سرینگر (نیوزایجنسیاں ) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشتگردی کی تازہ کارروائی کے دوران سوپور میں ایک نوجوان کو شہید کر دیاجبکہ مقبوضہ علاقے کا محاصرہ بدھ کو38ویں روز بھی جاری رہا۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سوپور میں آصف مقبول نامی نوجوان کار میں جا رہا تھا کہ بھارتی فوجیوں نے گولیاں چلا دیں جس کے نتیجے میں وہ شہید ہو گیا۔ قبل ازیں بھارتی فوج نے سوپور قصبے کے مختلف علاقوں میں گھروں پر چھاپوں کے دوران کم از کم آٹھ نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔ دریں اثنا پوری وادی کشمیر اور جموں خطے کی وادی چناب میں مسلسل 38ویں روز بھی کر فیو او ر پابندیاں برقراراور ذرائع ابلاغ کی معطلی کا سلسلہ جاری رہا۔ دکانیں اور کاروباری مراکز بند جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد ورفت معطل ہے ۔ قابض انتظامیہ نے یوم عاشور منانے پر پابندی لگادی تھی اور پہلے سے عائد پابندیاں مزید سخت کردی تھیں۔ تاہم مقبوضہ علاقے کے بعض حصوں میں لوگ کرفیو اور پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہو ئے یوم عاشور کے جلوس نکالنے کیلئے سڑکوں پر نکل آئے ۔ بھارتی پولیس نے ان پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا۔ کارگل میں ہزاروں عزادار گھروں سے نکلے اور مودی حکومت کے اقدام کی مذمت کی ۔ایس ایم ایچ ایس ہسپتال کے ڈاکٹروں نے بتا یا کہ ماہر ڈاکٹروں کیساتھ بر وقت رابطہ نہ ہونے سے کم از کم چھ مریض دم توڑ چکے ہیں۔مقبوضہ کشمیرمیں شدید علیل مریضوں کو لے جانے والی ایمبولینسوں کو بھارتی پولیس کی طرف سے روکا جانا معمول بن چکا ہے ۔ مقامی افراد نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ بھارتی فوجیوں نے ان کے گھروں پر چھاپے مارے اور اہلخانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور بجلی کے جھٹکے دیئے ۔انہیں مٹی کھانے اور آلودہ پانی پینے پر مجبور کیا۔ انہوں نے کہا بھارتی فوجی ان کے کھانے پینے کی اشیا کو زہر آلود کر رہے ، مویشیوں کو مار رہے ہیں ، خواتین کو زبردستی اٹھا لے جانے اور ان کیساتھ شادی کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔