اگلے روزوزیراعظم عمران خان نے اپنے ترجمانوں کے اجلاس میں جو تواتر سے ہوتے رہتے ہیں، اپوزیشن کے احتجاج کو نہ روکنے اور نسبتاًنر م رویہ اختیار کرنے کی ہدایت کی لیکن ساتھ ہی ساتھ ترجمانوں سے کہا کہ چوروں، لیٹروں اور ڈاکوؤں کو پراپیگنڈا کے ذریعے قوم کو گمراہ کر نے کی اجازت نہ دیں بلکہ میڈیا پر انھیں ٹھونک کر جواب دیں۔ کرپشن کیسز میں ملوث لوگ ٹی وی پر آکر خود سیاسی شہید بن رہے ہیں،ان کو سیاسی شہید نہ بننے دیا جائے، احتساب بلا تفریق جاری رہے گا۔ نئے پاکستان میں یہ نیا انداز حکمرانی ہے۔ جمہوری حکومتیں سیاسی طریقے اور پارلیمنٹ کے فلور پر اپنی پالیسیوں اور کارکردگی کے ذریعے مدافعت کرتی ہیں لیکن یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ پارلیمنٹ میں توقومی مسائل پر حکومت یا اپوزیشن کی طرف سے کوئی بات ہی نہیں کی جاتی اور سارا انحصار میڈ یا، انتظامی ذرائع اور نیب کے ذریعے اپوزیشن پر کاٹھی ڈالنے پر دیا جاتا ہے۔ ایک طرف تو خان صاحب کہہ رہے ہیں کہ ریلیاں ہونے دیں، اپوزیشن کو احتجاج سے نہ روکا جائے اور سزایافتہ کو سیاسی شہید نہ بننے دیں لیکن زمینی حقائق قدرے مختلف ہیں۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دست راست عرفان صدیقی کواسلام آباد میں ان کے گھر سے گرفتار کر لیا گیا، بعدازاں پتہ چلا کہ انھیں کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا کیونکہ انھوں نے متعلقہ حکام کو قانون کے مطابق کرایہ داروں کے کوائف فراہم نہیں کئے تھے۔ انھیں ہتھکڑیاں پہنا کر عدالت میں پیش کیا گیا،جس کی ہر طرف سے مذمت کی جا رہی ہے۔جوڈیشل مجسٹریٹ نے ہفتہ کو عرفان صدیقی کی بریت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انھیں 14روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجوا دیا تاہم اگلے ہی روز ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ عرفان صدیقی بنیادی طور پر کالم نگار اور تقریر نویس ہیں، وہ کوئی سیاسی جیالے نہیں ہیں۔ نہ جانے ان کا اصل قصور کیا ہے؟۔مسلم لیگ(ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے عرفان صدیقی کی گرفتاری سے ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں چودھری ظہور الہٰی کی بھینس چوری کے مقدمے میں گرفتاری کی یاد تازہ ہو گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جس گھر کے مقدمے میں انھیں جیل بھیجا گیا وہ ان کے بیٹے کا ہے اور 20جولائی کو ہی کرایہ پردیا گیا ہے۔ معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا عرفان صدیقی کو ہتھکڑیاں لگانا نامناسب عمل ہے۔ لیکن (ن) لیگ نے کرایہ داری سے متعلق قانون خود بنایا، قانون کی حکمرانی حکومت کی ذمہ داری ہے، قانون سب کے لیے یکساں ہے، جو نوازشریف کا ساتھی ہے کیا اس کے خلاف قانونی کارروائی نہ کریں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اس قسم کی حفاظتی اور انتقامی نظر بندیاں عام تھیں۔ ائیرمارشل (ر)اصغر خان پر توپیپلز پارٹی کی پہلی حکومت کی خصوصی ’’مہربانیاں‘‘ تھیں وہ جہاں جاتے ان کے داخلے پر پابندی لگا دی جاتی لیکن اب تو علانیہ طور پر ملک میں ایک جمہوری نظام ہے اور اس قسم کے ہتھکنڈے قصہ پارینہ بن چکے تھے لیکن اب آہستہ آہستہ غیر جمہوری اقدامات ہمارے جسد سیاست کا پھرحصہ بنتے جا رہے ہیں۔ اگر عرفان صدیقی نے دانستہ یا نادانستہ طور پر کرایہ داری قانون کی خلاف ورزی کی بھی تھی تواس پاداش میں انھیں اڈیالہ جیل میں بند کرنے کا کیا جواز تھا؟۔ حال ہی میں اپوزیشن نے یوم سیاہ منایا اور اس موقع پر بھی مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف سمیت سینکڑوں رہنماؤں اورکارکنوںکے خلاف مقدمات درج کر لئے گئے ہیں۔ یقینا جب احتجاج کی آواز دبانے کے لیے جلسوں اور ریلیوں پر غیر ضروری پابندیاں لگائی جائیں گی تو خلاف ورزیاں بھی ہونگی۔ ترجمانوں کی کلاس خان صاحب خود لیتے ہیں، وزرا بالخصوص وزرائے اطلاعات سے بھی کارکردگی رپورٹ لی جاتی ہے کہ وہ کتنے جارحانہ انداز سے حکومت کے مخالفین کو رگڑا لگاتے ہیں۔ فواد چودھری جب وزیر اطلاعات تھے، لگتا تھا کہ وہ کئی بار اپنی حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں لیکن ان کے باس پھر بھی مطمئن نہیں تھے لہٰذا ان کو ہٹا کر محترمہ فردوس عاشق اعوان کو لایاگیا جن کا کام وزارت اطلاعات کے امور سنبھالنے سے زیادہ صبح سے رات تک مختلف چینلز پر اپوزیشن کو کوسنا ہے۔پنجاب میں اس سے بھی زیادہ دلچسپ صورتحال ہے، صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان جوش خطابت میں کچھ ایسی باتیں کر گئے جو نامناسب تھیں، ان کی جگہ پیپلزپارٹی سے مراجعت کر کے آنے والے صمصام بخاری کو وزیر اطلاعات بنایا گیا۔ صمصام بخاری طبعاً ایک مرنجان مرنج شخصیت ہیں حکومت ان کے دھیمے انداز سے مطمئن نہ تھی لہٰذاوفاقی حکومت کے حکم پر ان کی جگہ میاں اسلم اقبال کو لایا گیا۔ اسلم اقبال جن کا تعلق خالصتاً لاہور سے ہے بہت نفیس اور میانہ رو طبیعت کے مالک ہیں، اس کے باوجود اب اپوزیشن کو رگڑنے کی خوب پریکٹس کر رہے ہیںلیکن پنجاب میں کسر نکالنے کے لیے امریکہ سے درآمد شدہ شہباز گل جو ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب ہیں اور فیاض الحسن چوہان بھی جو وزیر کالونیز کی حیثیت سے کابینہ میں واپس آ چکے ہیں اورمیڈیا پر تواتر سے گرجتے رہتے ہیں۔اس کے علاوہ وفاق میںفیصل واوڈا ،علی زیدی اور مراد سعید جیسے وزراء جوخان صاحب کے قریبی حلقوں سے تعلق رکھتے ہیں ،اپو زیشن کی ٹھیک طرح کلاس لیتے ہیںجس پر انھیں داد بھی ملتی رہتی ہے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم کے ارد گرد اطلاعات کے مشیروں کی ایک فوج ظفر موج بھی موجود ہے۔ میڈیا پرا تنا زیادہ انحصار کرنے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ حکومت ان سے نالاں بھی رہتی ہے۔ امریکہ میں مقیم صحافی شاہین صہبائی جو واشنگٹن میں نیوز انٹرنیشنل کے ایڈیٹر تھے اب کسی اخبار کے ساتھ منسلک نہیں، ان کا شمار عمران خان کے حامیوں میں ہوتا ہے، خان صاحب سے امریکہ کا دورہ مکمل ہونے کے بعدائیر پورٹ روانگی سے قبل واشنگٹن میں پاکستانی سفیر کی رہائش گاہ پر ان کی ملاقات ہوئی جس کی تفصیل شاہین صہبائی نے خود لکھی ہے، بقول ان کے عمران خان نے صہبائی صاحب سے شکایت کی کہ میں اس میڈیا کا کیا کروں، یہ ناقابل برداشت حد تک بے لگام ہو چکا ہے۔ ا س کے باوجود انھیں اکاموڈیٹ کرنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن کچھ تو زیادہ ہی شرانگیز ہو چکے ہیں۔ شاہین صہبائی کے بقول میں نے انھیں مشورہ دیا کہ آپ کو اس معاملے میں احتیاط سے کا م لینا چا ہیے کیونکہ کسی بھی طرح کی سختی کی گئی تو اسے آزادی صحافت کا مسئلہ بنا لیا جائے گا۔ اس پر عمران خان نے سوال کیا کہ ملک میں جب سب کااحتساب ہورہا ہے تو میڈیا مقدس گائے کیوں بنی رہے؟اورخان صاحب کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک میڈیا مالکان کے ذرائع آمدن سے بڑھ کر اثاثے، ٹیکسوں کے معاملات اور ملازمین کو تنخواہیں نہ دینا اور عدالتوں سے حکم امتناعی لے آنا ان سب باتوں کی چھان بین ہونی چاہیے۔ شاہین صہبائی جو واشنگٹن میںبیٹھے ہیںمیڈیا مالکان کے حامی نہیں ہیں کاکہنا تھا کہ انھوں نے بدعنوان حکومتوں کی ملی بھگت سے اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں میں قیمتی ترین جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔ صہبائی کے مطابق خان صاحب کی رائے میں اس مسئلے کے حل کے لیے گاجر اور ڈنڈا دونوں پالیسیاں اختیار کرنا پڑیں گی۔پیمرا کو مضبوط بنانا ہوگا ،نیز میڈیا کی تنظیموں کو بھی طاقت دینا ہو گی۔شاہین صہبائی کی یہ رپورٹ یقینا اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ آنے والے دن میڈیا کے لیے مزید سختیاں لے کر آئیں گے۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے میڈیا عدالتوں کے بارے میں فرمایا تھا کہ یہ تو پیمراکی تجویز تھی لیکن خان صاحب کے رشحات فکر کی روشنی میں لگتا ہے کہ معاملات اتنے سادا بھی نہیں ہیں، وہ میڈیا کے رویے سے واقعی تنگ ہیں۔شایدا قتدار کے ایوانوں میں متمکن ہونے کے بعد یہ حقیقت ان کی نظروں سے اوجھل ہو گئی ہے کہ یہی ’’گستاخ میڈیا‘‘ تھا جس نے اپوزیشن بالخصوص 2014ء کے دھرنے کے دوران انھیں بلڈاپ کیا تھا۔