سرینگر، نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی اپنی فوج کے مظالم چھپانے کی مذموم کوشش ،مسلم ممالک کے ٹی وی چینلز پر پابندی لگادی جبکہ قانون ساز اسمبلی کے سپیکر نرمل سنگھ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیاگیا، 106 ویں روز بھی لاک ڈاؤن مسلسل جاری ہے ۔ غیر انسانی لاک ڈاؤن پیر کو مسلسل 106 ویں روز بھی جاری رہا۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مقبوضہ علاقے میں دفعہ 144 کے تحت بھی سخت پابندیاں نافذ ہیں جہاں بھارت کے کشمیر دشمن اقدامات کے باعث عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ انٹرنیٹ ، ایس ایم ایس اور پری پیڈ موبائل نیٹ ورکس پر مکمل پابندی کے علاوہ موسم سرما کے آغاز نے بھی کشمیریوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کردیاہے ۔بھارتی حکومت نے مسلم ممالک کے ٹی وی چینلز پر پابندی لگاتے ہوئے کیبل آپریٹروں کو پاکستان ، ایران ، ترکی اور ملائیشیا سمیت اسلامی ممالک ٹی وی چینل کی نشریات اپنے نیٹ ور ک کے ذریعے نشر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے ۔کشمیری خواتین کے بارے میں توہین آمیز بیان دینے پر سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں نے بھارتی فوج کے سابق جنرل کی شدید مذمت کی ہے ۔مقبوضہ جموں و کشمیر انتظامیہ نے قانون ساز اسمبلی کے سپیکر نرمل سنگھ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا جس کا نوٹیفکیشن جاری کردیاگیا۔ادھر بھارت کی لوک سبھا اجلاس میں فاروق عبداﷲ کی رہائی کا مطالبہ کیاہے ۔لوک سبھا میں قومی ترانہ ختم ہوتے ہی کانگریس کے رکن پارلیمان سوگاتا رائے نے آواز لگائی کہ سر ڈاکٹر فاروق عبداﷲ یہاں نہیں ،وزیر داخلہ ایوان میں آکر آگاہ کریں ۔مودی سرکارنے مقبوضہ کشمیر میں 35 مرکزی سیاستدانوں کوڈل جھیل کے کنارے سنٹور ہوٹل سے سرینگر میں ایم ایل اے ہاسٹل منتقل کرکے ہاسٹل کی سرکاری عمارت کو سب جیل قرار دیدیاگیا۔ قیدیوں میں پیپلز کانفرنس کے سجاد لون ، نیشنل کانفرنس کے علی محمد ساگر ، پی ڈی پی کے نعیم اختر اور سابق آئی اے ایس آفیسر شاہ فیصل شامل ہیں۔