اسلام آباد (خبرنگار خصوصی،مانیٹرنگ ڈیسک )جے یو آئی (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی مذاکراتی کمیٹی آتی جاتی رہتی ہے ،کمیٹی میں ہمارے موقف کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں ۔کمیٹی کو کہا ہے کہ ہمارے پاس آئو تو استعفیٰ لے کر آنا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں لب و لہجے نے ہمارے موقف کی تائید کردی ہے ۔ایسی جعلی اسمبلی کی قانون سازی متنازع ہوتی ہے ۔ہم جلد بازی کی قانون سازی کو تسلیم نہیں کرینگے ۔موجودہ حکومت نے پارلیمنٹ کو متنازع بنا دیا ہے ۔ہم عمران خان کو پاکستان پر قبضہ نہیں کرنے دینگے ۔ان کا ایک فرد ایوان صدر میں بیٹھا ہے جو آرڈیننس جاری کرتا ہے ۔ ایڈہاک ازم سے ملک نہیں چلا کرتے ۔ان کی پوری سیاست مخالفین کوچورکہنے پرقائم ہے ۔ایف بی آر کہہ رہا ہے کہ پچھلے دس سال میں کوئی منی لانڈرنگ نہیں ہوئی ۔بیوروکریسی کو بھی اظہاریکجہتی کی دعوت دیتے ہیں۔اس حکومت کو ہم قبضہ گروپ سمجھتے ہیں۔ انہیں مزید وقت دیا تو ڈوبتے چلے جائینگے ۔یہ کیسی مخلوق ہم پر مسلط ہوگئی ہے ۔اس حکومت نے چین کو بھی ناراض کردیا۔انہوں نے کہاکہ آپ مفاہمت کے خواہشمند ہیں تو اپنا لب ولہجہ درست کریں۔امن اور محبت کی بات کریں، ہمیں دو تین قدم آگے پائو گے ۔سمجھ نہیں آتی کہ ہمارے آئین اور قانون کی ملک میں بالادستی کیوں قبول نہیں کی جاتی۔علاوہ ازیں مسلم لیگ ق کے رہنما حافظ عمار یاسر نے مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ڈھائی گھنٹے جاری رہنے والی ملاقات میں حا فظ عمار نے مولانا کو مختلف تجاویز پیش کیں اور موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔علاوہ ازیں چودھری پرویز الٰہی اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ہونے والی ملاقات کو ایک بار پھر منسوخ کردیا گیا۔استعفے کے علاوہ بات نہ کرنے پر پرویز الٰہی سے ملاقات طے نہ پاسکی۔ذرائع کے مطابق عمار یاسر کی مولانا سے ملاقات کارگر ثابت نہیں ہوسکی۔علاو ہ ازیں مولانا فضل الرحمان نے ایک انٹرویو کہا کہ دھرنے سے کوئی جائز فائدہ اٹھاتا ہے تو مجھے اس پر کوئی خفگی نہیں،نواز شریف ناجائز طور پر گرفتار تھے ۔نیب کو استعمال کرکے سیاستدانوں کوجیلوں میں ٹھونسا جا رہا ہے ۔ ہم نے جمود کو توڑا ہے اور میں خوش ہوں کہ ہم کسی کے کام آ رہے ہیں۔ اسلام آباد (سپیشل رپورٹر، خبر نگار خصوصی، مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید گرما گرمی ہوئی اور شور شرابا کیا گیا جس کے بعد حزب اختلاف نے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کرادی اور کہا ڈپٹی سپیکر ایوان کا اعتماد کھو چکے ۔سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہو۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی میں چیئرمین سینٹ اور قومی و پنجاب اسمبلی کے سپیکرز کی موجودگی پر اعتراض اٹھا دیا۔وزیردفاع اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے فضل الرحمان سے مذاکرات کو ٹائم پاس قرار د یتے ہوئے کہا کہ مولانا کہتے ہیں جرگہ ٹائم پاس کے لیے ہیں تو ہم بھی آپ سے ٹائم پاس کررہے ہیں۔ مارچ والے صبر کریں ابھی بہت کچھ دیکھنا اور برداشت کرنا پڑے گا،جتنا بیٹھنا ہے بیٹھو لیکن ملک کو نقصان نہیں پہنچانا، ہمیں کوئی آرڈیننس جاری کرنے سے نہیں روک سکتا۔خٹک کی تقریر کے دوران جے یو آئی (ف)کے ارکان کے مسلسل احتجاج پر سپیکر نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا لگتا ہے آپ ایوان کی کارروائی نہیں چلانا چاہتے ،مجھے اجلاس ملتوی کرنے پر مجبور نہ کریں۔اپوزیشن جائے پیپلز پارٹی،ن لیگ اوراے این پی جائیں اورجمہوریت کیلئے مولانا کو مذاکرات کیلئے لائیں۔ن لیگ کے خواجہ آصف نے کہاکہ معلوم نہیں تھا پرویز خٹک اتنے اچھے ٹھمکے لگاتے ہیں۔ سپیکر اور چیئرمین سینٹ غیر متنازعہ شخصیات ہیں ان کو پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم میں کیوں شامل کیا گیا؟حکومت والے نوازئیدہ ہیں، یہ عمران خان کے دوست نہیں دشمن ہیں، جب ان کے اوپر چھت گرے گی تو انہیں پتہ چلے گا، پرویز خٹک میں تو اتنی جرات نہیں کہ مولانا کی ڈیمانڈ وزیراعظم کو بتاسکیں، بہت جلدی الیکشن ہوں گے اور ہماری ڈیمانڈ پر ہوں گے ۔ وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ خواجہ آصف ماضی میں وزیر خارجہ بھی تھے اور اقامہ بھی رکھتے تھے ، ان کا کوئی شخص دھوبی بنا ہے کوئی مستری بنا ہے اور کوئی ویلڈر بھی بنا ہے ، اس کا انہیں جواب دینا چاہیے ۔سپیکرنے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ ختم نبوتﷺ کے حوالے سے ایک لفظ بھی تبدیل نہیں کرینگے ، ناموس رسالتؐ کے لئے ہم اپنی جانیں قربان کر دینگے ۔ راجہ پرویز اشرف نے مطالبہ کیا کہ آصف علی زرداری کی صحت کے لئے میڈیکل بورڈ بنایا جائے ۔ پرو یز اشرف نے نکتہ اعترا ض پر کہا سپیکرکومذاکراتی کمیٹی میں شامل نہیں ہونا چاہیے تھا،کوئی وزیر اعظم آپکو حکم نہیں دے سکتا۔کونسی قیامت آ رہی تھی کہ آرڈیننسز کو جلدی میں بلوں کی شکل دیدی گئی۔