لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)تجزیہ کارہارون الرشید نے کہا ہے کہ تہوار اسی لئے ہیں کہ زندگی کی یکسانیت کو توڑا جائے ۔پروگرام مقابل میں میزبان علینہ شگری سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ نے زندگی کے بہت پہلورکھے ہیں۔میرے جیسے لوگوں کو اب ذمہ داریوں کا زیادہ احساس ہوتا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے رشتہ داروں کے درمیان محبت اورقربت پیدا ہوتی ہے ۔قربانی کے جانورکو سجانا کوئی عیب نہیں البتہ ریا کاری نہیں ہونی چاہئے کیونکہ یہ اللہ کو پسند نہیں ۔ عیدکے بعد اگر بھارت مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھاتاہے تو وہاں پر تبدیلی آئے گی۔میرے یہ خیال ہے کہ ہرپاکستانی کو چاہئے کہ وہ کشمیریوں کی آواز بنے ۔تجزیہ کار اظہارالحق نے کہا صحافی بھی دوسرے لوگوں کی طرح عید مناتے ہیں،مختلف مراحل او ر عمرکیساتھ عیدکی خوشیاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔عید قربان کے موقع پر جتنی گندگی ہم پاکستان میں مچاتے ہیں ایسا کسی اور ملک میں نہیں ہوتا ، ہمیں اس کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے ۔منصور آفاق کامجھے پتہ ہے کہ جب یہ لندن میں ہوتے ہیں تو قربانی نہیں کرتے ،کہتے ہیں کہ میں تو مسافر ہوں۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ غریبوں کو گوشت دینا چاہئے لیکن ہمیں ان غریبوں کا دل بھی رکھنا چاہئے ۔ کھالوں کے معاملے پرکراچی میں مذہب کے نام پر استحصال اورجبر بھی رہا ہے ۔ مدارس کے مالکان طلبا کے نام پر اچھی زندگی گزارتے ہیں ،ہمیں ان کا کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ ان کھالوں کا درست مصرف کررہے ہیں یانہیں ۔کالم نویس منصور آفاق نے کہا عید کے موقع پر کچھ نیا بھی ہوناچاہئے ،برطانیہ میں گھر میں قربانی کا جانور ذبح نہیں کیا جاسکتا بلکہ مذبحہ میں جانا پڑتاہے تمام یورپ میں تقریباً یہی طریقہ کارہے ۔قربانی اس قدر مہنگی ہے کہ بہت مشکل ہے ۔اگر کسی نے قربانی کیلئے بکرا لیاہے تو اس کے بارے میں یہ نہ کہیں کہ وہ نمائش کررہاہے ۔مقبوضہ کشمیر میں جب کرفیو ہے تو کیا وہ قربانی کررہے ہیں یا نہیں کشمیریوں نے کیا عید کی ہوگی ۔ہمیں بھارت پر دبائوڈالنے کیلئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان نے ابھی تک فضائی حدود بند نہیں کی ۔ اگر یہ بند کردی جائے تو بھارت کو ڈیڑھ سے دو ارب روپے روزانہ کانقصان ہوگا ایسا کرنا چاہئے ۔