لاہور(جنرل رپورٹر)ڈی ایچ کیو ہسپتال پاکپتن میں کروڑروں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے ۔ محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر نے سابق ایم ایس ڈاکٹر امان اللہ کے خلا ف پیڈا ایکٹ کے تحت تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے ۔پراجیکٹ ڈائریکٹر پنجاب ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام ڈاکٹر خالد محمود کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا ہے اور دو ماہ میں انکوائری رپورٹ جمع کرائیں گے ۔ دستاویز کے مطابق سا بق ایم ایس ڈاکٹر امان اللہ نے مالی سال 2018-19میں خریداری کے حوالے سے قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ہی ٹینڈرجاری کیے ۔ڈاکٹر امان اللہ نے 1کروڑ78لاکھ 26ہزار روپے کی پیپر ا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خریداری کی ۔ڈاکٹر امان اللہ نے ایک کروڑ39لاکھ 21ہزار روپے سے ایم ایس پاک میڈیکل ہال سے قانونی تقاضے پورے کئے خریداری کی۔ڈاکٹر امان اللہ پر الزام ہے کہ انہوں نے بطو ر ایم ایس نومبر 2016ئسے مئی 2018تک ڈیلی ویجز پر تعینات ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کراس چیک کے بجائے کیش کی صورت میں کی اور ا س حوالے سے 60لاکھ 63ہزار روپے ادا کئے گئے جو کہ مالی بے ضابطگی کے متراد ف ہے ۔ڈی ایچ کیو ہسپتال پاکپتن کا عملہ بائیو میٹرک حاضری نہیں لگاتا تھا ۔سابق ایم ایس نے ہسپتال میں کام کرنے والے کنسلٹنٹ جو کہ شام اور رات کے وقت ڈیوٹی انجا م نہیں دیتے تھے ان کو ہیلتھ سیکٹر ریفامرزالاؤنس دیا اور سرکاری خزانے کو 5لاکھ 6ہزار400روپے کا نقصان پہنچایا ۔ایم ایس کی ری ویمپنگ کے دوران استعمال ہونے والا سامان غیر معیاری خریدا ۔ڈاکٹر امان اللہ نے مالی سال 2017-18ئمیں 52لاکھ 62ہزار26روپے سے لوکل پرچیز کے تحت مختص کردہ بجٹ سے زائد سے ادویات کی خریداری کی ۔لوکل پرچیز کے تحت خریداری کے حوالے سے بل ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر کو بروقت جمع نہیں کروائے گئے اور لوکل پرچیز کے تحت خریدی گئی ادویات ریٹ کنٹریکٹ کے بغیر ہی خریدی گئیں۔