اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،ایجنسیاں )وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ مودی کے ہوتے مسئلہ کشمیرحل ہوتانظرنہیں آتا، ماحولیاتی تبدیلیوں سے پاکستان سب سے زیادہ متاثرہوا، کرکٹ کھیلنے اور ملک چلانے میں فرق ہوتا ہے ،بیلجیئم کے نشریاتی ادارے ’وی آر ٹی‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کاسیاسی اشرافیہ کرپٹ تھااس لئے سیاست میں آیا۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان ممکنہ معاہدے کے ذریعے افغانستان میں قیام امن کی امید ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ درست سمت میں چیزیں آگے بڑھ رہی ہیں۔ سیاسی مافیاکے خلاف لڑ رہا تھااس لئے اقتدارلینے میں 22 سال لگے ، پاک بھارت تعلقات میں کشمیر سب سے بڑی رکاوٹ ہے ، حق خود ارادیت کشمیریوں کا بنیادی حق ہے ، بھارت نے طاقت کے زور پر مسلم اکثریتی ریاست پرقبضہ کیا،نہرونے حق خودارادیت کا وعدہ کیا تھا جس پرعمل نہیں ہوا، وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ بھارت آر ایس ایس کے نظریہ پر چلایا جا رہا ہے ، آر ایس ایس نازیوں سے متاثر ہے ، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے 80 لاکھ سے زائد کشمیریوں کو کھلی جیل میں رکھا ہے ۔ بھارت میں مودی کی موجودہ حکومت سے کوئی امیدیں نہیں تاہم مستقبل کی بھارت کی مضبوط قیادت مسئلہ کشمیر کو حل کرنا چاہیں گی،افغانستان میں امن کیلئے پاکستان نے ہرممکن کوشش کی، افغان جہادکے باعث دنیا بھر سے مجاہدین پاکستان آگئے ، سوویت یونین کے جانے کے بعدافغانستان اورپاکستان عسکریت پسندوں کاگڑھ بن گئے ۔ نائن الیون کے بعدوہی مجاہدین دہشتگردقرارپائے جن کوامریکہ نے بنایاتھا، امریکی جنگ کاحصہ ہونے کے باعث 70ہزارپاکستانی جانوں سے گئے ،کوشش ہے چین کی طرح نچلے طبقے کواوپراٹھاسکوں، میری حکومت غربت مکاؤپروگرامزپرسب سے زیادہ توجہ دے رہی ہے ۔