جیسے چندہفتے قبل ہمارے ہاں آٹے کی کمی دیکھنے میں آئی‘قدیم روم میں اچانک روٹی کی قلت ہو گئی۔ شہنشاہ ڈائیکلیٹان نے پرائس سیلنگ جاری کر دی‘ اعلان کیا گیا کہ جس کسی نے روٹی کی مقررہ زیادہ سے زیادہ قیمت سے بڑھ کر نرخ وصول کئے اسے موت کی سزا دی جائے گی۔ درمیان کے عہد سے گزر کر ہم بیسیویں صدی میں آ جاتے ہیں۔1941ء میں پرل ہاربر پر حملہ ہوا‘ امریکہ نے جرمنی اورجاپان کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ روز ویلٹ انتظامیہ نے زراعت‘ سٹیل اور تیل جیسی صنعتوں پر پرائس کنٹرول لگا دیا‘ اس کا مقصد دوسری جنگ عظیم میں امریکی کوششوں کو مدد فراہم کرنا تھا۔ امریکی حکومت نے 2012ء میں سمندری طوفان سینڈی آنے پر بھی ایسا کیا۔ نیویارک اور نیو جرسی میں پرائس کنٹرول نافذ کر دیا۔ پرائس سیلنگ کی ایک مثال کرایہ کی شرح پر کنٹرول ہے۔ امریکہ میں پابندی ہے کہ مالک مکان ایک خاص حد سے زیادہ کرایہ نہیں طلب کر سکتا۔ قیمتوں کے کنٹرول کی دو شکلیں ہیں۔ پرائس سیلنگ سے مراد کسی شے کی زیادہ سے قیمت ہے‘ پرائس فلور کا مطلب کسی چیز کی کم سے کم وصول کی جانے والی قیمت کی سطح ہے جیسے لاہور میں کھلے دودھ کے کم از کم نرخ 70جبکہ زیادہ سے زیادہ 100روپے ہیں۔ اشیائے خورو نوش کی قیمتیں عام آدمی کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہیں اس لئے حکومت کا فرض ہوتا ہے کہ وہ نرخ کنٹرول کا نظام موثر بنائے۔ یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ آٹا یا چینی کی سیلنگ اور فلور پرائس کا تعین کرے۔ حکومت اشیاء کے نرخ عوام کی قوت خرید میں رکھنے کے لئے کئی طرح کے طریقے آزماتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں قیمتوں پر کنٹرول کے وعدے اکثر پورے نہیں ہوتے۔ معاشی فارمولا کہتا ہے کہ طلب سے زاید سپلائی یا سپلائی سے زیادہ طلب قیمتوں کے استحکام کے لئے خطرہ ہوتے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں عمران بھٹہ صاحب ہمیں اکنامکس اینڈ انٹرنیشنل ٹریڈ پڑھایا کرتے تھے۔سپلائی ڈیمانڈ کے مختلف اثرات پر ان کی مفید گفتگو کے بہت سے نکات اب بھی تازہ محسوس ہوتے ہیں۔ہم حیران ہیں کہ ہمارے ہاں بین الاقوامی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل اور عالمی اداروں میں بڑے عہدوں پر کام کا طویل تجربہ رکھنے والے وزرائ‘ مشیر اور افسران ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کے اثرات کو پاکستان کی صورت حال پر منطبق کرنے کی اہلیت سے کیوں محروم ہیں۔ ڈیمانڈ سپلائی کا نظام اس وقت درست کرنا آسان ہوگا ہے جب اشیاء کا وافر ذخیرہ وجود ہو لیکن اس ذخیرے کو مارکیٹ میں لانے سے روکا جا رہا ہو۔ حکومت روکنے والی قوتوں کے خلاف کارروائی کر کے سپلائی کو بڑھا دیتی ہے۔سپلائی زیادہ ہوتے ہی ڈیمانڈ معمول پر آ جاتی ہے اور قیمتیں اپنی جگہ آ جاتی ہیں۔ حالیہ دنوں آٹے کے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہوا تھا۔اب حکومت چینی کے ممکنہ بحران سے قبل از وقت نمٹنے کے لئے گوداموں پر چھاپے مار رہی ہے۔ ہزاروں من چینی کے تھیلے سرکاری تحویل میں لے لئے گئے ہیں۔ غفلت برتی جاتی تو رمضان المبارک سے پہلے مارکیٹ میں موجود چینی کے ذخائر نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیے جاتے۔ عوام کو چینی نہ ملتی۔ چینی خریدنے والے زیادہ اور مارکیٹ میں موجود چینی کم ہوتی۔ اس کا نتیجہ چینی کی قیمت میں اضافہ کی صورت میں نکلتا اور عوام کو تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف بھڑکانے کا موقع کسی کے ہاتھ آ جاتا۔دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ طلب کے مقابلے میں سپلائی حقیقی حجم میں کم ہو۔ اس صورت میں قیمتیں بڑھیں تو حکومت مدد کے لئے آگے بڑھتی ہے۔ سپورٹ پرائس یا سبسڈی کا اعلان کیا جاتا ہے۔ حکومت مارکیٹ سے 10روپے کلو چیز خرید کر عوام کو 8روپے کلو فراہم کرتی ہے۔ فلور ملز کو حکومت جو گندم فراہم کرتی ہے وہ اس کی خریدی گئی رقم سے کم ہوتی ہے۔ ہفتہ بھر قبل وزیر اعظم کی سربراہی میں ایک اجلاس ہوا۔فیصلہ کیا گیا کہ اس سال گندم خریداری کا سرکاری ہدف دوگنا ہو گا۔ اس طرح حکومت متوقع فاضل پیداوار خریدنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ اس فیصلے سے بلیک مارکیٹر گندم کی مصنوعی قلت پیدا نہیں کر پائیں گے۔جب قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہوں تو ماہرین معیشت کچھ تدابیر کی سفارش کرتے ہیں۔ 1۔صارفین کی سوچ جاننے کی کوشش کی جائے۔ 2۔مارکیٹ ریسرچ پر سرمایہ کاری کی جائے۔ 3۔ اشیاء کی قدر کو ازسرنو جانچیں۔ 4۔تجارتی ضوابط کی نگرانی کی جائے۔ 5۔قیمتوں میں اضافے کے اسباب تلاش کریں۔ بندہ پرور یہ حجابوں کا تکلف کیا ہے مستی حسن کی تکمیل ہے عریاں ہونا ہمارے معاشی اور انتظامی مسئلے جس قدر گھمبیر ہیں ہم اسی قدر ان سے لاعلم‘ بجلی کا بل زیادہ آ جائے تو گھر میں بجلی سے چلنے والی چیزوں میں خرابی ڈھونڈنے اور میٹر پر بھاگتے نمبروں کی پڑتال کرنے لگتے ہیں۔ مہنگائی ایک جیب کتری ہے جو روز ہماری جیب سے پیسے نکال لیتی ہے لیکن ہم نہ اسے جاننا چاہتے ہیں نہ اس کی وارداتوں سے آگاہ ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں‘ پھر اصلاح کیسے ہو؟ عالمی سرمایہ کاروں کے ٹی وی‘ کمپیوٹر‘ کاریں اور جدید آلات روز بہ روز سستے ہو رہے ہیں‘ یہ کمپنیاں پھر بھی دولت اکٹھی کر رہی ہیں۔ ہماری زرعی پیداوار اور اجناس کی قیمت روز نئے آسمان پر چلی جاتی ہے‘ کسان پھر بھی افلاس کا شکار۔ جواب ڈھونڈیں! مہنگائی کس کا ہتھیار ہے اور ہم پر کیوں عاشق ہے۔؟