سیاست اور صحافت ایسے موضوعات ہیں جن پر کوئی بھی لمبی بحثیں کر سکتا ہے۔ اس کے لئے ان موضوعات پر مہارت حاصل کرنے کے لئے کسی ڈگری کی ضرورت نہیں ہے۔ ہماری زندگیاں ویسے بھی سیاست کرتے ہی گزرتی ہیں ۔کون سا ایسا ادارہ ہے ‘ دفتر‘ سکول‘ مدرسہ‘ یونیورسٹی‘ مارکیٹ یا فیکٹری جہاں چوبیس سات(24/7) سیاست نہ ہوتی ہو۔ جتنا وقت سیاست کرنے میں گزارتے ہیں اپنے کام اور اصل موضوع پر دیں تو پاکستان کی تعلیم‘ صحت ‘ معیشت ‘ صنعت اور گورننس کے ناصرف سارے مسئلے حل ہو جائیں بلکہ وہ تخلیقی توانائی سے بھر پور معاشرہ بن جائے جس کی نظیر نہ ملے۔ لیکن سرتاپا سیاست میں لتھڑے ہونے کے باوجود ہمیں سب سے زیادہ نفرت بھی سیاست سے ہے اور خاص طور پر سیاستدانوں سے۔ دنیا بھر میں سیاست اور سیاستدان کو گالی پڑتی ہے۔ اس کی وجہ بھی ظاہر ہے کہ نظام کو چلانے کی طاقت سیاستدان کے پاس ہوتی ہے۔ وہ غلطی بھی کرتا ہے اسے سدھارتا بھی ہے۔ بہت سے اچھے کام بھی کرتا ہے جس کی تعریف بھی ہو جاتی ہے لیکن سیاستدان پر تنقید کی وجہ اس کے پاس اختیار اور طاقت کا ارتکاز ہوتا ہے جو عام آدمی کے پاس نہیں ہوتا اور جب عام آدمی کی توقعات پوری نہ ہو رہی ہوں تو ظاہر ہے وہ بااختیار اور طاقتور کی گرفت کرے گا۔لیکن پاکستان میں سیاست ایک گناہ اور تقریباً جرم کے زمرے میں آتا ہے اور سیاستدان کے بارے میں رائے مسلم ہے کہ وہ طاقت واختیار کا غلط استعمال تو ضرور کرے گا۔اب یہ بات الگ ہے کہ پاکستان میں جب سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو طاقت ملتی ہے تو وہ کتنے با اختیار ہوتے ہیں۔ایک تو مختلف اداروں میں بٹی ہوئی طاقت اور اختیار میں سے اسے حصہ ہی کتنا ملتا ہے کہ عوامی توقعات کا پہاڑ وہ سر کر سکے۔ بات کہیں سے کہیں نکل گئی۔ ارادہ تھا کہ چند سطریں کورونا وائرس کے پھیلائو سے پہلے کی ایک تقریب اور اس کے بعد اندرون سندھ کے ہنگامی دورے کے بارے میں لکھا جائے۔تقریب تو میرے آبائی شہر سرگودھا میں تھی اور اس کا اہتمام سرگودھا یونیورسٹی نے کیا تھا جہاں سے میں نے گریجوایشن کی تھی اور اوپر سے اس کا انتظام ہمارے دوست وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق احمد نے کیا تھا۔ جن کے حکم کو ٹالا ہی نہیں جا سکتا۔ خاص طور پر اس لئے بھی کہ ڈاکٹر اشتیاق احمد نے سرگودھا یونیورسٹی کی جون ہی بدل دی ہے۔ اس کے علمی وقار میں اضافہ کیا ہے۔ پیچیدہ انتظامی معاملات کو ہموار کیا ہے۔اور سب سے بڑھ کر وہ علمی تحقیقی ماحول پیدا کیا ہے جو ایک یونیورسٹی کا خاصہ ہونا چاہیے۔ طلباء کی فکری نشوو نما کے لئے مباحث‘ سیمینارز اور علمی میلوں کا انعقاد یقینا سرگودھا کے مجموعی علمی وقار میں اضافے کا سبب ہے۔ یہ سرگودھا لٹریری فیسٹول کا تیسرا ایڈیشن تھا اور جس سیشن میں مجھے بلایا گیا تھا اس میں یاسر پیرزادہ اور گل نوخیز اختر کی جوڑی کے علاوہ وائس چانسلر بذات خود اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پارلیمنٹری سروسز کے سابق ڈائریکٹر ماہر آئین اور ہمارے ہر دلعزیز دوست ظفر اللہ خان نے شریک ہونا تھا۔ موضوع تھا سیاست اور صحافت ۔اس میں جو گفتگو ہوئی اس کا خلاصہ چند سطروں میں پہلے ہی بیان کر دیا ہے۔ لیکن سرگودھا کے طلبہ و طالبات اور اساتذہ کے سیاسی اور علمی شعور سے ہم سب ہی متاثر ہوئے۔ ظفر اللہ خان نے پارلیمنٹ ‘ آئین اور قانون سازی پر پرمغز گفتگو کی ‘ یاسر پیرزادہ نے پاکستان کے سیاسی کلچر پر اظہار خیال کیا۔ سامعین نے گل نوخیز اختر کی صحافت اور سیاست پر سنجیدہ گفتگو کو سنجیدگی سے لیا اور خیر سے دو گھنٹے کا سیشن تین گھنٹے میں اختتام کو پہنچا۔ یہ بارہ مارچ کا دن تھا۔ کورونا کی وبا پاکستان میں کئی رستوں سے داخل ہو چکی تھی اور ابھی صرف اندازے لگائے جا رہے تھے کہ پاکستان میں اس کی شدت کتنی ہو گی۔ دنیا وبا کے خوف کی گرفت میں آ چکی تھی اور باہر کی کانفرنسیں اور لیکچرز یکے بعد دیگرے کینسل یا ملتوی ہو رہے تھے۔ ایسے میں ارادہ کیا کہ اندرون سندھ کا سالانہ دورہ ہی کر لیا جائے۔ عموماً اندرون سندھ اور بلوچستان کے دورے کا وقت فروری یا مارچ کے آغاز میں ہوتا ہے لیکن اس برس کے ابتدائی مہینے کٹھے میٹھے‘ مختصر طویل دورانیے کے دیرینہ ہم سفر سبوخ سید امریکہ میں تھے۔ اس لئے یہ دورہ ملتوی ہوتا رہا جب بات سیہون شریف کی زیارت کی ہوئی تو عون ساہی اور ہمایوں خان فوراً تیار ہو گئے۔اسلام آباد کے اہم حلقوں میں معروف صحافی عون ساہی اور سردار ہمایوں خان کی جوڑی مشہور ہے جن کے پاس چین سے لے کر چین تک کی ساری خبریں ہوتی ہیں۔ ویسے ایک پروگرام تو یاسر پیرزادہ اور گل نوخیز کے ساتھ دریائے چناب کے کنارے ریسٹ ہائوس میں قیام کا بھی تھا لیکن پتہ نہیں کہ یہ کورونا کا خوف تھا یا واقعی ذاتی گھر سے بلاوہ کہ دونوں دوپہر کے کھانے کے بعد ہی کھسک لئے۔ اگلی صبح سندھ روانگی کا وقت تھا لیکن دوپہر سے کورونا کی خوف ناک خبروں میں اچانک تیزی پیدا ہو گئی۔ رات کو قیام سرگودھا یونیورسٹی میں ہی تھا۔ ڈاکٹر اشتیاق احمد اور ہمدم ڈاکٹر فضل الرحمان نے بہت کوششیں کی کہ ہم کورونا سے ڈر جائیں اور سرگودھا میں ہی کچھ دن قیام کر لیں لیکن ہمارے پائوں میں چکر ہے۔ ابھی لاک ڈائون کا فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ اگلی صبح ہم نکل پڑے ارادہ تھا کہ ایک رات سکھر میں قیام کریں گے‘ پھر سیہون شریف حاضری اور جامشورو میں ڈپٹی کمشنر کیپٹن فرید کے ہاں قیام وہاں سے بھنبھور سے کراچی اور اگر وقت ہوا تو وہاں سے چھ سات گھنٹے کی مسافت پر گوادر چکر لگا آئیں گے۔ ادھر بھی ایک جگری دوست ہیں جو سرمئی مچھلی کی لاجواب بریانی بناتے ہیں۔ ساجد بن رحیم کی اپنی فشری ہے۔ پلاٹ بھی بیچتا ہے۔ صحافت بھی کرتا ہے لیکن دل بلوچ کے دل کی طرح کشادہ ہے۔ لیکن اس برس ساجد کی بریانی قسمت میں نہیں تھی۔ حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے ہاں حاضری ہوئی اور کیا لاجواب ہوئی۔ اس کے لئے چند کاغذ الگ سے درکار ہیں۔ کورونا کا عفریت اتنی جلدی اپنے پر نکال لے گا‘ ہمیں اندازہ نہیں تھا۔ جامشورو میں ایک رات قیام کے بعد ہی واپس آنا پڑا۔ رانی کوٹ کا قلعہ ایک دفعہ پھر رہ گیا۔ خیر ہے کورونا سے نمٹ لیا تو اسے بھی دیکھ لیں گے۔ لیکن واپسی کا سفر جامشورو سے اسلام آباد تک سولہ گھنٹے کے ریکارڈ وقت میں طے کیا۔ اس میں چند گھنٹے ملتان میں قیام کے بھی تھے۔ اس کا سہرہ عون ساہی اور ہمایوں خان کی ڈرائیونگ کے سر ہے یا پھر سکھر تک مکمل ہو جانے والی موٹر وے کو‘ جو پاکستان‘ چین تعاون کی ایک اور عمدہ مثال ہے۔ کاش پاکستان کی شاہراہ سیاست بھی اتنی ہموار ہوتی۔