مکرمی !گلگشت وخلد ارضی،جنت ِ بے نظیر کشمیر کے موجودہ حالات وواقعات اور عالمی منظر نام پر ایک نظر عمیق ڈالی جائے تو ہر ذی شعور و ذی فہم سمجھ سکتا ہے کہ جو مسئلہ شمشیر سے حل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا تھا ،سفارتی جارحانہ پالیسی کی بنا پر عالم کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔بلا تعصب و بلا مبالغہ ہمیں یہ بات تسلیم کر لینی چاہئے کہ رواں دور میں شمشیر اور توپ وتفنگ مسائل کا حل نہیں ہیں۔جارحانہ سفارتی پالیسیاں اور عالمی رائے عامہ کی ہمواری بھی ایٹم بم جتنا ہی کردار ادا کرتے ہیں۔اگرچہ کشمیر میں بے رحم ہندوئوں کی طرف سے لگائے گئے کرفیو کو چار عشرہ سے بھی زیادہ کا عرصہ ہو چکاہے جو اپنی جگہ کسی ظلم و بربریت سے کم نہیں،اس دوران بچے دودھ کو ترس رہے ہیں،بیمار دوائیوں کے انتظار میں موت کو گلے لگا رہے ہیں،خواتین اپنے جگر گوشوں کو موت کی آغوش میں سلا رہی ہیں،نوجوان آزادی کی خاطر شہادت کی موت کو گلے لگانے کو بے تاب ہیں، سلام ہے اس حکومت کو کہ جس نے کشمیر کے مسئلے کو ایک نئے انداز میں لڑنے کے لئے چومکھی بچھایا یعنی سفارتی جارحانہ پالیسی اور اقوام عالم کے ذریعے دنیا کی رائے کو ہموار کرنا کہ کشمیر ایک متنازع مسئلہ ہے اور اب اسے اقوام متحدہ کی قرارداوں کے مطابق حل ہونا چاہئے، سکیورٹی کونسل اور یورپی یونین کونسل کے بیانات اس بات کی غمازی کر رہے ہیں کہ مسئلہ کشمیر ایک متنازع مسئلہ ہے اور اسے فریقین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے ۔(مراد علی شاہدؔدوحہ قطر)