نیویارک (نیٹ نیوز)عالمی سرمایہ کار پاکستان کے بانڈز میں جتنی دلچسپی دکھا رہے ہیں ایسا پہلے دیکھنے میں نہیں آیا۔ معاشی اصلاحات، آئی ایم ایف کی مدد اور 13فیصد سے زیادہ شرح منافع نے فکسڈ انکم کو زیادہ پرکشش بنا دیا ہے ۔امریکی اخبار بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی بانڈز میں دلچسپی نے مصر کے فنڈ مینجرز کی یاد دلا دی جب اس ملک نے 2016 میں آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج لینے کا معاہدہ کیا تھا۔معاشی ترقی، مہنگائی میں کمی اور غیرملکیوں کیلئے مراعات سے یہ معاہدہ گیم چینجر ثابت ہوا ۔لندن کی بلو بے ایسیٹ مینجمنٹ کمپنی کے ماہر ٹم ایش کے مطابق لوگ پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں جیسا کہ مصر کی کہانی بھی اس سے ملتی جلتی ہے جہاں لوگ اچھا پیسہ کما رہے ہیں۔ اس مفروضے کے مطابق کہ کرنسی کی قیمت طے کرنے اور ریٹس زیادہ ہونے سے بانڈز کی قدر بڑھے گی، اس لئے پیسہ لگانا سودمند ہوگا۔ٹم ایش نے کہا مصر اور یوکرائن کی نسبت پاکستان میں ریٹس کم ہیں، اس وقت کے مقابلے میں جب ان دونوں ملکوں میں سرمایہ آنا شروع ہوا تھا،اس لئے پاکستان میں یہ سرمایہ کاری زیادہ بہتر ہو گی۔پاکستان کا مصر سے موازنہ اس وقت حسب حال ہوا جب حکومت نے رضا باقر کو سٹیٹ بینک کا گورنر مقرر کیا، باقر اٹھارہ سال آئی ایم ایف میں اعلیٰ عہدے پر فائز رہے اور وہ بیل آؤٹ پیکج کے وقت مصر میں آئی ایم ایف کے ریذیڈنٹ نمائندے تھے ۔برطانیہ کے اشمور گروپ کے ماہر اینڈریو برڈینل کے مطابق یہ تبدیلی نئے وزیر خزانہ، نئے سٹیٹ بینک کے گورنر اور حکومت کی عالمی سرمایہ کاروں سے بہتر روابط بنانے میں سنجیدگی کی عکاسی کرتی ہے اور یہ اچھے آثار ہیں۔