مکرمی !نوجوان کسی بھی ملک کا سرمایہ ہوتے ہیںاور ترقی یافتہ ممالک اپنے نوجوانوں کو پیش آنے والے مسائل کو حل کرنے کیلئے کام کرتے ہیں۔پاکستان کا موجودہ نظام نوجوانوں میں ڈپریشن کا باعث بن رہا ہے۔طالبات کے خودکشی کے بڑھتے واقعات اس نظام پر ایک سوالیہ نشان ہیں۔ہرمرحلے پر طالبات پر پریشررہتا ہے کہ اگرمیٹرک میں اچھے نمبرز نہیں آئے تو اچھے کالج میں داخلہ نہیں ملے گا۔ انٹر میں اچھے نمبرز نہیں آئے تو اچھی یونیورسٹی میں داخلہ کیسے ملے گا۔ یونیورسٹی میںاچھا گریڈ نہیں آیاتونوکری نہیں ملے گی۔ اس تمام پریشر کو برداشت کرکے جب وہ نوکری کی تلاش میں نکلتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ ہر جگہ صرف تجربہ کارافراد،رشوت یاواقفیت کی ضرورت ہوتی ہے یہ نوجوانوں میں مزید ڈیپریشن کا باعث بنتاہے۔ نوجوانوں کو اس ڈپریشن سے نکا ل کر اُنکی تمام تر قوتوں کو ملک کی ترقی میں لگا نے کے لیے حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ (ارفع مشعل،لاہور)