لاہور (اپنے نیوز رپورٹر سے ،نیوزایجنسیاں) انسداد منشیات عدالت لاہور کے ڈیوٹی جج خالد بشیر نے مبینہ منشیات سمگلنگ کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن)پنجاب کے صدر رانا ثناء اﷲ کی درخواست ضمانت مسترد کر دی جبکہ پانچ شریک ملزمان کی درخواست ضمانت منظور کر تے ہوئے انہیں رہا کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ۔دوران سماعت رانا ثناء اﷲ کے وکیل نے عدالت میں مئوقف اختیار کیا کہ میرے مئوکل کر سیاسی انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایاگیا، مقدمہ جھوٹا اور بے بنیاد ہے ، رانا ثناء اﷲ نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ مجھے گرفتار کر لیا جائے گا ، وقوعہ کے تین گھنٹے بعد ایف آئی آر درج کی گئی، اے این ایف نے مقدمہ تاخیر سے درج کرنے کی وجہ بیان نہیں کی، سی سی ٹی وی فوٹیج صرف رانا ثنا کی کار کے خروج اور داخل ہونے کی ہے ، گرفتاری پر ان سے پسٹل، گھڑیاں، لائسنس، میڈیکل رپورٹس، شوگر کی دوائی، سانس بحالی کا آلہ برآمد ہوا، گرفتاری سے دو ماہ قبل ان پر فالج کا اٹیک ہوا تھا، جیل میں انہیں چٹائی پر لٹایا جاتا اور پرہیزی کھانا نہیں دیا جا رہا، عدالت درخواست ضمانت منظور کرے ۔ اے این ایف کے وکیل نے کہا رانا ثناء اﷲ کے وکیل نے تمام دلائل سیاسی طور پردیئے ،کیس کے 14میمو ہیں،ملزم کے گارڈ نے کہا تھا تم لوگ نہیں جانتے کس پر ہاتھ ڈال رہے ہو، رانا ثناکے پاس جو بیگ تھا اس میں سے 15کلوہیروئن برآمد ہوئی جس کادوران تفتیش لیگی رہنمانے اعتراف بھی کیا ۔ لفافہ اور موقع سے ملی ہر چیز ہمارے پاس محفوظ ہے ، کیس کے مطابق سزائے موت، عمر قید بھی ہو سکتی ہے ، بیماریوں کا جیل میں علاج ہو رہا ہے ،میڈیکل گراؤنڈ پر ضمانت نہیں ہو سکتی۔سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں رانا ثناء اﷲ کی اہلیہ نے کہافیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرینگے ، اﷲکا شکر ہے پانچ افراد کی ضمانت ہوگئی، ان غریبوں کو ناجائز طور پراندر کیا ہوا تھا،مایوس نہیں ،رب تعالیٰ کی ذات کے ہاں انصاف کی پوری امید ہے ۔