ہم محبت میں نیا رنج اٹھانے کے نہیں زخم وہ دل پہ لگے ہیں کہ دکھانے کے نہیں خود ہی اک روز نکل آئے گا دیوار سے در ہم وہ خود سر ہیں کہ اب لوٹ کے جانے کے نہیں آغاز محبت ہی سے ہونا چاہیے۔ یہ محبت بھی عجیب ہے میں محبت کو زندگی سمجھا۔ اس محبت نے مار ڈالا مجھے۔ بات حکومت کی کریں یا اپوزیشن کی بنیاد اس کی محبت ہے یعنی اپنے آپ سے محبت۔ محبتوں میں تعصب تو در ہی آتا ہے۔ ہم آئینہ نہ رہے تم کو روبرو کر کے۔ بات کو الجھانے کی بجائے پہلے حکومت کی بات کرتے ہیں کہ جو ہر روز ایک نیا ایشو لے کر آتی ہے اور لوگوں کی توجہ کچھ روز کے لیے مہنگائی سے ہٹ جاتی ہے۔ ایک ہزار ایک ایشوز ہیں۔ تازہ ترین 2023ء کے انتخابات کے لیے نئی مردم شماری ہے۔ دوسری طرف الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا ایشو ہے۔ منیر نیازی یاد آئے: ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا حامل بست و کشاد کا کہنا ہے کہ مشرف بھی مردم شماری نہ کروا سکے۔ مردم شماری تو ہم کروالیں گے۔ کوئی دو نمبری نہیں ہوگی۔ پورے پورے بندوبست کئے جائیں گے۔ حاصل یقیناً اس سارے کھلار کا یہ ہوگا کہ عمران خان دوسری مرتبہ وزیراعظم ہوں گے۔ اسے کہتے ہیں دشمن کے سینے پر مونگ دلنا۔ ویسے تو حکومتی وزرا ء کافی مطمئن ہیں مگر ووٹنگ مشین سے وہ معاملے کو فول پروف بنانا چاہتے ہیں تاکہ ن لیگ جعلی ووٹوں کو اپنے حق میں نہ ڈلواسکے دوسری طرف کچھ کچھ گرین سگنل بلاول کی چہکار سے عیاں ہوتے ہیں جو بھی ہو ووٹ کو عزت دینے کا پروگرام کسی کا نہیں۔ اپنے دوست نثار اکبر آبادی یاد آئے: پھر کیوں ہے غریبوں کے دکانوں میں اندھیرا یہ چاند اگر سارے زمانے کے لیے ہے ن لیگ کی طرف سے خاموشی ہے مگر خاموشی طوفان کا پیش خیمہ بھی ہو سکتی ہے۔ شاید اسی بنیاد پر ہارون الرشید صاحب نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بلدیاتی الیکشن کی غلطی خان صاحب کر بیٹھے تو یہ خودکشی ہوگی۔ لوگ واقعتاً روز افزوں گرانی سے کچھ زیادہ ہی تنگ ہیں۔ ان کی رائے لینے کی جرأت نہ ہی کی جائے تو بہتر ہے۔ حکومت شاید اس پر مطمئن ہے کہ طالبان کی فتح سے پاکستان کی صورتحال فی الحال احساس انبساط کے باعث بہتر ہے۔ لوگ خارجی صورت حال کی طرف متوجہ ہیں۔ یہ بات درست بھی ہے مگر عام آدمی کا مرکز اس کے گھر کا بجھتا ہوا چولہا ہے۔ یوٹیلیٹی بلز ہیں اور آٹا ہے جوکہ پھر مہنگا ہو چکا ہے۔ ایک اور مسئلہ طریقہ انتخاب ہے جس میں حکومت اور الیکشن کمیشن بالکل آمنے سامنے ہیں۔ بات اس نہج پر آ گئی ہے کہ باقاعدہ دو متحارب گروپ بن گئے ہیں۔ فواد چوہدری نے تو سچ صاف کہہ دیا ہے کہ الیکشن کمیشن والے سیاست کرنا چاہتے ہیں تو ادارہ چھوڑ کر میدان میں آ جائیں۔ یہ بات درست بھی لگتی ہے کہ ضمنی الیکشن کے دوران چیئرمین الیکشن کمیشن کا لہجہ کچھ تندوتیز تھا وغیرہ وغیرہ۔ مگر ایک آئینی ادارے کو دھمکی آمیز لہجے میں یہ کہنا کہ وہ الیکشن کمیشن کو آگ ہی لگا دیں گے یا ان کی یہ خواہش ہے کہ تو یہ بہت ہی زیادہ تشویش کی بات لگتی ہے۔ لوگ اسے پی ٹی آئی کی پالیسی قرار دے رہے ہیں کہ ابھی تک وہ کنٹینر سے نہیں اتری۔ دیکھا جائے تو چیئرمین الیکشن کمیشن لانے میں صرف ن لیگ اور پیپلزپارٹی ہی نہیں خود پی ٹی آئی کی حمایت بھی شامل تھی۔ یہ بالکل اسی طرح ہے کہ پکڑ دھکڑ پر ن لیگ اور پیپلزپارٹی چیختی تھی تو کہا جاتا تھا کہ چیئرمین نیب کو لانے میں دونوں پارٹیاں پوری طرح متفق تھیں: الجھا ہے پائوں یار کا زلف دراز میں لوآپ اپنے دام میں صیاد آ گیا بہرحال نرم سے نرم الفاظ میں بھی حکومتی وزرا کا رویہ مناسب نہیں ہے۔ یا تو وہ کھیل خراب کرنا چاہتے ہیں مگر مقابل جو لوگ ہیں وہ کسی کو شہادت کا رتبہ حاصل نہیں کرنے دینا چاہتے۔ ایک تلخی اس بات پر بھی ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس فارن فنڈنگ کیس کی تلوار بھی ہے۔ دوسری طرف یہ کہنا کہ الیکشن کمیشن نے پیسے کھائے ہوئے ہیں۔ ایک تیر سے تین نشانے لگانے والی بات ہے۔ ظاہر ہے یہ رقم ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی طرف سے ہی ہو سکتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن تو پیسے دینے سے رہے۔ بلاول تو کھل کر بول رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے حملہ آورہونے والوں کو نااہل کرے۔ دیکھئے الیکشن کمیشن کا ردعمل کیا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے ثبوت وہ مانگیں گے۔ سب سے بہترین اور دلچسپ بیان ہمارے وزیر اعلیٰ پنجاب کا ہوتا ہے اور یہ بیان سینکڑوں مرتبہ ایسے ہی چھپ چکا ہے جیسے کسی طویل نظم میں ٹیپ کا مصرع ہوتا ہے۔ وہ بیان یہ ہے۔ ہماری سیاست صرف عوام کی خدمت ہے۔ اس بیان کی طرح بیان وزیراعظم کا بھی ہوا کرتا تھا۔ وزیراعظم نے مہنگائی کا نوٹس لے لیا ہے۔ پھر انہوں نے ہر چیز کا نوٹس لینا شروع کردیا۔ پھر وہ اس وقت تک نوٹس لیتے رہے جب تک لوگوں نے ہاتھ کھڑے نہیں کردیئے۔ سب سے زیادہ سخت نوٹس آٹے کا لیا جو 1200 روپے تک پہنچ گیا: دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں واقفان حال تو بتاتے ہیں کہ انتخابات وقت سے پہلے ہونے کا امکان ہے اور ایسا لگتا بھی ہے، کام زیادہ بڑھنے سے پہلے ہی یہ کام ہو جائے۔ شاید اسی لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی مخالفت کی جائے گی کہ جلد سے جلد فیصلہ ہو جائے۔ اپوزیشن کے ردعمل پر باقی فیصلے ہوں گے۔ حکومت نئے انداز انتخاب سے اپوزیشن کو مطمئن نہیں کرسکتی کہ اپوزیشن کا ’’کوا سفید ‘‘ہی ہے اور ان کی نیت ٹھیک نہیں۔ ویسے بھی کوئی انتخابی اصطلاحات بھی نہیں ہو سکیں۔ مولانا کی تقریر اور بلاول کے اعتماد سے لگتا ہے کہ جیالے راج کریں گے مگر ان کا پنجاب بہت کمزور ہے۔ کچھ کچھ ملتان بھی مضبوط ہے۔ شبلی فراز اپنی جگہ ہنس اور مسکرا رہے ہیں اوراپوزیشن نے ووٹنگ مشینوں کے استعمال کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنایا ہوا ہے۔ چلیئے مشینوں کے حوالے سے اقبال کے شعر کو دہرالیں: ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات