مکرمی! وقت بہت تیزی سے سفر کر رہا تھا۔ کہیں امن کے نام پر بارود بک رہا تھا اور کہیں معیشت کا چورن زوروشور سے بیچا جا رہا تھا۔ کئی جگہوں پر حقوق کی جنگ نعروں میں برسرپیکار تھی۔ دور ایک بستی میں مہینوں سے بند بازاروں میں صدا عام تھی۔ ایک التجا تھی۔ سلاخوں کے پیچھے قیدسسکتی بے یارو مددگار زندگی۔ سچ کہا جائے تو جو رب ہے نا وہی سب ہے۔ قدرت یکسر بدل گئی آب وہوا میں تبدیلی آگئی۔قدرتی مناظر اپنی اصلی حالت میں واپس آنے لگے۔ مگر افسوس انسان نہ بدل سکا۔اِن حالات میں چند سوالات ضرور ذہن میں آتے ہیں۔ ہم انسان تو ہیں مگر کیا ہم میں انسانیت ہے؟ ہم رب تعالیٰ کی پیدا کردہ سب سے بہترین مخلوق ہیں مگر ہم میں کیا بہترین ہے؟ کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ لوگ بھوک سے مر رہے ہیں؟مگر نہیں !یہاں ہر کوئی ہتھیاروں کی دوڑ میں آگے بڑھنے کو ہے افسوس تو اس بات کا ہے کہ مہنگے مہنگے ہتھیار خریدنے والے کبھی خوراک تقسیم کرنا نہ سیکھ سکے۔ یہی ہے لمحہ فکریہ ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ یہ دنیا مکافات عمل ہے۔ حرف کن کی محتاج دنیا کیسے امن کی خاطر ایک دوسرے سے گریزاں ہے۔دعا ہے خالق کائنات سے اوراس محبوب خداوندکے صدقے جس کی خاطر کن سے فیکون تک کا سفر طے پایا اک نظر کرم ہو اس دنیا پر۔ (عبدالمنان تحصیل و ضلع چکوال)