اسلام آباد(نامہ نگار، 92 نیوز رپورٹ) چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاوید اقبال نے سابق وزیر اعظم نواز شریف،سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری، سابق ڈی جی آئی بی آفتاب سلطان، سابق پرنسپل سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر فواد حسن فواد ودیگر کیخلاف بدعنوانی کے ریفرنسز دائر کرنے کی منظوری دیدی،ملزمان پر مبینہ طورپرغیرملکی اعلی شخصیات کی سکیورٹی کیلئے غیرقانونی طریقہ سے 73 گاڑیاں خریدنے ،من پسند افراد کو نوازنے اور ان کے غیرقانونی استعمال کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو 1952.74ملین روپے کا نقصان پہنچا۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چئیرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت ہیڈکوارٹر ز اسلام آبادمیں ہوا جس میں ڈپٹی چئیرمین نیب، پراسیکیوٹر جنرل اکاؤ نٹیبلٹی نیب،ڈی جی آپریشن نیب اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی، اجلاس میں11ریفرنسز کی منظوری دی گئی۔نیب ایگزیکٹو بورڈ نے جنرل سیکرٹری مسلم لیگ (ن) ایم این اے احسن اقبال،پی ایس ڈی پی سپیشلسٹ محمد آصف شیخ، سابق ڈائریکٹر جنرل پاکستان سپورٹس بورڈاختر نواز گنجیرا،اسسٹنٹ انجینئرسرفراز رسول ،محمد احمد کنٹریکٹر/اونرز احمد اینڈ سنزکے خلاف بدعنوانی کاریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی ،ملزمان پر مبینہ طورپراختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے نارووال سپورٹس سٹی کا سکوپ تقریبا3کروڑ سے 3ارب روپے تک بڑھانے اور اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومت کے پراجیکٹ کیلئے غیرقانونی طور پر وفاقی حکومت کے فنڈزذاتی اثرو رسوخ استعمال کر کے فراہم کرنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کواربوں روپے کا نقصان پہنچا۔اجلاس میں فر خند اقبال سابق چئیرمین سی ڈی اے ،عبدالعزیز قریشی سابق ممبر پلاننگ ایند ڈیزائن،غلام سرورسندھو،سابق ڈی جی پلاننگ،محبوب علی خان اربن پلاننگ،وقار علی خان سابق ڈائریکٹر،مسعودالرحمن سابق ڈپٹی ڈائریکٹر،محمد اشفاق سابق اسٹیٹ مینجمنٹ آفیسر،لطیف عابدسابق اسٹیٹ مینجمنٹ آفیسر،شیراعظم وزیر،سابق ڈی ڈی ای ایم،رحیم خان،سابق ڈی ڈی بلڈنگ کنٹرول سی ڈی اے اور سید تحسین کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ملزمان پر مبینہ طورپر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کلینک کے پلاٹ کوکمرشل مقاصد کیلئے استعمال اور بعد زاں غیر قانونی طور پر لیز کی مدت میں اضافہ کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔نیب بورڈ نے سکندر جاویدسابق پراجیکٹ ڈائریکٹر کلین ڈرنکنگ واٹر فار آل،جمیل باجوہ،جنرل منیجر نیسپاک،افتخار علی،پراجیکٹ منیجر نیسپاک،جہازیب خان پرنسپل انجنئیر،شہاب انور خواجہ، سابق سیکرٹری وزارت بین الصوبائی رابطہ،عبدالمعید فاروقی،چیف ایگزیکٹو آفیسر،میسرز آئیڈیل ہائیڈروٹیک سسٹم کے خلاف بدعنوانی کا ضمنی ریفرنس دائر کرنے کی منظوری بھی دی۔ملزمان پر مبینہ طورپر اختیارات کے ناجائز استعمال کرنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو 9.012ارب روپے کا نقصان پہنچا۔ ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں شاہد خان سابق سیکرٹری داخلہ/سابق چئیرمین نیشنل پولیس فاؤنڈیشن،محمد رفیق حسن سابق منیجنگ ڈائریکٹر نیشنل پولیس فاؤنڈیشن،طارق حنیف سابق ڈائریکٹر ہاؤسنگ نیشنل پولیس فاؤنڈیشن اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ملزمان پر مبینہ طورپر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیرقانونی طورپر نیشنل پولیس فاؤنڈیشن ہاؤسنگ سکیم میں کمرشل پلاٹ کی الا ٹمنٹ کا الزام ہے جس کو بعد ازاں تقریبا 4کروڑ روپے میں فروخت کردیاجس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔نیب بورڈ نے ہارون رشید سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر این ٹی ایس اسلام آباد، وقار سمیع خان سابق کمپنی سیکرٹری این ٹی ایس،فیض الابرار،سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر این ٹی ایس اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی بھی منظوری دی،ملزمان پر عوام کو بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کے ذریعے لوٹنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو 34.74ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ اجلاس میں وسیم اجمل سابق چیف ایگزیکٹو آفیسرپنجاب صاف پانی کمپنی ساؤتھ،عمران علی یوسف چیف ایگزیکٹو آفیسرمیسرز علی اینڈ فاطمہ ڈویلپرزکے خلاف بدعنوانی کا ضمنی ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ملزمان پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے باہمی ملی بھگت سے زیر تعمیر عمارت کرائے پر لینے اور قومی خزانے کو 24.7ملین روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے ۔اس موقع پرعثمان انور سابق ڈی جی سپورٹس،ولایت علی شاہ سابق ڈپٹی ڈائریکٹر سپورٹس بورڈپنجاب،محمد طارق مقصود وٹو سابق ڈپٹی ڈائریکٹر سپورٹس بورڈ پنجاب، محمد حفیظ بھٹی سابق ڈپٹی ڈائریکٹر سپورٹس بورڈپنجاب اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی،ملزمان پر مبینہ طورپر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سرکاری فنڈز میں خوردبردکا الزام ہے ۔اجلاس میں اقبال زیڈ احمد چئیرمین ایسو سی ایٹ گروپ/چیف ایگزیکٹیو آفیسر( جے جے وی ایل)،فصحیح احمد،رضی الدین احمد،عاصم افتخار،ڈائریکٹر فنانس جے جے وی ایل،قاضی ہمایوں فرید ڈائریکٹر جے جے وی ایل،سلامت علی،جنرل منیجر فنانس ایل یو بی اینڈ مہران،طارق محمود اور محمد رمضان فرنٹ مین کے خلاف بدعنوانی کا ضمنی ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ملزمان پر مبینہ طورپربدعنوانی اور منی لانڈرنگ کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو 28.995ارب روپے کا نقصان پہنچا۔نیب بورڈ نے غلام اکبر سہو سابق ڈی جی آڈٹ حکومت سندھ،امتیاز علی سہو،میڈیکل آفیسر بیسک ہیلتھ یونٹ خیرپور،عمران علی سہوسابق ڈی بی آفیسرسندھ ایجوکیشن فائنڈیشن کراچی کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی ،ملزمان پر مبینہ طورپرآمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے ۔اجلاس میں نواب اسلم رئیسانی سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان،میر لشکری رئیسانی،میرعبدالنبی رئیسانی،دوستین خان جمالدینی،سابق سیکرٹری خزانہ حکومت بلوچستان اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ملزمان پر مبینہ طورپراختیارت کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے حکومت بلوچستان کے خزانہ سے خود اور اپنے رشتہ داروں کو غیر قانونی طور پر نوازنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو تقریبا81کروڑ70لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔نیب بورڈنے 4 انوسٹی گیشنز کی بھی منظوری دی ۔ رانا ثناء اللہ خان رکن قوی اسمبلی اور دیگر، علیم خان رکن پنجا ب اسمبلی،پارک ویو ولاز/ریور ایج ہاؤسنگ سوسائٹی لاہور اور دیگر،میسرز اسلام آباد ٹیسٹنگ سروسز (ITS)پرائیویٹ لمیٹڈکی انتظامیہ اور دیگر،یوسف بیگ مرزاسابق منیجنگ ڈائریکٹر پی ٹی وی اور دیگرکے خلاف انوسٹی گیشنز ہوگی۔ اجلاس میں 4 انکوائریز کی منظوری دی گئی جن میں ڈاکٹر اللہ دتہ رضا چودھری سابق ڈائریکٹر جنرل عبدالسلام سکول آف میتھمیٹکل سائنسز،گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور اور دیگر،اختر عباس بھر وانہ سابق جنرل منیجر ٹیوٹالاہور اور دیگر،ظہیر عباس پراپرائٹر گلوبل ٹریڈنگ،ستارہ انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ،فیصل آباد،فیسکو،سی پی پی اے ،نیپرا کے افسران /اہلکاران اور دیگر کے خلاف انکوائریز شامل ہیں۔نیب بورڈ نے محمد عاشق ایکسین اور دیگر کے خلاف انکوائری عدم شواہد کی بنیاد پرقانون کے مطابق بند کرنے کی منظوری دی۔ چئیرمین نیب نے کہابدعنوانی کا خاتمہ،کرپشن فری پاکستان اورمیگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا اولین ترجیح ہے ،نیب نے احتساب سب کیلئے کی پالیسی کے تحت 466 ارب روپے بلواسطہ اور بلا واسطہ طور پر بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے ،نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الا قوامی اداروں نے سراہا جوہمارے لئے اعزازکی بات ہے ۔نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت،گروہ اور فرد سے نہیں بلکہ صرف اور صرف ریاست پاکستان سے ہے ، مفرور اور اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لئے قانو ن کے مطابق تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ بدعنوان عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا جا سکے ۔ شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز مقررہ وقت کے اندر قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے کے علاوہ انوسٹی گیشن آفیسرز اور پراسیکوٹرز پوری تیاری کے ساتھ معزز عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کریں تاکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جاسکے ۔