لاہور(خصوصی نمائندہ؍ نیوز ایجنسیاں؍ مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم نے پنجاب میں نئے بلدیاتی نظام کے مسودے کی منظوری دے دی جسے آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل پنجاب اسمبلی سے منظور کرایا جائے گا ،ایوان سے بل کی منظوری کے بعد حکومت ایک سال کے اندر بلدیاتی انتخابات کرانے کی پابند ہو گی، جبکہ وزیراعظم نے سانحہ ساہیوال پر جوڈیشل کمیشن بنانے کی ہدایت کردی،وزیراعظم نے ادویات کی قیمتیں بڑھانے والوں کے خلاف فوری کارروائی کا بھی حکم دے دیا اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ72گھنٹوں میں ادویات کی قیمتوں کو پرانی سطح پر واپس لایا جائے ۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت صوبائی پارلیمانی پارٹی اور صوبائی کابینہ کا مشترکہ اجلاس ہوا۔اجلاس کے آغاز میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے والد مرحوم سردار فتح محمد بزدار کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔وزیراعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں ایک مربوط اور جامع لوکل گورنمنٹ سسٹم متعارف کرا رہے ہیں جس سے طرزِ حکومت میں انقلابی تبدیلی رونما ہوگی۔ وزیراعظم عمران خان نے صوبہ پنجاب میں گندم کی فصل میں کاشت کاروں کو مناسب معاوضے کی ادائیگی کو یقینی بنانے اور اس ضمن میں تمام تر بے قاعدگیوں کو ختم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے رمضان المبارک میں مہنگائی اور منافع خوری کے تدارک کے لئے خصوصی اقدامات اٹھانے کی بھی ہدایت کی۔اجلاس میں مقامی حکومتوں کے نظام پر بریفنگ دی گئی۔ صوبائی وزیرقانون و بلدیات راجہ بشارت نے میاں اسلم اقبال اور ڈاکٹر شہباز گل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت بلدیاتی نظام تین درجاتی یونین کونسل، میونسپل کمیٹیز اور ضلع کی سطح پر قائم ہے لیکن نئے نظام میں اسے دو درجاتی نظام سے تبدیل کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں میٹرو پولٹین کارپوریشن ، متوسط شہروں میں میونسپل کارپوریشن جبکہ 182شہروں میں میونسپل کمیٹیز یا ٹائون کمیٹیز ہوں گی ، شہری علاقوں میں 2400 نیبر ہوڈ کونسل جبکہ دیہات میں 22ہزار پنچایتیں ہوں گی ۔ انہوں نے کہا پنچائیت او رنیبر ہوڈ کونسل کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوں گے جبکہ تحصیل ، اربن کونسل ، میٹرول پولیٹن کارپوریشن کے انتخابات براہ راست جماعتی بنیادوں پر ہوں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل نئے بلدیاتی نظام کے مسودے کو اسمبلی سے منظور کرا لیا جائے گا اور اس کی منظوری کے بعد ایک سال کے اندر اندر انتخابات کرانے کی پابندی ہو گی ، جیسے ہی نیا نظام نافذ العمل ہوگا تو جاری بلدیاتی ادارے ختم ہو جائیں گے ۔انہوں نے کہا پولیس کے نظام میں اصلاحات کے لئے تین کمیٹیاں کام کر رہی ہیں جیسے ہی رپورٹ آئے گی، اتفاق رائے سے اسے حتمی شکل دی جائے گی۔92نیوز رپورٹ کے مطابق صوبائی وزیر محمود الرشید نے کہاکہ شریف فیملی کیخلاف موجودہ نیب کیسز پہلے سے چل رہے ہیں،اب حکومت اپنے مواد کی بنیادپرنئے مقدمات دائرکریگی۔وزیراعظم سے سانحہ ساہیوال کے متاثرین کے ورثا نے بھی ملاقات کی۔ وزیراعظم نے حکومت کی جانب سے ورثامیں امدادی چیک تقسیم کئے ۔متاثرین نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب کو ضروری اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ قانونی طور پر دیکھا جائے ، اگر جوڈیشل کمیشن بن سکتا ہے تو اس پر عمل کیا جائے ،وزیراعلیٰ قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد اقدامات اٹھائیں گے ۔ دریں اثنا برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کو خصوصی انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ تنازع کشمیر پر بھارت کے ساتھ امن خطے کیلئے بے حد خوش آئند اور زبردست فوائد کا حامل ہو گا، مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے ، اس مسئلہ کوسلگتا ہوا نہیں چھوڑا جا سکتا، کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ وہاں کے لوگوں کا ردِ عمل ہے ۔ عمران خان نے کہا جوہری طور پر مسلح ہمسائے اپنے اختلافات کو صرف مذاکرات کے ذریعے حل کر سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہم پہلے ہی شدت پسند تنظیموں کو غیر مسلح کر رہے ہیں، یہ جنگجو گروہوں کو غیر مسلح کرنے کی پہلی سنجیدہ کوشش ہے ۔ وزیراعظم نے کہا ہم ان کے خلاف کارروائی کا عزم رکھتے ہیں کیونکہ یہ پاکستان کے مستقبل کے لئے ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا اس حوالے سے بیرونی دباؤ نہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے آسیہ بی بی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا سپریم کورٹ کی جانب سے توہین مذہب کے الزام میں بری کی جانے والی آسیہ بی بی بہت جلد پاکستان چھوڑ دیں گی۔ رائٹرز کے مطابق عمران خان نے کہا جب جہاد ختم ہوگیا تو ہمیں عسکریت پسند گروہوں کو نہیں رہنے دینا چاہئے تھا۔انہوں نے کہا آج ہمیں عسکریت پسند گروہوں کیخلاف کارروائی میں فوج اور انٹیلی جنس کی مکمل حمایت حاصل ہے ، یہ گروپ افغان جہاد کیلئے بنائے گئے تھے ، اب آئی ایس آئی نے ان کا کیا کرنا ہے ؟انہوں نے کہا مسعود اظہر کیخلاف قانونی کیس بنانے کی ضرورت ہے جو عدالت میں ثابت کیا جاسکے ، مسعود اظہر انڈرگراونڈ جاچکا، وہ غیرموثر اور بیمار ہے ۔انہوں نے کہا ہم بلیک لسٹ ہونے کے متحمل نہیں ہوسکتے کیونکہ اس کا مطلب پابندیاں ہوگا۔انہوں نے کہا میری ترجیح 10 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالنا ہے اور یہ صرف اس وقت ہوسکتا ہے جب ملک میں استحکام ہو۔