بھارت نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے رواں ہفتے ہونے والے اجلاس میں اپنے زیر انتظام کشمیر کے خراب حالات پر کسی بھی بات چیت کو مسترد کر دے گا۔ادھر، پاکستان جمعے کو وزیر اعظم عمران خان کے عالمی رہنماؤں سے خطاب کو اہم موقع سمجھتے ہوئے مسئلہِ کشمیر کو ترجیحی بنیادوں پر اٹھائے گا۔اقوام متحدہ میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا جب دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان سفارتی میدان تصادم کی راہ پر گامزن ہوا ہو اور دونوں طاقتوں نے وسط میں پہنچ کر کسی تعطل کا شکار ہونے سے بچنے اور نازک توازن برقرار رکھنے کے لیے اتحادیوں کی مدد لی ہو۔اتفاق کی بات ہے عمران خان کی تقریر ان کے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کے خطاب کے فوراً بعد ہو گی۔پاکستانی حکام کے مطابق عمران خان اپنے خطاب میں بھارت کے زیرانتظام مسلم اکثریتی کشمیر میں مظاہرین سے نمٹنے کے طریقے پر مودی پر دہشت گردی کا الزام لگائیں گے۔ماضی کی ریاستِ کشمیر اب پاکستان اور بھارت کے درمیان منقسم ہے اور اس کا ایک چھوٹا حصہ چین کے پاس ہے لیکن پاکستان اور بھارت پورے علاقے کی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پانچ اگست سے ہر قسم کے مواصلاتی رابطے مکمل طور پر بند ہیں۔ اْس روز مودی انتظامیہ نے خطے کی آئین میں دی گئی خود مختاری ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس اعلان کے بعد بعض علاقوں میں بدامنی ہے لیکن غیر ملکی ذرائع ابلاغ پر سخت پابندی، مسلسل کرفیو سمیت موبائل فون بند رہنے کی وجہ سے کشمیری عوام اور بھارتی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی خبریں دوسرے علاقوں تک نہیں پھیلیں۔جب بھی رپورٹروں کو لوگوں کے ساتھ رابطے کا موقع ملا انہوں نے بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر تشدد اور اذیت دینے کے واقعات کے بارے میں بتایا۔ بھارتی حکومت نے پرتشدد کارروائیوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ نیم فوجی دستوں کے خلاف تمام الزامات کی تحقیقات کی گئی ہیں۔پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا وزیر اعظم عمران خان جمعے کو جنرل اسمبلی میں عالمی برادری سے’بھرپور‘ خطاب کریں گے۔پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے برطانوی اخبار کو انٹرویو میں کہا عمران خان کشمیر میں جاری مظالم اور عالمی برادری کی ذمہ داری پر روشنی ڈالیں گے تاکہ کشمیریوں کی نسل کشی روکی جا سکے۔تاہم بھارت کا اصرار ہے وہ اپنے زیر انتظام کشمیر میں جو کچھ کر رہا ہے وہ اس کا داخلی معاملہ ہے جس پر اقوام متحدہ میں بحث نہیں کی جا سکتی۔بھارتی وزیر خارجہ وجے گوکھلے نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس میں کہا جنرل اسمبلی کا اجلاس وزیراعظم مودی کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ بھارت کے’عالمی کردار اور عالمی توقعات‘ پر بات کریں۔مودی پورا ہفتہ بہت مصروف ہوں گے۔ ان کے اگلے ہفتے کے ایجنڈے میں بہت سے نکات شامل ہیں اور توقع ہے وہ پیر کو موسمیاتی تبدیلیوں پر سربراہ کانفرنس 2019 ء سے خطاب بھی کریں گے۔ اس کے علاوہ متعدد اجلاسوں میں 2030ء کے پائیدار ترقی کے اہداف پر کا جائزہ لیا جائے گا۔انہیں ’عالمی چوکیدار ایوارڈ‘ بھی دیا جائے گا۔ اس ضمن میں بل اینڈ میلنڈا فاؤنڈیشن تقریب کا اہتمام کرے گی۔ انہیں یہ ایوارڈ’سواچ بھارت‘ پروگرام کے تحت ملک بھر میں ٹوائلٹ بنانے پر دیا جائے گا۔جہاں تک کشمیر کی بات ہے تو سیکرٹری خارجہ گوکھلے کہہ چکے ہیں ’اس پر کوئی بات نہیں ہوگی اور ہم اس بارے میں کوئی بات نہیں کریں گے۔ اگر پاکستانی وزیر اعظم اپنی تقریر میں اس معاملے کو اٹھانا چاہتے ہیں تو ہم ان کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم صرف انہی معاملات پر توجہ دیں گے جن کے اقوام متحدہ کی اعلیٰ سطحی اجلاس کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہم ترقی کی بات کریں گے، امن اور امیدوں کی بات کریں گے۔بھارت کوشش کرے گا کہ عالمی منظر نامے پر کشمیر کی بات نہ ہو سکے ۔ ٹرمپ نے حالیہ مہینوں میں کئی بار کشمیر کے مسئلے پر ’ثالثی‘ کروانے اور بھارت اور پاکستان کی ’ مدد‘ کرنے کی پیشکش کی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ گو بھارت کئی بار کہہ چکا ہے وہ اس معاملے پر صرف پاکستان کے ساتھ براہ راست بات کرے گا۔اتوار کو مودی نے ٹیکساس سے اپنے دورہِ امریکہ کا آغاز کیا، جہاں امریکہ میں مقیم 40 لاکھ بھارتی شہریوں میں سے بڑی تعداد رہتی ہے۔بھارتی وزیر اعظم نے مجمعے کو بتایا، ’دوستو جیسے میں نے آپ کو بتایا تھا ہم کئی بار مل چکے ہیں اور صدر ٹرمپ ہر بار ایک سے رہے ہیں۔ گرم جوش، دوستانہ، آسان رسائی، توانا اور مزاح سے بھرپور۔ وائٹ ہاوس میں بھارت کا حقیقی دوست موجود ہے‘۔کچھ دیر بعد ٹرمپ بھی ان کے ساتھ سٹیج پر موجود تھے، جن کا کہنا تھا، ’بھارت کو کبھی ڈونلڈ ٹرمپ جیسا دوست نہیں ملا۔ مودی کی زیر قیادت دنیا ایک مضبوط اور خودمختار بھارت دیکھ رہی ہے۔ ہم لون سٹار سٹیٹ میں بھارت کی سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ دنیا بھر کی اقوام امریکہ میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں کیونکہ وہ جانتی ہیں ہماری معیشت اور محنت کش سب سے بہترین ہیں۔ ہم سب کے شکرگزار ہیں۔ بھارت نے کبھی اس طرح امریکہ میں سرمایہ کاری نہیں کی جیسے اب کی جا رہی ہے۔ میں کہوں گا ایسا دوطرفہ ہے کیونکہ ہم بھی بھارت میں ایسا ہی کریں گے‘۔تقریب میں سوالوں کا موقع نہیں دیا گیا نہ ہی اس میں کشمیر کا ذکر کیا گیا۔بھارت امید کرے گا باقی ماندہ ہفتے میں بھی ایسا ہی ہو۔ ( بشکریہ دی انڈپینڈنٹ)