مہنگائی میں مسلسل اضافے کو روکنے میں ناکامی پر وزیر اعظم عمران خان نے عبدالحفیظ شیخ کو ہٹا کر حماد اظہر کو وزارت خزانہ کا قلمدان سونپ دیا ہے۔ نئے وزیر خزانہ حماد اظہر نے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ معیشت میں بہتری آئے گی ۔ عبدالحفیظ شیخ کئی بین الاقوامی اداروں میں نمایاں حیثیت میں کام کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ تحریک انصاف کو اقتدار ملا تو وزیر اعظم نے مشکل مالی حالات میں آئی ایم ایف کے پاس جانے سے انکار کر دیا۔ حکومت کا خیال تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور دوست ممالک کی مدد سے فوری ادائیگیوں کا مسئلہ حل کر لیا جائے گا۔ وزیر اعظم کی اپیل پر پچھلے تین برس سے تارکین وطن مقدور بھر رقوم بھیج رہے ہیں۔ آٹھ ماہ سے متواتر ماہانہ ترسیلات زر دو ارب ڈالر سے زاید ہیں۔ اس کا مطلب سالانہ 25ارب ڈالر کی رقوم بیرون ملک مقیم پاکستانی وطن بھیج رہے ہیں تا ہم ابتدائی اخراجات اور قرض کی ادائیگی کے لیے حکومت کو چار ماہ بعد آخر آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔ تحریک انصاف چونکہ آئی ایم ایف سے قرض لینے کے حق میں نہیں تھی اس لیے پارٹی کے مالیاتی ماہرین خود کو عالمی ادارے سے مذاکرات کے لیے تیار نہ کر سکے۔ ہنگامی حالات میں اس وقت کے وزیر خزانہ اسد عمر نے جب عالمی فنڈ کے ساتھ بات چیت شروع کی تو اس عمل کی تیاری نہ ہونے کے نتائج آنے لگے۔ صورت حال بگڑنے لگی تو اسد عمر کی جگہ سابق وزیر خزانہ حفیظ شیخ اور گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ کی جگہ ڈاکٹر رضا باقر کو ذمہ داری تفویض کی گئی۔ نئی ٹیم چونکہ عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے ساتھ کام کرنے والے افراد پر مشتمل تھیاس لیے باور کیا گیا کہ 6ارب ڈالر کے بیل آئوٹ پیکج کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ کامیاب ہو سکے گا۔ آئی ایم ایف نے سٹیٹ بینک کو خود مختاری دینے کا مطالبہ کیا، روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت کو حکومتی کنٹرول سے آزاد کرنے کا کہا، بجلی، گیس، ٹرانسپورٹ اور بعض غذائی اجناس پر سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان شرائط کو تسلیم کرنے کے بعد پاکستان کے لیے 6ارب ڈالر کا بیل آئوٹ پیکج منظور کر لیا گیا۔ پاکستان نے اس پیکج کے تحت ملنے والی رقوم کو اب تک قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا ہے لہٰذا اس نئے قرضے سے عمومی اہمیت کا کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیا جا سکا اور ٹیکسوں کی وجہ سے مہنگائی بڑھنے لگی۔ گزشتہ دو برس کے دوران ملک کی مالیاتی پالیسیوں کو حفیظ شیخ اور ڈاکٹر رضا باقر کی ٹیم چلاتی رہی ہے۔ اس دوران روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ رکنا اہم کامیابی سمجھا گیا۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 31 دسمبر 2020 تک ملک کا مجموعی قرض 115.756 ارب ڈالر تھا۔ایک سال پہلے یعنی 31 دسمبر 2019 کو 110.719 ارب ڈالر تھا یعنی پاکستان کے ذمے مجموعی طور پر واجب الادا قرض میں ایک سال میں پانچ ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ فنانس ڈویزن میں قائم ڈیبٹ آفس کا کہنا ہیکہ سٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار میں ملک کے مجموعی طور پر بیرونی قرض کی بات کی گئی ہے،اس قرض میں حکومت پاکستان کی جانب سے لیے جانے والے قرضے کے علاوہ حکومتی تحویل میں چلنے والے اداروں کی جانب سے لیا گیا قرض اور نجی شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے بیرون ملک سے لیا گیا قرض بھی شامل ہے۔ یہ رقم صرف حکومت نہیں بلکہ پورے پاکستان پر واجب الادا ہے۔ گزشتہ دو برس کے دوران حکومتی کوششوں سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مستحکم رہی ہے۔ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کی بابت ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں مقامی کرنسی کی قدر میں ہونے والے اضافے کی کئی وجوہات ہیں جن میں درآمدات میں کمی، ترسیلات زر اور برآمدات میں اضافہ، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ملک میں آنے والی سرمایہ کاری اور غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کا مؤخر ہونا شامل ہے۔ سیاسی و اقتصادی آزادی کے بغیر غربت و افلاس کا خاتمہ ممکن نہیں لہٰذا حکومت کو اگر حالات کا ادراک ہے تو وہ قوم کو اعتماد میں لے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ معاشی بحالی کیلئے تگ و دو کا عمل ہمیں صورتحال سے نکالنے کے بجائے مزید پھنسانے کا باعث بن جائے ۔ اب تک یہی دیکھا گیا ہے کہ حکومتی پالیسیوں کے باعث عوام کیلئے ریلیف کے بجائے تکلیف بڑھ رہی ہے۔ ہر آنے والے دن میں مایوسی، بے یقینی میں اضافہ ہو رہا ہے اور اگر حکومت صورتحال کو سنجیدگی سے نہیں لیتی تو رمضان المبارک اور اس کے بعد مہنگائی، بے روزگاری اور غربت اپنا کام ضرور دکھائے گی۔ نئی مالیاتی و معاشی ٹیم کو پی ٹی آئی کا عوام دوست تشخص برقرار رکھنے کے لیئے مہنگائی میں کمی کے لئے خصوصی محنت کرنا ہوگی ۔ تین سال کے دوران تحریک انصاف کی حکومت تیسرا وزیر خزانہ لائی ہے۔ سابق چیئرمین ایف بی آر شبرزیدی مسلسل دبائو اور ناموزوں ماحول کی وجہ سے استعفیٰ دے گئے۔ اس سارے عرصے میں درآمدات میں کمی، ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمد میں اضافہ اور ڈالر کی قدر میں استحکام کے سوا کوئی امید افزا خبر نہیں ملی۔ صنعتی برآمدات نہیں بڑھ سکیں، زراعت کا شعبہ بدانتظامی کے باعث مشکلات کا شکار ہے، لے دے کر ترسیلات زر پر بھروسہ ہے۔ ان حالات میں آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے ساتھ معاملات کو پاکستان کی معاشی سکیورٹی کے دائرے میں رکھنے کے لیے حکومت کو معمول سے زیادہ محنت کی ضرورت ہو گی۔