’’میں پختون نیشنلسٹ ہوں اور مجھے اپنے پختون ہونے پر فخر ہے، کیا یہ بات درست ہے کہ آپ پختون ہیں ؟‘‘ ’’جی ہاں ! اگرچہ میرے پختون ہونے میں میرا کوئی ہاتھ نہیں لیکن میں ہوں پختون ہی‘‘ ’’میرا کوئی ہاتھ نہیں کا کیا مطلب ؟‘‘ ’’مطلب یہ کہ نہ تو میں کسی ذاتی جد و جہد کے نتیجے میں پختون پیدا ہوا ہوں اور نہ ہی میں نے مقابلے کا کوئی امتحان دے کر پختون ہونا کوالیفائی کیا ہے، بلکہ یہ محض ایک واقعہ ہے کہ میں پختون قوم سے تعلق رکھتا ہوں لہٰذا کسی قوم پرست پختون کی طرح میں اس پر کوئی فخر وغیرہ نہیں کرتا۔ فخر تو اس چیز پر کیا جاتا ہے جس میں ذاتی عزم اور محنت شامل ہو‘‘ ’’یہ کیا بات ہوئی، کیا آپ اپنے مسلمان ہونے پر فخر نہیں کرتے ؟ مسلمان بھی تو آپ پیدائشی ہیں‘‘ ’’لاحول ولاقوۃ… میں پیدائشی مسلمان ضرور ہوں لیکن شعوری عمر میں پہنچ کر میں نے اپنے مسلمان ہونے پر بہت تفصیلی غور و خوض کیا ہے۔ جو عقائد بچپن سے مجھے سکھائے اور پڑھائے گئے ان کا آزادانہ علمی جائزہ لے کر اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ میں محض موروثی طور پر مسلمان نہ رہوں بلکہ اچھی طرح دیکھ بھال لوں کہ جو مذہب میراث میں ملا اسے میرا شعور قبول بھی کرتا ہے کہ نہیں ؟ اس طویل غور و خوض کے دوران بعض اشکالات کے حوالے سے اپنے اساتذہ اور بڑوں سے طویل مکالمے بھی کئے۔ یہ ڈھائی تین برس کی ایک باقاعدہ محنت تھی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج میں کہہ سکتا ہوں کہ میں محض موروثی مسلمان نہیں ہوں بلکہ اسلام سے وابستگی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے فضل و احسان کے ساتھ ساتھ میرا اختیاری فیصلہ بھی ہے۔‘‘ ’’لیکن اپنے مسلمان ہونے پر آپ فخر تو کرتے ہیں نا ؟‘‘ ’’آپ بات سمجھے نہیں ! میں اپنے مسلمان ہونے پر فخر اس لئے کرتا ہوں کہ اب یہ میرا اختیاری مذہب بھی ہے۔ میرے پاس یہ آپشن موجود تھی کہ اگر مجھے اسلام کی حقانیت سمجھ نہیں آتی تو اس کے دائرے سے نکل جاؤں اور کوئی اور مذہب اختیار کر لوں یا سرے سے لادین ہی ہوجاؤں۔ لیکن میں نے اس آپشن کو استعمال نہیں کیا بلکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اسلام ہی سے خود کو وابستہ رکھا۔ اب یہاں ایک اور دلچسپ نکتہ بھی سمجھ لیجئے کہ اسلام کے دائرے سے صرف نکلنے کی ہی آپشن نہیں بلکہ ہمارے برصغیر پاک و ہند میں تو نکالنے کی بھی آپشن کچھ لوگوں نے اپنے ہاتھ میں لے رکھی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا میرے پاس پختون قومیت کے دائرے سے نکلنے کی آپشن بھی ہے ؟ یا کسی اور کے پاس یہ آپشن ہے کہ مجھے دائرہ پختونیت سے نکالدے ؟ سو جس چیز سے نہ میری وابستگی اختیاری ہے اور نہ ہی سے اس نکلنے کی میرے پاس آپشن ہے اس پر فخر کیسا ؟‘‘ ’’ اگر فخر نہیں ہے تو کیا شرمندگی ہے ؟‘‘ ’’قطعا نہیں ! میں اپنے پختون ہونے پر اتنا ہی مطمئن ہوں جتنا کوئی پنجابی، سندھی، بلوچ یا کسی اور قومیت کا فرد اپنی قومیت پر۔‘‘ ’’اگر اس پر فخر کرلیا جائے تو حرج کیا ہے ؟‘‘ ’’بات حرج کی نہیں جواز کی ہے۔ سکول سے لوٹتا ایک بچہ گھر آتا ہے اور مسرت بھری آواز میں بڑے فخر کے ساتھ خبر دیتا ہے کہ میں فرسٹ آیا ہوں تو اس کے اس فخر کا اس کے پاس جواز ہوتاہے۔ اس نے تیس چالیس بچوں کی کلاس میں وہ پوزیشن حاصل کی ہوتی ہے جو اس کی کلاس میں کوئی اور حاصل نہیں کر سکا۔ آپ جہاں بھی فخر دیکھیں گے تو ساتھ ہی اس کا یہ جواز بھی دیکھیں گے کہ کسی نے اپنی محنت سے کوئی معرکہ سر کرکے بہت سے لوگوں کو پیچھے چھوڑا ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ میں نے پختون کے طور پر پیدا ہوکر کسے پیچھے چھوڑا ہے ؟ یہ عجیب و غریب ہی فخر ہوگا کہ میں اعلان کردوں کہ حضرات مجھے فخر ہے کہ میں پختون ہوں اور جواب میں مجلس میں بیٹھا پنجابی یہ کہہ کر میرا فخر مجھ سے چھین لے کہ مجھے بھی فخر ہے کہ میں پنجابی ہوں۔ صرف پنجابی ہی نہیں بلکہ اسی مجلس میں بیٹھے سندھی اور بلوچ بھی یہی بات کردیتے ہیں۔ اگر پنجابی، سندھی اور بلوچ ہونا بھی باعث فخر ہے تو پھر میرا امتیاز کیا رہا ؟ فخر تو امتیاز پر ہی کیا جاتا ہے۔ سو اسی لئے عرض گزار ہوں کہ قومیت میں فخر کی کوئی ایک بھی وجہ نہیں پائی جاتی جس چیز سے وابستگی محض غیر اختیاری واقعہ ہو اس پر فخر کا کیا جواز ؟‘‘ ’’تو خلاصہ یہ ہوا کہ آپ نے پختونوں کے حقوق کے لئے آواز نہیں اٹھانی ؟‘‘ ’’دیکھئے ! ہمارے آئین میں پختونوں، پنجابیوں، سندھیوں، بلوچیوں وغیرہ کے حقوق کی بات نہیں ہوئی بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری کے حقوق کا تعین ہوا ہے۔ ہمارا المیہ یہ نہیں کہ کسی ایک یا دوچار قوموں نے سارے حقوق قبضہ کر رکھے ہیں اور اس میں سے پختونوں کو ان کا حصہ نہیں دے رہے۔ بلکہ المیہ یہ ہے کہ احساس محرومی ہر طرف پھیلا ہوا ہے۔ آپ لاہور کے ہسپتالوں کا چکر کاٹ کر دیکھیں گے تو نظر آئے گا کہ لاکھوں پنجابیوں کو کماحقہ صحت کے حقوق میسر نہیں۔ یہی چکر آپ باقی صوبوں کے ہسپتالوں کا بھی لگائیں گے تو نظر آئے گا کہ لاکھوں پختون، سندھی اور بلوچوں کو بھی صحت کے حقوق میسر نہیں۔ جب ساری ہی لسانی اکائیاں یکساں طور پر محروم ہیں اور فی الحقیقت صورتحال یہ ہے کہ کسی ایک لسانی اکائی نے باقی لسانی اکائیوں کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈال رکھا بلکہ اشرافیہ نامی اقلیت نے کروڑوں عام شہریوں کے حقوق کو لوٹ رکھا ہے تو پھر کامیابی کی ضمانت تب ہی مل سکتی ہے جب تمام لسانی اکائیوں کے محروم افراد ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر اشرافیہ کے خلاف متحد ہوجائیں۔ اگر حقوق کی جنگ لڑنی ہے تو پاکستان کی تمام لسانی اکائیوں کو ساتھ ملا کر لڑنی ہوگی۔‘‘