اسلام آباد(سید نوید جمال )وفاقی حکومت کی ناقص حکمت عملی ،فنڈز کی عدم دستیابی اورمنصوبوں کے ڈیزائن میں تبدیلیوں کے باعث پاکستان ریلویز کے 47 ارب20 کروڑ57 لاکھ روپے کے 10اہم منصوبوں کی لاگت57ارب 14 کروڑ 37 لاکھ روپے اضافے کے ساتھ ایک کھرب 4 ارب 22 کروڑ روپے سے زائد ہوگئی ۔روزنامہ 92 نیوزکو دستیاب دستاویزات کے مطابق27 اور 28 دسمبر 2007 کو سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل سانحہ کے موقع پر پنجاب اور سندھ میں شدت پسندوں نے پاکستان ریلویز کے اثاثہ جات کو شدید نقصان پہنچایا تھا ،جس کے بعدان اثاثہ جات کی بحالی کے لئے پاکستان ریلویز نے 7 ارب 85 کروڑ 59 لاکھ روپے کاتخمینہ مختص کیا تھا۔ دستیاب دستاویزات کے مطابق پاکستان ریلویز کے دس اہم منصوبوں پر گزشتہ دس سالوں کے دوران وفاقی حکومت کی وجہ سے فنڈنگ نہ ہونے کی وجہ سے لاگت میں اضافہ ہوگیا ہے ، ان منصوبوں میں پاکستان ریلویز کے منصوبہ کنسٹرکشن آف سٹاف کوارٹرز کے منصوبہ کی اصل لاگت 47 کروڑ 50 لاکھ روپے تھی جو 26 کروڑ 50 لاکھ روپے اضافے کیساتھ اب 74 کروڑ روپے ہوگئی ہے ،پاکستان ریلویز کے ایک اور منصوبہ خانیوال سے رائے ونڈ تک 246 کلومیٹر ریلویز ٹریک کے ڈبلنگ کے منصوبہ کی اوریجنل لاگت 5 ارب 49 کروڑ 76 لاکھ روپے تھی جو8 ارب 76 کروڑ 33 لاکھ روپے بڑھ کر 14 ارب 26 کروڑ 10 لاکھ روپے ہوگئی ہے ،پاکستان ریلویز کے چار ہزار سے 45 سوہارس پاور کے 75 اور 2000 ہزار سے 2500 ہارس پاور کے 20 ایچ پی ڈیزل الیکٹرک لوکوموٹو کی خریداری کی اصل لاگت 12 ارب 70 کروڑ سے تھی جس کی لاگت میں32 ارب 79 کروڑ 59 لاکھ روپے اضافہ ہوااور اب اس منصوبے کی کل لاگت 45 ارب 49 کروڑ 60 لاکھ روپے ہوگئی ہے ۔وزارت ریلویز میں پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے قیام کے لئے پاکستان ریلویز نے 10 کروڑ روپے مختص کئے تھے تاہم منصوبے میں وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈنگ نہ ہونے کی وجہ سے منصوبے کی لاگت میں 7 کروڑ 73 لاکھ روپے اضافہ ہوگیا ہے ۔دستاویزات کے مطابق 2010 میں سیلاب سے پاکستان ریلویز کے اثاثہ جات کوشدید نقصان ہوا جس کی بحالی کا تخمینہ 6 ارب 36 کروڑ 52 لاکھ روپے لگایاگیا تھا تاہم اس منصوبہ میں بھی 3 ارب 23 کروڑ 17 لاکھ روپے کا اضافہ ہوتے ہوئے کل لاگت 10 ارب 46 کروڑ 11 لاکھ روپے ہوگئی ہے ،پاکستان ریلویز کی 300 ٹراکشن موٹرز کی بحالی کے لئے ایک ارب 650 کروڑ روپے لاگت مقرر کی گئی تاہم اس منصوبہ میں بھی 14 کروڑ 14 لاکھ روپے اضافہ ہوا اب اس منصوبہ کی کل لاگت ایک ارب 79 کروڑ 10 لاکھ روپے ہوگئی ہے ،27 اور 28 دسمبر 2007 کو سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی شہادت کے موقع پر شدت پسندوں نے پاکستان ریلویز کے صوبہ سندھ اور پنجاب میں اثاثہ جات کو شدید نقصان پہنچایا تھا جس کی بحالی کے لئے 7 ارب 85 کروڑ 59 لاکھ روپے تخمینہ لگاگیاتھا تاہم فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے منصوبہ کی لاگت میں 2 ارب 60کروڑ 51 لاکھ روپے بڑھ کر اب لاگت 10 ارب 46 کروڑ 11 لاکھ روپے ہوگئی ہے ۔پاکستان ریلویز کے ایک اہم منصوبہ جس کے تحت لودھراں سے ملتان،خانیوال سے شاہدرہ باغ مین لائن سیکشن پر پرانے سگنلز سسٹم کو تبدیل کرکے نئے سگنلز سسٹم کی تنصیب کے لئے اصل تخمینہ 10 ارب 72 کروڑ مقرر کیا گیا تھا تاہم فنڈز کی عدم دستیابی کے بعد منصوبہ کی لاگت میں 6 ارب 74 کروڑ 38 لاکھ روپے اضافہ ہوکر اب اسکی لاگت 17 ارب 46 کروڑ 41 لاکھ روپے ہو گئی ہے ۔پاکستان ریلویز کے ایک اور منصوبہ اپ گریڈیشن آف ٹرمینلز اینڈ ڈرائی پورٹس کے لئے اصل لاگت 99 کروڑ 50 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی جس میں 1 ارب 24 کروڑ 34 لاکھ روپے اضافہ ہوکر اب اس کی کل لاگت 2 ارب 23 کروڑ 84 لاکھ روپے ہوگئی ہے ۔پاکستان ریلویز کے اسٹیشنوں کی اپ گریڈیشن اور بحالی کے ایک منصوبہ پر اصل تخمینہ84کروڑ60لاکھ روپے لگایا گیا تھا جس کی لاگت میں45کروڑ 14لاکھ روپے کا اضافہ ہوکر اب اس کی لاگت ایک ارب29کروڑ 74 لاکھ روپے ہوگئی ہے ۔دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے منصوبوں کے لئے بروقت فنڈنگ نہ ہونے جبکہ پاکستان ریلویز کی جانب سے منصوبوں کے ڈیزائن میں تاخیر اورکنٹریکٹرز کی غیر ضروری تاخیر سے منصوبوں کی اصل لاگت میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔