وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں اپنے خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان پرامن‘مستحکم اور خوشحال افغانستان کے قیام کے لئے اپنی مدد جاری رکھے گا۔پاکستان کا روز اول سے یہ اصولی موقف رہا ہے کہ افغان تنازعے کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں۔ پائیدار امن کے لئے تمام افغان سٹیک ہولڈرز کو مذاکرات کے ذریعے متفقہ حل پر آمادہ کرنا ہو گا۔پاکستان کی کاوشوں سے ہی افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان دوحا معاہدہ ممکن ہوا ۔حال ہی میں روس میں ہونے والی کانفرنس میں پاکستان کا اہم کردار رہا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان کی طرح عالمی برادری بھی افغانستان میں امن کے لئے فریقین کو مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے پر آمادہ کرے تو یہ دیرینہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔دوحا معاہدے کے بعد افغانستان سے مقررہ تاریخ تک فوجی انخلا بارے امریکی صدر کے بیان کے بعد امن عمل بے یقینی کا شکار ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر خارجہ نے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں افغانستان میں پائیدار امن کے لئے سات تجاویز پیش کی ہیں جن میں افغانستان کی تعمیر و ترقی کے لئے طویل المدتی منصوبہ بندی کے ساتھ افغان قیادت کو قابل قبول عمل کو پائیدار سیاسی عمل تک پہنچانے پر زور دیا گیا ہے۔ بہتر ہو گا عالمی برادری امریکی فوج کے انخلاء کے لئے قابل قبول لائحہ عمل مرتب کرنے کے ساتھ فریقین کو جنگ بندی پر بھی آمادہ کرے تاکہ فریقین پر اعتماد اور بہتر انداز میں سیاسی حل تلاش کر سکیں اور افغانستان کو امن اور ترقی نصیب ہو سکے۔