لاہور( حافظ فیض احمد) گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ میں کمی آنے ، مہنگی ہونے اور فائلر جیسی شرائط کے باعث گاڑیوں کی رجسٹریشن میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے ، جبکہ ایکسائز حکام کو گاڑیوں، موٹر سائیکل، رکشے اور کمرشل وہیکل کی رجسٹریشن کی مد میں گزشتہ مالی سال کی نسبت رواں مالی سال2019/20کے پہلے تین ماہ کے دوران250ملین کم آمدن ہوئی گزشتہ سال اسی مد میں1لاکھ24ہزار گاڑیوں، موٹر سائیکلیں، رکشے اور کمرشل گاڑیوں کی رجسٹریشن کی گئی اور ا س کی نسبت ایکسائز ریجن سی لاہور میں رواں مالی سال کے پہلے کوارٹر میں ابھی تک91ہزار ہر قسم کی موٹر وہیکل کی رجسٹریشن کی گئی ہے گزشتہ سال کے دوران گاڑیوں کی جو نئی سیریل شروع ہوتی وہ چند روز میں ختم ہو جاتی تھی ۔دوسری جانب ذرائع کے مطابق ایکسائز ریجن سی لاہور کو گاڑیوں اور دیگر وہیکل کے ٹوکن ٹیکس کی ادائیگی سے اب تک رواں مالی سال کے پہلے تین ماہ کے دوران گزشتہ سال کی نسبت80ملین سے زائد آمدن ہوئی ہے جبکہ ایکسائز انتظامیہ نے گاڑیوں کے مالکان سے ٹوکن ٹیکس کی وصولی کے لئے مہم بھی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ کئی سالوں سے گاڑیوں کا ٹوکن ٹیکس ادا نہ کرنے والے نادہندگان کے حوالے سے سخت فیصلے کرنے پر غور کیا جا رہا ہے ۔