ہیں جہاں سے ہم نے چھوڑا تھا۔ گزشتہ دو کالموں میں ہم نے سیون ڈیڈلی سنز کے حوالے سے غرور و تکبر‘ لالچ ‘ حسد‘ بسیار خوری‘ جنسی بے راہ روی اور ہوس پر بات کی۔آج ہم Wrathیعنی غصّہ Slothیعنی سستی اور عقلمندی پر بات کریں گے۔ غصہ اور اشتعال انسانی زندگی کو جہنم بنا سکتے ہیں۔ بات بے بات اشتعال میں آنے والا شخص نہ صرف اپنا فشار خون بڑھاتا اور بیماریوں کو دعوت دیتا ہے بلکہ وہ اپنے آس پاس کے لوگوں کے لئے بھی ناپسندیدہ ترین شخص ہوتا ہے۔ لوگ غصے کا اظہار عموماً اونچا بول کر ،گالم گلوچ کر کے اوردوسرے کو مزید جسمانی اذیت دے کر بھی کرتے ہیں۔ عائلی زندگی میں دیکھا گیا ہے کہ شوہراپنے غصے اور اشتعال کا مظاہرہ اپنی بیویوں پر کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ایسے زہریلے ماحول میں خوشی اور سکون گھر سے رخصت ہو جاتا ہے۔ شوہر بیوی پر،باس اپنے ماتحت پر‘ مالکن گھریلو ملازمہ پر ، الغرض ہر طاقتورکمزور پر اپنے غصے کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔یہ ایک بدصورت معاشرے کی تصویر ہے۔ جہاں مزاجوں میں برداشت اور صبر کا مادہ نہیں ہے۔ جہاں برداشت اور صبر صرف کمزور کو کرنا پڑے وہ معاشرہ اخلاقی اقدار میں ہمیشہ زوال پذیر ہو گا۔Anger۔بھی غصہ کے معنی میں آتا ہے مگر اس کا مفہوم زیادہ تہہ دار ہے، کسی کے خلاف اپنے منفی جذبات کو دل میں مسلسل دبائے رکھنا۔ اینگر کو جنم دیتا ہے اور زیادہ عرصے تک اس کیفیت میں رہنے والے لوگ عموماً جسمانی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ذہنی دبائو‘ ڈیپریشن اور کئی طرح کے نفسیاتی عوارض اس غصے سے جنم لیتے ہیں جسے اظہار کا موقع نہ مل سکے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اظہار کرنے میں آپ دوسروں پر چڑھ دو ڑیں بلکہ منفی جذبات کو اپنے احساس کے پریشر ککر میں بند کرنے کی بجائے اسے مثبت سوچ اور مثبت سرگرمیوں کا سیفٹی والو لگاکر باہر نکال دیں۔نہ صرف آپ کے احساس میں برپا تلاطم کم ہو گا بلکہ آپ سے وابستہ دوسرے لوگوں کی زندگیوں میں امن و سکون قائم ہو جائے گا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فہرست کے آخر میں جو انسانی رویہ بطور ڈیڈ لی سن لکھا گیا ہے، اسے ہم نے کبھی گناہ سمجھا ہی نہیں، بس زیادہ سے زیادہ انسانی فطرت یا ایک عادت سمجھ کر صرف نظر برت دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں اس عادت کا شکار ہو کر ایک فرد اپنا اور اپنے سے وابستہ دوسروں کی زندگیوں کا جتنا نقصان کرتا ہے یہ کسی گناہ سے کم نہیں۔ یہ عادت ہے سستی کی اور کام ٹالنے کی ،کہ کام تو بہت پڑا ہے کرنے کو مگر جی نہیں چاہ رہا۔ بس سوچ اور جسم ایک آلکسی جال میں ہے اسے یہاں sloth کا نام دیا گیا ہے۔ انگریزی میں اس کے لئے Lazinessکا لفظ بھی استعمال کرتے ہیں ۔یہ عادت بد ایسی ہے کہ مجھ سمیت ننانوے فیصد لوگوں میں نظر آئے گی۔ہم لوگ اکثر و بیشتر اس کے جال میں پھنس کر یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ بس آج ذرا طبیعت سست ہے دل نہیں چا ہ رہا کام کرنے کو ۔میری ازلی سستی اس کام کے آڑے آ گئی ورنہ تو میرے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ ویسے سستی اور کام چوری میں بھی چولی دامن کا ساتھ ہے۔ آلکسی کی چارپائی توڑنے والے عموماً کام سے بھاگتے ہیں۔ انہیں وقت کی قدرو قیمت کا اندازہ نہیں ہوتا۔ دن چڑھتا ہے تو ان پر سستی کی چادر تن جاتی ہے ۔ہلکے پھلکے آسان کام بھی انہیں پہاڑ دکھائی دیتے ہیں۔وقت کا انمول خزانہ وہ اپنے ہاتھوں سے برباد کر کے کہتے ہیں۔ بس ذرا سی سستی تھی کام کرنے کو جی نہیں چاہا۔ ایک ایک دن کر کے سستی کے مارے لوگ اپنی زندگیاں برباد کر لیتے ہیں ۔زندگی جو انمول ہے وقت کی تجوری سے جو خزانہ خرچ ہو گیا وہ کبھی واپس نہیں آتا۔ ہمارے ہاتھ میں جو وقت ہے وہی اصل میں ہماری زندگی ہے۔سستی اور کسلمندی کا آسیب اس انمول زندگی کو بے مول کر کے رکھ دیتا ہے۔ رسول پاک ﷺ نے بھی سستی سے پناہ مانگی۔ نبی رحمتﷺ کی ایک مسنون دعا کا مفہوم ہے۔اے اللہ میں غم اور حزن سے ‘ بے بسی اور کسل مندی(سستی) سے بخیلی اور بزدلی سے پناہ مانگتا ہوں۔ہم سب کو یہ دعا اپنی روز کی دعائوں کا حصہ بنانی چاہیے انتہائی جامع دعا ہے۔ سستی کا شکار انسان اندر سے مایوس ہوتا ہے۔ ناامیدی کی کیفیت انسان میں بے عملی کا رجحان پیدا کرتی ہے۔ سستی کے متضاد رویے ہیں محنت کشی،حوصلہ مندی ،مستقل مزاجی، لگن، ولولہ، جوش ارادے کا پکا ہونا اور یہ تمام رویے جس شخص میں ہوں گے وہ اپنے کے انمول خزانے کی قدر کرنے والا ہو گا۔وہ اپنے وقت کی قدر کرنے والا ہو گا وہ ہر روز اپنے مقاصد کی فہرست بنا کر انہیں حاصل کرنے اور کام مکمل کرنے کی لگن میں رہے گا۔ سوشل میڈیا پر بے مقصد کی سکرولنگ اورتانک جھانک کرتے ہوئے اسے احساس ہو گا کہ وہ وقت کا خزانہ غلط جگہ لٹا رہا ہے۔ تبھی ایسے لوگ آپ کو ہمہ وقت سوشل میڈیا کے تھڑے پر بیٹھے ہوئے دکھائی نہیں دیں گے، زندگی میں وہی کامیاب ہیں جو وقت کی اس طرح قدر کر سکیں۔ دوستو!سیون،ڈیڈلی سنز۔ کا تذکرہ کالموں میں تمام ہوا اب آپ بھی میرے ساتھ کوشش کیجیے کہ جہاں تک ہو سکے گا ہم اپنی ذات میں اگی منفی رویوں کی ان خاردار جھاڑیوں کو کاٹ کر پھینکتے رہیں گے اور اپنی ذات کی مٹی میں توازن اور رواداری کے بیج بوئیں گے اور مثبت رویوں کی پنیری لگائیں گے۔ انشاء اللہ۔