سرینگر (نیٹ نیوز) مقبوضہ کشمیر میں صورہ کے بعد مزاحمت کا ایک نیا مرکز تشکیل پا رہا ہے ،سرینگر میں انچار جھیل کے کنارے انچار آبادی کے رہائشیوں کا کہنا ہے بھارت ہمارا جود مٹا دینا چاہتا ہے ، ہم اپنے بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔گزشتہ بیس پچیس سالوں میں یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ کشمیریوں نے بھارتی فوجیوں کو کسی علاقے میں گھسنے سے روک دیا ہو۔ انچار کے رہائشی بوڑھے ، جوان، عورتیں بچے سب رات کو جاگ کر پہرہ دیتے ہیں اور دن کے وقت متحد ہو کر بھارتی فورسز کا مقابلہ بھی کرتے ہیں۔ بھارتی فوج کیساتھ جھڑپ کے دوران خواتین بھی شانہ بشانہ مردوں کیساتھ ہوتی ہیں۔ فیضی نامی معمر خاتون نے کہا دوسرے لوگوں نے عظیم تباہی (قیامت) کے دن کا بس نام سنا ہے لیکن ہم پر تو روز قیامت ٹوٹتی ہے ۔بھارتی فوجیوں کے پاس بے تحاشا اسلحہ ہے ، ہمارے پاس کوئی ہتھیار نہیں، ہم بس اللہ کا نام لیتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اللہ ہی ہمیں انصاف دیگا۔50سالہ محمد سبحان نے کہ ہم تین وجوہات کیلئے رات کو پہرہ دیتے ہیں، فوج ہمارے کمسن بچوں کو اٹھا کر نہ لے جائے ، گھروں کو نقصان نہ پہنچائے اور ہماری عورتوں کی عزت محفوظ رہے ، ہم یہاں ڈٹے ہوئے ہیں اور ہم پورے کشمیر کی لڑائی یہاں سے لڑ رہے ہیں، بھارت ہمارا وجود اور ہماری تاریخ مٹا دینا چاہتا ہے لیکن ہم اسے ایسا نہیں کرنے دینگے ۔