مقبوضہ کشمیر میں کورونا سے 24گھنٹوں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 50ہو گئی ہے۔ جس کے بعد مقبوضہ وادی میں کورونا سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 2330تک پہنچ گئی ہے جبکہ اس دوران 3832 متاثرین کی رپورٹیں مثبت آئیں ہیں۔کورونا وبا کے باوجود مقبوضہ وادی میں کرفیو میں نرمی نہیں کی گئی۔ کورونا وائرس نے جس بری طرح بھارت کو اپنے منحوس پنجوں میں لے رکھا ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔بھارت میں آئے روز لاکھوں افراد اس وائرس سے متاثر ہورہے ہیں ،مریضوں کی تعداد میں اضافے کی صورتحال یہ ہے کہ ہسپتالوں میں مریضوں کو رکھنے کے لئے جگہ نہیں ہے۔ فٹ پاتھ‘ پارکنگ ایریاز‘ سڑکوں‘ ایمبولینسوں اور گاڑیوں میں مریضوں کو رکھ کر آکسیجن دی جا رہی ہے‘جبکہ کئی صاحب ثروت مریض گھروں میں ہی علاج جاری رکھے ہوئے ہیں ،لیکن سے سے بڑا المیہ یہ ہے کہ بھارت کی کئی ریاستوں میں آکسیجن موجود نہیں ہے۔ جس کے باعث مریض تڑپ تڑپ کر جانیں دے رہے ہیں۔وہ ریاستیں جن میں مودی مخالف حکومتیں قائم ہیں، وہاں مودی سرکار خودہی آکسیجن مہیا نہیں کر رہی ہے،دہلی کے وزیر اعلٰی کو آکسیجن کے حصول کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا،جس کے بعد بھارتی عدالت نے وزیر اعظم نریندر مودی کو متعدد مرتبہ وارننگ دیتے ہوئے حکم دیا کہ تمام ریاستوں کو بلا تفریق آکسیجن مہیا کی جائے لیکن بھارتی وزیر اعظم ابھی تک تمام ریاستوں کو برابری کی سطح پر آکسیجن مہیا نہیں کر رہے۔در حقیقت مودی سرکار ان ریاستوں کے عوام کو ووٹ نہ دینے کی سزا دے رہے ہیں ، اگر مرنے والوں کا جائزہ لیا جائے تو بھارت میں شمشان گھاٹ بھر چکے ہیں۔کئی کئی دنوں سے لاشیں پڑی ہیں لیکن ابھی تک ان کی باری نہیں آ ئی۔ جبکہ غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے ہندوئوں کی لاشیں جلانے کا کوئی بندوبست ہی نہیں۔ کئی گھرانوں میں لاشیں پڑی ہیں۔انہیں اٹھا کر شمشان گھاٹ تک پہنچانے والا کوئی نہیں۔ پوری دنیا کی نگاہیں اب بھارت پر ہیں کئی ممالک بھارت کی مدد کے لئے آ رہے ہیں لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ ابھی تک مقبوضہ وادی کی طرف نہیں گئی، جہاں پر 5اگست 2019ء سے لے کر ابھی تک کرفیو ہے۔ پوری وادی جیل کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ لوگوں کو سر عام نقل و حرکت کی اجازت ہے نہ ہی کسی بیمار کو ہسپتال میں پہنچایا جا سکتا ہے۔ بھارت میں جب کورونا وائرس بے قابو ہوا، تو مقبوضہ وادی سے آکسیجن کے سلنڈر بھارت شفٹ کر دیے گئے۔ یوں مقبوضہ کشمیر میں آکسیجن کا بھی بحران ہے۔ جبکہ 3832کورونا متاشرین بے یارو مددگار پڑے ہوئے ہیں۔گزشتہ 24گھنٹوں میں مقبوضہ وادی میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 50ہو گئی ہے۔ مودی سرکار کو بھارت سے فرصت نہیں وہ مقبوضہ وادی کے باسیوں کی کیا مدد کرے گی، اس لئے عالمی برادری ان مشکل حالات میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کو کورونا وائرس سے بچانے کے اقدامات کرے۔ جہاں پر عالمی برادری بھارت میں آکسیجن کے سلنڈر بھیج رہی ہے۔ وہیں پر مقبوضہ کشمیر کے عوام پر ایک شفقت کرنی چاہیے کیونکہ اس وادی میں بھی ایک کروڑ کے قریب انسان بستے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں تو جانوروں کے حقوق کے لئے بھی میدان میں آکھڑی ہوتی ہیں لیکن انہیں دو برس سے مقبوضہ کشمیر کے ایک کروڑ انسان نظر نہیں آ رہے۔ ابھی تک کسی بھی تنظیم نے کشمیریوں کے حقوق کی بات کی نہ ہی کورونا وائرس سے بچائو کے لئے انہیں کوئی سہولت میسر کی جا سکی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں کو مودی سرکار پر زور دینا چاہیے تھا کہ وہ مقبوضہ وادی سے کرفیوں اٹھا کر وہاں کے لوگوں کو آزاد نقل وحرکت کی اجازت دے۔اس وقت بھارت کی 10ریاستوں میں مکمل لاک ڈائون ہے۔ یومیہ ہلاکتوں کے کیسز جس طرح بڑھتے جا رہے ہیں، یوں محسوس ہو رہا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں پورے بھارت کی حالت مقبوضہ کشمیر جیسی ہو جائے گی۔ مودی سرکار کو پورے بھارت میں لاک ڈائون لگانا پڑے گا تاکہ ہلاکتوں کی شرح کم کی جا سکے۔ ویسے عالمی برادری کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ وسائل کی کمی اور آبادی کی زیادتی کے باعث بھارت میں جس طرح کورونا وائرس کنٹرول سے باہر ہے۔ اگر بھارت کی ریاستوں کو آزادی دیدی جائے تو اس طرح کے حالات پیدا نہ ہوں،تب ہر ریاست اپنے عوام کی حفاظت کے لیے آزاد ہو گی اور عوام کے مسائل حل ہوں گے، کیونکہ مودی سرکار میں یہ صلاحیت ہی نہیں کہ وہ اتنے بڑے ملک کو صحت‘ تعلم اور سفر کی سہولتیں فراہم کر سکے۔ جب ریاستوں کو آزادی ہو گی تو وہ اپنے وسائل اسلحے کے ڈھیر لگانے کی بجائے لوگوں کی فلاح پر خرچ کریں گے۔ ہسپتالوں کی حالت کو بہتر بنائیں گے۔ اس لئے عالمی برادری اس پہلو پر بھی سنجیدگی سے غور کرے۔ پوری دنیا کے لوگوں نے لاک ڈائون کو دیکھا ہے لیکن یہ لاک ڈائون مقبوضہ کشمیر کے کرفیو سے مختلف ہے۔ کیونکہ وہاں پر فوجی ٹینک سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں تعلیم‘ صحت کے ادارے مکمل بند ہیں جبکہ اشیاء ضروریہ کی بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ سیاسی شخصیات مسلسل قید و بند کا سامنا کر رہی ہیں، ان حالات میں اب دنیا بھر کے دانشوروں اور لکھے پڑھے طبقے کو آگے بڑھ کر اپنے حصے کی شمع روشن کرنی چاہیے اور وادی میں کرفیو کے خاتمے کے لئے آواز بلند کرنی چاہیے تاکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کورونا وائرس سے بچائو کے اقدامات کر سکیں۔