اسلام آباد،راولپنڈی(وقائع نگار،نامہ نگار خصوصی)وزیرہوابازی غلام سرورخان نے سینٹ قائمہ کمیٹی ایوی ایشن کے اجلاس کے دوران کہا ہے کہ اسلام آباد ایئر پورٹ کی تعمیر کے معاملے میں مالی بے ضابطگیوں ہوئیں، کوئی بھی مقدس گائے نہیں ،ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے ۔ ایئر پورٹ کی تعمیر میں کرپشن کے معاملے کی خود تحقیقات کر رہا ہوں، سول ایوی ایشن افسران بھی قصوروار ہیں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر مشاہد اﷲ خان کی زیر صدارت اجلاس میں نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ منصوبے میں کرپشن کے معاملات، پی آئی اے میں بہتری کیلئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر بہرہ مند تنگی نے کہا کہ ایف آئی اے رپورٹ کے مطابق ائرپورٹ منصوبے میں کرپشن نہیں کی گئی تو شمس الملک کی سربراہی میں کمیٹی کیوں تشکیل دی گئی ؟سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر ایچ آرثمر رفیق نے بتایا ایف آئی اے رپورٹ میں ٹیکنکل کرپشن کے آثار ہیں جبکہ مالی کرپشن نظر نہیں آئی۔وزیر ایوی ایشن غلام سرور نے کہا کہ 17پیکجز پر انکوائری ہونی چاہئے ، یہ منصوبہ 125ارب تک جائیگا، وزیراعظم کو اس حوالے سے آگاہ کیا ہے ، ذمہ داران کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائیگا۔ اجلاس کے دوران سول ایوی ایشن حکام نے کہا کہ بھارت نے فضائی حدود کھولنے کیلئے رابطہ کیا ہے ، کشیدگی کے باعث بھارتی جہازوں کیلئے فضائی حدودتاحال بندہے کیونکہ بھارت کے لڑاکا طیارے ایئر بیسز پر موجود ہیں۔ بھارت کو جواب دیا کہ ایئر بیس کلیئر اورجنگی طیارے ہٹانے تک فضائی حدودنہیں کھولی جائیگی۔ کمیٹی کو پی آئی اے کی بہتری کیلئے اُٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔