وزیر اعظم عمران خان نے نئے سال کے آغاز پر بھوک کے خاتمہ اور طبی سہولیات کی فراہمی کو اپنے سالانہ اہداف کے ترجیحی نکات قرار دیا ہے، بلاشبہ یہ دونوں شعبے حکومتوں کی عدم توجہی کے باعث عوام کی زندگی آسان بنانے کے ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں ۔وزیر اعظم کی طرف سے ان کو اپنی کارکردگی کے ساتھ جوڑنے سے امید ہے کہ یہ شعبے قومی بجٹ سے زیادہ حصہ پائیں گے اور ان کی کارکردگی خراب کرنے والے عناصر پر گرفت کی جائے گی۔ صحت کے حوالے سے 149 ویں نمبر پرموجود اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کروڑوں شہری علاج معالجے کی معیاری سہولیات سے محروم ہیں۔ کسی بھی ملک میں صحت کی سہولت، بنیادی انسانی حقوق میں سے ایک تصور کی جاتی ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ شہریوں کو علاج معالجے کی سستی اور معیاری سہولیات فراہم کرے۔ دنیا کے ہر ترقی یافتہ ملک میں حکومتیں عوام کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کیلئے بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ مختص کرتی ہیں۔ وطن عزیز میں جن بڑ ے شہروں میں اچھے سرکاری ہسپتال موجود ہیں وہ پورے ملک کی آبادی کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے تو کیا بلکہ ان شہروں میں رہائش پذیر شہریوں کو بھی معیاری علاج فراہم کرنے کی استعداد نہیں رکھتے۔ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات ہیں اور نہ مطلوبہ تعداد میں ڈاکٹر، جو ہیں وہ بھی اپنا کام احسن طریقے سے انجام دینے سے قاصر ہیں۔ معمولی علاج اور ٹیسٹ کے لئے تاریخوں پر تاریخیں دی جاتی ہیں، سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹر مریضوں کو پرائیویٹ لیبارٹریوں سے ٹیسٹ کا مشورہ دیتے ہیں ۔ پاکستان میں حاملہ خواتین اور بچوں کی صحت کے لیے لیڈی ہیلتھ ورکرز کا نظام سنہ 1993 میں وضع کیا گیا تھا اور ملک بھر میں صحت کے بنیادی مراکز قائم کیے گئے تھے۔ محکمہ صحت کے حکام کے مطابق دو ہزار خواتین کی بھرتی سے شروع ہونے والے اس پروگرام میں اس وقت لیڈی ہیلتھ ورکرز کی کل تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔سرکاری فرائض کے دوران مسائل کا سامنا کرنے والی یہ ایل ایچ ویز آئے روز احتجاج کرتی نظر آتی ہیں۔ملک میں کاغذوں کی حد تک تو صحت کا مضبوط بنیادی ڈھانچہ نظر آتا ہے لیکن سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان بھر میں 1500 مریضوں کے لیے ایک ڈاکٹر ہے، جبکہ حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کے لیے ملک بھر میں صرف 756 بنیادی صحت کے مراکز ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سن 2008 میں سرکاری ہسپتالوں کی تعداد 948 تھی جبکہ سن 2019 میں یہ بڑھ کر 1282 ہوئی ۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ان سرکاری ہسپتالوں پر مریضوں کا ایک بہت بڑا بوجھ ہے اور ’ہسپتالوں کی یہ تعداد 22 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک کے لیے نہایت کم ہے۔ہسپتالوں کی تعداد، طبی عملے کے مطابق حاملہ خواتین کے لیے قائم صحت کے مراکز کی ذمہ داریاں بھی بٹ گئی ہیں، جن مراکز کو 24 گھنٹے کام کرنا تھا وہ چھ سے آٹھ گھنٹے ہی خواتین کے لیے کھلے رہتے ہیں۔سال گزشتہ میں کورونا کی وبا نے ملک میں طبی سہولیات، تحقیق اور ادویات کی مارکیٹنگ کے نظام کو بری طرح بے نقاب کر دیا ۔ پاکستان کے ہنگر انڈکس کی بات کریں تو یہ 2000 میں 38.3 تھا جو 2005 میں کم ہوکر 37.0 ہوگیا جبکہ 2010 میں یہ 35.9 کی شرح پر آگیا اور 2019 میں 28.5 پر آگیا۔سال 2020کے انڈکس کے مطابق107 ممالک میں سے پاکستان 88 ویں نمبر پر ہے ۔واضح رہے کہ گلوبل ہنگر انڈیکس اسکور کا حساب 4 اشاروں پر کیا جاتا ہے۔ 1 :ناکافی خوراک‘2 ۔چائلڈ ویسٹنگ: 5 سال سے کم عمر بچے اس کا شکار ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے قد کے حساب سے ان کا وزن کم ہوتا ہے اور یہ شدید غذائیت کی عکاسی کرتا ہے۔3 :چائلڈ اسٹننگ: 5 سال سے کم عمر وہ بچے جو اپنی عمر کے حساب سے کم قد رکھتے ہیں، وہ دائمی طور پر غذائیت کی کمی کی عکاسی کرتے ہیں۔4: بچوں کی اموات: 5 سال سے کم عمر بچوں میں اموات کی شرح۔اگرہنگر انڈکس میں دیگر ممالک کی درجہ بندی کو دیکھیں تو بھارت کے سوا جنوبی ایشیائی ممالک میں بھوک اور غذائی قلت کم ہے۔ عالمی ہنگر انڈکس کے مطابق 117 ممالک میں سری لنکا 66، نیپال 73، بنگلہ دیش 88، میانمار 69 اور پاکستان 94 نمبر پر ہیں.تاہم یہ سب ممالک بھی 'سنگین' بھوک کا شکار درجہ بندی میں آتے ہیں لیکن انڈکس کے مطابق بھارت کے مقابلے میں ان ممالک نے اپنے شہریوں کو بہتر خوراک فراہم کی ہے۔ خوراک کی پیدا وار کے حوالے سے پاکستان خود کفیل رہا ہے مگر بد انتظامی ،خوراک کی سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزوں کی وجہ سے ہمیشہ ایک غیر یقینی پن دکھائی دیتا ہے، سال 2020 کے دوران ملک میں آٹا اور چینی کی قیمتوں میں جو بحران دکھائی دیا اس کے اسباب کا پتہ چلانے کے لئے تحقیقاتی رپورٹس تیار کرائی گئیں ، وزیر اعظم نئے گوداموں کی تعمیر ، زرعی شعبے میں کام کرنے والی لیبارٹریوں کے قیام ، زرعی سائنسدانوں کی حوصلہ افزائی ،زرعی ادویات کے کارخانے لگانے اور کسانوں کو ٹیکنالوجی کی فراہمی یقینی بنا کر بھوک کی بنیاد بننے والے عناصر کا مقابلہ کر سکتے ہیں ۔ان دونوں شعبوں کی استعداد اور کارکردگی کو بڑھانے میں کامیابی حاصل کر لی گئی تو عام آدمی کی زندگی بلا شبہ بہتر ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔