مکرمی! آج یہ بات آپ کے اخبار کے توسط سے عالم اسلام کے سامنے پیش کر رہا ہوں کہ گزشتہ کئی دنوں سے ظالم اسرائیلی فوج طاقت اور جبر کے زور نہتے ہوئے مظلوم فلسطینی بھائیوں کی خون بہا رہا ہے اور ان کی زمین اور جائیدادوں پر قابض ہو رہی ہے۔ فلسطینیوں کے بستیوں اور گھروں پر میزائل حملے جاری ہیں۔ لیکن سوائے چند مسلم سربراہانِ مملکت کے مذمتی بیانات جاری کرنے اور رسمی طور پر اظہار یکجھتی اور ہمدردی کا اظہار کے کچھ نہیں کیا گیا۔ مظلوم فلسطینیوں کے مدد کے لیے کھل کر سامنے کوئی نہیں آرہا۔ دہائیوں سے اسرائیل فلسطینیوں کے آبادیوں پر مْسلسل ناجائز حملہ آور ہو کر قبضہ کر رہا ہے، لیکن اس بات کو یکسر نظر انداز کر کے حال ہی میں یو اے ای کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنا اور ان سے اپنے سفارتی تعلقات قائم کرنا ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنانے کی کوششوں کو سخت ٹھیس پہنچی ہے جو فلسطینیوں کی خون سے غداری مترادف ہے۔ او آئی سی جو کہ ایک مسلم ملکوں کی علاقائی سالمیت کو تحفظ فراہم کرنے کی ایک مضبوط تنظیم ہے جس کی یہ بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کسی ممبر مسلم ملک پر کسی بھی بیرونی طاقت کے قبضے، بلا وجہ حملہ آور ھونے یا ناانصافی کی صورت میں عسکری مدد اور ساتھ دے لیکن آج اجتماعی مفادات سے بالاتر ہو کر اپنے ذاتی مفادات اور لالچ کی وجہ سے فلسطین کے معاملے میں او آئی سی کا کردار انتہائی مایْوس کن ہے۔ (نورخان بکھرانی تنگوانی)