مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کے لگائے ہوئے کرفیو کو 87 دن ہو گئے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں72 سال سے کوئی نہ کوئی خوفناک سانحہ اوررونگٹے کھڑاکرنے والا حادثہ رونماہوتارہتاہے۔ ان سانحات اورحادثات کاآغاز 27اکتوبر 1947ء کواس وقت شروع ہواکہ جب بھارتی فوج کا پہلا دستہ سرینگر کے ائیر پورٹ پر اترا اورکشمیرکی تاریخ کا تیرہ بخت باب قلمبند ہونا شروع ہوا۔یہ ایک المناک داستان ہے اور تاریخ انسانی کا سیاہ باب بھی کہ بھارت نے برطانوی غلامی سے رہائی اور آزادی پانے کے بعد فورا کشمیریوں کاحق خودارادیت چھین لیا۔ حالانکہ انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ کشمیر پر تقسیم برصغیر کا فارمولہ نا فذ العمل کیا جاتالیکن ہواکچھ اور۔ 27اکتوبرکوتاریخ جموں وکشمیرکاسیاہ ترین دن ہے اور بھارتی فوج کشی جمہوریت پسند دنیا اقوام متحدہ اورسلامتی کونسل کیلئے بھی ایک لمحہ فکریہ ہے کہ سات دہائیاں گزرجانے کے بعدبھی کشمیرسے متعلق قراردادوں کوروبہ عمل لانے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے ۔ 27اکتوبر1947ء کے سیاہ دن لاتعدادکشمیری خاندان جلا وطن اوربے شمار لاپتہ ہوئے۔ اکتوبر1947 ء کو سفاک بھارتی فوجیں سرینگر ائیر پورٹ پر اتر یں اور کشمیر ایک بد ترین گھور اندھیرے میں گم ہو کر رہ گیا۔ بھارت کی فوج نے سرینگر ائیر پورٹ کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد چن چن کر بھارت مخالف مسلم سیاسی کارکنوں کو گرفتار اورشہید کرنا شروع کیا ۔ ظلم اوربربریت جاری رکھتے ہوئے بھارت کی قاتل فوج تیزی سے پوری ریاست جموں وکشمیر میں پھیلتی چلی گئی۔دھوکہ بازاورمکار بھارت کی غاصب فوجیں،بدترین مسلم دشمن بھارتی لیڈرپنڈت نہرو اکے اس دعوے کے ساتھ کشمیر میں آئیں کہ بقول اس کے حالات بہتر ہوتے ہی واپس چلی جائیں گی اور کشمیریوں کو اپنے مقدر اور مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دیاجائیگا۔مظلوم کشمیریوں کی مددکوآنے والاقبائلی لشکر واپس چلا گیا لیکن بھارت نے اپنا وعدہ پورا کرنے کی بجائے کشمیر کو مستقلًا اپنے دیوہیکل حجم میںضم کرنے کی کوشش شروع کی۔بھارت کی اس بدنیتی سے روزاول سے ہی یہ بات الم نشرح ہوچکی تھی کہ 27اکتوبر1947، کوکشمیرپربھارتی فوج کشی کا مقصد صرف اورصرف کشمیرہڑپ کرنااوراس سرزمین پر اپنی قوت کااپنا سکہ جمانا تھا۔ 27اکتوبر1947، سے آج تک بھولے سے بھی کشمیری مسلمانوں کی رائے ، اقوام متحدہ کی قراردادوں، پنڈت نہرو کے وعدوں سمیت کسی بات کا احترام نہ ہوا۔ اس لئے کشمیری عوام گذشتہ ستربرسوں سے 27 اکتوبر کونہ صرف یوم ماتم، یوم غم اور یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں۔27 اکتوبر کے ساتھ کشمیریوں کی بد قسمتی کی کہانی وابستہ ہو کر رہ گئی اور اب یہ کشمیر میں ایک معتبر روایت ہے کہ27 اکتوبرکل کی طرح آج بھی کشمیر کے عوام کو غمزدہ اور کشمیر کے ماحول کو سوگوار کر دیتا ہے۔ یہ دن اہل کشمیر کو بد قسمتی کی داستان یاد دلاتا ہے کہ جب طویل جدوجہد کے بعد برصغیر آزادی سے ہمکنار ہوا تھا۔ کشمیر یوںکو ناکردہ گناہوں کی پاداش میں سزا دی گئی۔ اسی جرم بے گناہی کا احساس کشمیریوں کو اغیارکی غلامی کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرنے دے رہا اور وہ نسل در نسل آزادی اور حق خود ارادیت کے لئے جدوجہد کرتے چلے آرہے ہیں۔ گذشتہ 72برس کی تاریخ شاہدوگواہ ہے کہ بھارت سفاک کے جبرکے باوجودکشمیریوں نے خود کو ذہنی اور عملی طور پر ایک طویل جدوجہد کے لئے تیار کر لیااوردہلی سے راہ و رسم بڑھانے ، بھارت کے ماحول ہی رچ بس جانے کی بجائے اپنی انفرادیت اور اپنے تشخص کی بحالی کے لئے خود کو اپنے خول میں بند کر دیا۔ کشمیریوں نے دہلی کو ایک الگ دنیا سمجھ کر اس سے ذہنی اور قلبی دوری برابر قائم رکھی اور آج بھی دہلی کے ماحول ، مزاج اور رویوں کا کشمیر کی عوامی زندگی سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ کشمیریوں نے خود کو (Self Centred)بنا کر دہلی کے ساتھ کوئی جذباتی، نظریاتی یا سیاسی رشتہ قائم نہ رکھا۔ اس کی وجہ یہ احساس تھا کہ اگر انہوں نے دہلی کے ساتھ گھلنے ملنے کی کوشش کی تو یہ کشمیر کی قومی شناخت کو مسخ کر کے انڈینائزیشن کی کوشش کرے گا۔یہی وجہ ہے کہ کشمیری عوام اور بعض سیاسی اور دینی شخصیات نے ایسی حکمت عملی اختیار کی کہ جس سے کشمیر کا اسلامی تشخص کسی نہ کسی طور برقرار رہا۔ کشمیری معاشرے نے اپنی کشمیری روایات کو برقرار رکھ کر اسے بھارتی استعمارکی یلغاروںکی نذر ہونے سے بچائے رکھا۔ دلی نے کشمیریوں کے ان جذبات کو ترغیب و تحریص سیاہ قوانین اورظلم وبربریت کے ذریعے دبانے اور ختم کرنے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش کامیاب نہیں ہوئی اورکشمیر کی متنازعہ حیثیت کا احساس کشمیریوں کے دماغوں کی ایک خلش بن کر نسل در نسل منتقل ہوتارہا۔آج جب پاکستان کاسبزہلالی پرچم کے زیر سایہ کشمیرکانوجوان ہندوسے آزادی حاصل کرنے کے لئے اپنی جوانی قربان کرتاہے اوراس کاکفن بھی پرچم پاکستان بن رہاہے تویہ اسی طویل جدوجہدکاحتمی فیزہے۔یہ دراصل دوقومی نظریئے کی تکمیل ہورہی ہے اس سے بڑھ کر دوقومی نظریئے کے ساتھ وفاداری کا کیا ثبوت ہو سکتاہے ۔کشمیریوں کے لا شے سبز ہلالی پرچم میں لپٹے ہوئے ہیںاوروہ بھارتی ترنگے کے مقابلے میں سبزہلالی اسلامی پرچم کوتھامے اورچومتے ہوئے مسلمان ریاست پاکستان کے ساتھ وفا کی ایک نئی تاریخ اپنے خون سے رقم کر رہے ہیں۔وفا شعاروں کے اس قافلے کی منزل صرف اور صرف پاکستان ہے۔آزادی کا سافٹ وئیر نئی نسل میں انسٹال کر دیا گیا ہے۔ 1947ء سے کشمیرکی جدوجہدآزادی مختلف ناموں ، مختلف تنظیموں اور مختلف شخصیات کی صورت مختلف ادوار میں جاری رہی۔ اس طویل جدوجہد میں کشمیریوں نے ہمیشہ 27اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پر منایا۔ 27 اکتوبر کے ساتھ کشمیریوں کی بد قسمتی کی کہانی وابستہ ہو کر رہ گئی اور اب یہ کشمیر میں ایک معتبر روایت ہے کہ27اکتوبر کشمیر کے عوام کو غمزدہ اور کشمیر کے ماحول کو سوگوار کر دیتا ہے۔ یہ دن اہل کشمیر کو بد قسمتی کی داستان یاد دلاتا ہے کہ جب طویل جدوجہد کے بعد برصغیر آزادی سے ہمکنار ہوا تھا۔ کشمیر یوںکو ناکردہ گناہوں کی پاداش میں سزا دی گئی۔ اسی جرم بے گناہی کا احساس کشمیریوں کو اغیارکی غلامی کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرنے دے رہا اور وہ نسل در نسل آزادی اور حق خود ارادیت کے لئے جدوجہد کرتے چلے آرہے ہیں۔