نیویارک،کابل (صباح نیوز،آن لائن ،نیٹ نیوز ) نائن الیون حملوں کوبدھ کو 18 برس مکمل ہوگئے ہیں جس کی یاد میں امریکہ میں مختلف تقاریب کا انعقاد کیا گیا،ان حملوں کے دنیا کے نقشے اور حالات پر اثرات آج بھی دیکھے اور محسوس کیے جاسکتے ہیں۔گیارہ ستمبر 2001 کو نیویارک میں ہونے والا حملہ امریکہ کی سرزمین پر تاریخ کا بدترین حملہ قرار دیا جاتا ہے جس میں لگ بھگ 3000 ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی دو بلند و بالا عمارتوں پر ہائی جیک کیے گئے جہازوں سے حملے میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ نیویارک کے گرائونڈ زیرو پر اکٹھے ہوئے جہاں ہلاک افراد کی یاد گار پر پھول چڑھائے گئے ،نائن الیون حملوں کی یاد میں محکمہ دفاع میں تقریب منعقد کی گئی ،امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس نے پنسلوانیا میں تقریب سے خطاب کیا جہاں یونائیٹڈ ایئر لائنز کی پرواز 93 گر کر تباہ ہوگئی تھی۔سابق صدر جارج ڈبلیو بش پینٹاگون میں واقع مرنے والوں کی یادگار پر شام کے وقت پہنچے ۔ پینٹاگان میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ افغانستان میں طالبان کو زیادہ شدت سے حملوں میں نشانہ بنایا جائے گا، ہم نائن الیون کے زخموں کو نہیں بھولے ، دشمن نے اب اگر ہمارے ملک کا رخ کیا تو ہم ہرجگہ اس کے پیچھے جائیں گے اور اب دشمن کے خلاف ایسی طاقت استعمال کریں گے جو پہلے کبھی نہیں کی گئی،کچھ دنوں پہلے ہمارے طے شدہ امن مذاکرات ہونا تھے لیکن امریکی اہلکار اور گیارہ معصوم لوگوں کی ہلاکت کی خبر سنتے ہی میں نے وہ مذاکرات منسوخ کر دیے ۔ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے سمجھا تھا کہ اس حملے سے وہ اپنی طاقت ظاہر کریں گے لیکن انہوں نے تو اپنی کمزوری ظاہر کر دی، پچھلے چاردنوں میں پہلے سے زیادہ بھرپور طاقت سے دشمن کو نشانہ بنایا ہے اور یہ عمل جاری رہے گا۔امریکی صدر نے وضاحت کی کہ 'میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی بات نہیں کر رہا لیکن اب دشمن کے ساتھ وہ ہوگا جو کبھی نہیں ہوا۔ امریکی سرزمین پر حملے کرنے والے جنگجوؤں کو بھی خبردار کیا اور کہا کہ ایسے کسی حملے کا ردعمل بہت ہی شدید اور بالکل مختلف ہوگا ۔ دریں اثنا برسی پر افغانستان میں موجود امریکی سفارت خانے پر راکٹ فائر کیا گیاتاہم کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا ،امریکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق رات گئے کابل کے وسط میں واقع سفارت خانے سے دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے ،دوسری جانب امریکی سفارت خانے کے نزدیک موجود نیٹو مشن نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ حملے میں کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔علاوہ ازیں صدر ٹرمپ نے ایرانی ہم منصب سے ملاقات کیلئے پابندیوں میں نرمی کرنے کے سوال پر کہا کہ وقت آنے پر دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے ، تاہم انہوں نے ایران کو وارننگ دی کہ افزودہ یورینیم کے ذخائر میں اضافہ کرنا اس کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہو گا۔دوسری جانب ایرانی صدر حسن روحانی نے فرانسیسی ہم منصب میکغوں سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک انکے ملک پر عائد پابندیاں نہیں ہٹائی جاتیں تب تک امریکہ سے بات چیت کرنا بے معنی ہوگا۔