وزیر اعظم نے تمام بینکوں کو نیا پاکستان ہائوسنگ پروگرام کے لئے ضابطے کی کارروائی اور طریقہ کار آسان بنانے کی ہدایت کی ہے ۔وزیر اعظم عمران خاں نے یہ ہدایت اس رپورٹ کے سامنے آنے پر جاری کی جس میں بتایا گیا ہے کہ شہریوں کی بڑی تعداد مشکل طریقہ کار کی وجہ سے حکومت کی اس مفید سکیم سے فائدہ نہیں اٹھا پا رہی۔نیشنل بنک کی ٹیلی تھون سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا نیشنل بنک کو ملک کا سب سے بڑا ادارہ ہونے کی حیثیت سے اپنے عملے کو درخواست گزاروں کے لئے سہولت پیدا کرنی چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ بنکوں کا عملہ سرمائے سے محروم افراد کو آسان قرضے جاری کرنے کی تربیت نہیں رکھتا جس کی وجہ سے کچھ مسائل سامنے آئے ہیں۔ وزیر اعظم ایک روز قبل پروگرام کے لئے مختص رقوم دوگنا کرنے کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بے گھر افراد کو چھت فراہم کرنے کے لئے حکومتی کوششوں میں اضافے کے خواہاں ہیں۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں بے گھر افراد کی تعداد ڈھائی کروڑ سے زاید ہو چکی ہے۔ بے گھری کا شکار عموماً وہ لوگ ہیں جو بہتر معاشی مواقع اور روزگار کی تلاش میں اپنے آبائی علاقوں سے نقل مکانی کر کے بڑے شہروں کو آتے ہیں۔کراچی‘ لاہور‘ فیصل آباد اور راولپنڈی خاص طور پر اس نقل مکانی سے متاثر ہوئے۔ اس کا ایک نقصان یہ ہوا کہ ان شہروں کے نزدیک زرعی رقبوں پر تیزی سے ایسی ہائوسنگ سکیمیں بننے لگیں جو عملی طور پر کچی آبادی ہیں۔ انتہائی نچلے معاشی درجے میں آنے والے کے پاس اگر کبھی گنجائش بنی تو وہ ایسی کچی آبادیوں میں جا بسا لیکن کم آمدنی والے سفید پوش خاندان نسل درنسل کرائے کے مکانوں میں زندگی گزارتے آ رہے ہیں۔ ان خاندانوں کی ماہانہ آمدنی کا تیسرا یا آدھا حصہ کرائے پر اٹھ جاتا ہے۔ اس صورت حال میں اپنے گھر کے لئے بچت کرنا ممکن نہیں رہتا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی کپڑا اور مکان دینے کا وعدہ کر کے محروم اور افلاس زدہ طبقات کو جمع کیا۔ محمد خان جونیجو وزیر اعظم بنے تو انہوں نے بھی بھٹو کی طرح کچی آبادیوں کو ریگولر کرنے اور دیہی علاقوں کے بے گھر خاندانوں کو چھوٹے گھر فراہم کئے۔ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف یکے بعد دیگرے حکمران بنے۔ جنرل پرویز مشرف حکمران رہے۔ ان کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کو پھر سے ایک ایک بار حکومت کرنے کا موقع ملا لیکن بے گھر افراد کی بہبود کے لئے کچھ نہ ہو سکا۔ الٹا ہر ادارے اور پالیسی میں غیر ضروری سیاسی مداخلت کا منفی نتیجہ برآمد ہونے لگا۔ اقربا پروری‘ غیر شفافیت اور سیاسی بنیادوں پر ییلو کیب‘ گھروں کے لئے قرضوں اور کاروبار کے لئے رقوم تقسیم کرنے کے باعث بینکوں میں شہریوں کی بچت والی رقوم ڈوب گئیں۔ہائوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن جیسا مفید ادارہ برباد ہو گیا اور مستحق لوگوں کا نظام پر سے اعتبار اٹھ گیا۔ تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے سے قبل بے گھر افراد کے لئے 50لاکھ سستے گھر بنانے کا دعویٰ کیا‘اقتدار ملا تو معلوم ہوا کہ ریاست کے پاس اتنے وسائل ہی نہیں کہ بیرونی قرضوں کی اقساط ادا کرنے کے بعد اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے پر خرچ کر سکے۔ اس پر مستزاد سرکاری اداروں میں پھیلی بدانتظامی اور سابق حکومتوں کے دور میں جاری کی گئی قرض سکیموں کا عبرت آموز سبق۔ سال گزشتہ حکومت نے ایسے تمام افراد سے درخواستیں طلب کیں جو بے گھر تھے اور آسان اقساط پر گھر حاصل کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔ریکارڈ کے مطابق ملک بھر سے 19لاکھ سے زاید افراد نے درخواستیں جمع کرائیں۔ درخواست گزاروں نے 250روپے بھی جمع کرائے۔ ان درخواستوں کا کیا بنا کسی کو معلوم نہیں۔ حکومت نے نجی شعبے کو تعمیراتی سرگرمیوں پر رعائتی پیکیج دیا لیکن اس بات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے کہ نجی شعبہ ان رعائتوں کے بدلے میں اپنے منافع کی شرح کس حد تک کم رکھنے پر آمادہ ہے۔ نیا پاکستان ہائوسنگ پروگرام میں ایک اپارٹمنٹ کی قیمت 29لاکھ 85ہزار مقرر کی گئی۔ لاہور جیسے شہر میں پریمیر کوالٹی کے گھر کا فی مربع فٹ ریٹ 2200روپے ہے۔ اس حساب سے 550مربع فٹ گھر پر لاگت 12لاکھ‘37ہزار 500روپے بنتی ہے۔ یوں چار اپارٹمنٹوں کی قیمت ساڑھے 49لاکھ ہو گی۔ اس میں زمین کی قیمت 10لاکھ شامل کر لیں تو مجموعی خرچ 60لاکھ ہو جائے گا۔ اس لاگت والے اپارٹمنٹ ایک کروڑ بیس لاکھ میں فروخت کے لئے پیش کئے جا رہے ہیں۔ سوچنا چاہیے کہ غریب اور محروم طبقات کو بنیادی سہولت فراہم کرنے والے کام میں اس قدر منافع جائز ہو گا؟ وزیر اعظم کی ہدایت پر بنک بے گھر افراد کو 5فیصد مارک اپ پر قرض فراہم کر رہے ہیں۔ حکومت نے نجی شعبے اور بینکوں کو گارنٹی دی ہے کہ قرض کی وصولی نہ ہونے پر حکومت ادائیگی کرے گی اس کے باوجود بینک شرط لگا رہے ہیں کہ درخواست گزار کے اکائونٹ میں ماہانہ 30ہزار سے کم تنخواہ کی رقم آتی ہو تو وہ قرض کے لئے حق دار نہیں ہو گا۔یہ درست ہے کہ قرض سکیموں میں لوٹ مار ہوتی رہی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ درخواست گزاروں کی استعداد اور قوت ادائیگی کو نظر انداز کر کے معمول کے بینکنگ طریقوں کو اولیت دی جائے۔ یہ درخواست گزار سیاسی سفارش کے بنا قرض کے خواہاں ہیں‘ ایسے لوگوں نے ریاست کے خزانے کو کبھی نقصان نہیں پہنچایا۔ امید کی جاتی ہے کہ نیا پاکستان ہائوسنگ پروگرام میں قرض کے حوالے سے جو مسائل عام آدمی کو درپیش ہیں ان کو بلاتاخیر حل کیا جائے گا۔