مکرمی ! یروشلم یا القدس شہر مسلمانوں کا قبلہ اول مسجداقصی یہاں ہونے کی وجہ سے یہودیوں کے حضرت سلیمان علیہ السلام کا تعمیر کردہ معبد جو بنی اسرائیل کے نبیوں کا قبلہ تھا اور عیسائیوں کیلئے حضرت عیسی علیہ السلام کی جائے پیدائش اور تبلیغ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودی تینوں کے نزدیک مقدس ترین شہر سمجھا جاتا ہے اورمشرقی یروشلم اسرائیل اور فلسطین تنازع میں مرکزی اہمیت رکھتا ہے دونوں فریق اس پر اپنے حق کا دعویٰ کرتے ہیں اسرائیل نے سنہ 1967ء میں ہونے والی چھ روزہ جنگ کے بعد سے اس پر قبضہ حاصل کرلیا تھا جو آج تک قائم ہے اسرائیل پورے شہر کو اپنا دارالحکومت کہتا ہے اور مسجد اقصی کو کسی طرح سے شہید کرکے یہاں ہیکل سلیمانی کو از سر نو تعمیر کرنے کی کئی دیہائیوں سے کوششوں میں ہے ایسی ہی ایک کوشش میں 21 اگست 1969ء کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلہ اول کو آگ لگا دی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہو گیا جسے قبلہ اول کا قبضہ چھڑوانے کیلئے 16جنگیں لڑنے والے عظیم فاتح صلاح الدین ایوبی نے2 اکتوبر سن 1187 ء میں فتح بیت المقدس کے بعد نصب کیاتھا صرف پڑوسی ملک اردن، ترقی، پاکستان سمیت چند دیگر مسلم ممالک کے حکمرانوں نے اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے اقدامات کی مذمت کی ہے اور 56سے زائد اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم موتمر عالم اسلامی (او،آئی،سی)کی جانب سے حسب روایت کوئی خاطر خواہ رد عمل سامنے نہیں آیااور سعودی عرب کی زیر قیادت فوجی اتحاد بھی خاموش ہے فلسطینی مسلمانوں پراسرائیل کے بدترین ظلم و جبر پرغیروں کی خاموشی تو برحق لیکن 56سے زائد مسلم ممالک کے بے حس حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی اور بعض ممالک کی جانب سے قاتل قابض اسرائیل کے ساتھ دوستی پراور خواب غفلت میں ڈوبی امت مسلمہ کی حالت دیکھ کر مسجد اقصی یقینا آج پھرکسی غیرت مند مجاہد اسلام صلاح الدین ایوبی کو پکارتے ہوئے اسکی راہ تک رہی ہے۔ (امتیاز علی آرائیں‘حیدرآباد )