لاہور(گوہر علی) مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی نے اپنے قائدین کے پارلیمانی آل پارٹیز کانفرنس بائیکاٹ کے فیصلہ کی توثیق کردی ۔ چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا سیاسی جماعتوں کو کرونا وائرس کے حوالے سے اقدامات پر پارلیمانی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا متفقہ فارمولا موثر ثابت نہ ہوسکا۔ آل پارٹیز کانفرنس میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے معاشی صورت حال اور عوام کے مالی نقصات کے ازالہ کا پلان پیش کرنا تھا جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے اس اے پی سی میں وفاقی حکومت کو کرونا وائرس کے لئے سندھ حکومت کی خدمات حاصل کرنے کی پیش کش کرنا تھی مگر وزیر اعظم عمران خان اظہار خیال کرنے کے بعد کانفرنس سے چلے گئے جس پر شہبازشریف اور بلاول بھٹو زرداری نے بائیکاٹ کردیا۔ ذرائع کے مطابق اسی دوران مسلم لیگ(ن) کا ویڈیو لنک پر سینیٹرز، ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اور دیگر رہنماؤں کا اجلاس جاری تھا۔شہبازشریف پارٹی کا یہ اجلاس چھوڑ کر ویڈیولنک کے ذریعہ پارلیمانی اے پی سی میں شریک ہوئے اور پھر بائیکاٹ کے بعددوبارہ پارٹی کے اجلاس کی صدارت سنبھال لی۔پارٹی اجلاس میں شہبازشریف نے پارلیمانی اے پی سی کی صورت حال کا ذکر کیا اور وزیر اعظم عمران خان کے رویے کو افسوس ناک قرار دیا تو مسلم لیگ(ن) نے شہبازشریف کے بائیکاٹ کے فیصلے کی توثیق کردی ۔ذائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے اجلاس میں شہباشریف کے موقف کی پرزور حمایت کی گئی۔ دوسری طرف پیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی قائدین کو اپنے فیصلہ سے آگاہ کیا تو انہوں نے اس فیصلہ کی بھر پور حمایت کی۔